کوئٹہ( جہان امروز نیوز )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، جہاں ایک بار پھر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد شہریوں کے لیے روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کی خریداری مزید مشکل ہو گئی ہے، جبکہ گھریلو بجٹ شدید متاثر ہونے لگا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق درجہ اول گھی اور آئل کی قیمت میں 30 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اعلی معیار کے برانڈز کی قیمتیں نئی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
اسی طرح درجہ دوئم کوکنگ آئل کی قیمت میں 35 روپے فی لیٹر جبکہ درجہ دوئم گھی کی قیمت میں 25 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد دکانداروں نے نئی قیمتوں کے مطابق فروخت شروع کر دی ہے کوئٹہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی آٹا، چینی، سبزیاں اور دیگر اشیائے خوردونوش مہنگی ہو چکی ہیں، اور اب گھی و آئل کی قیمتوں میں اضافہ ان کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
گھریلو خواتین نے شکایت کی ہے کہ کھانے پکانے کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں اور محدود آمدنی میں گزارا کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے دوسری جانب دکانداروں کا مقف ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ہول سیل مارکیٹ سے ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ بھی مجبورا نئی قیمتوں پر اشیا فروخت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ درآمدی لاگت، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے کے باعث گھی اور آئل کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں گھی اور آئل جیسی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں بار بار اضافہ مہنگائی کے مجموعی رجحان کو مزید تیز کر دیتا ہے، جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے زندگی مزید دشوار ہو جائے گی کوئٹہ کے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مثر اقدامات کرے، تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں کیوں ناکام نظر آ رہی ہیں حالیہ مہنگائی کی لہر نے نہ صرف خوراک بلکہ دیگر ضروری اشیا کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے لیے بروقت حکومتی مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے
