بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر کا الرٹ، کئی اضلاع میں درجہ حرارت معمول سے 7 ڈگری تک بڑھنے کا امکان
کوئٹہ(موسمیاتی خبر)محکمہ موسمیات بلوچستان نے صوبے بھر میں شدید گرمی کی لہر کے حوالے سے ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جزیرہ نما عرب سے بالائی فضائی گردش کے پھیلا کے باعث ہفتے کے آخر سے صوبے کے بیشتر علاقوں میں شدید گرم موسم کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے، جبکہ یہ غیر معمولی موسمی کیفیت آئندہ ہفتے کے دوران بھی برقرار رہ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے 6 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ صوبے کے مغربی اور جنوب مغربی اضلاع میں درجہ حرارت اپنی سابقہ ریکارڈ سطحوں کو بھی عبور کر سکتا ہے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ صورتحال انسانی صحت، زراعت، مویشیوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔اعلامیے کے مطابق شدید گرمی کی لہر سے نوکنڈی، دالبندین، چاغی، واشک، پنجگور، خاران، نوشکی، مستونگ، کوئٹہ، جیوانی، سبی، نصیرآباد، ڈیرہ بگٹی، کچھی، صحبت پور، اوستہ محمد، جھل مگسی، کوہلو، ہرنائی اور جعفرآباد سمیت متعدد اضلاع شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ گوادر، پسنی، اورماڑہ، لسبیلہ، آواران، حب، پشین، قلعہ عبداللہ اور کیچ میں بھی شدید گرمی برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے باعث نوکنڈی، دالبندین، واشک، خاران، نوشکی، تربت، مستونگ اور کوئٹہ میں دوپہر اور شام کے اوقات میں گرد آلود ہوائیں اور تیز جھکڑ چلنے کا بھی امکان ہے، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے عوام، بالخصوص بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔ مویشی پالنے والوں کو جانوروں کو سائے میں رکھنے اور کسانوں کو زرعی سرگرمیوں کو موسمی حالات کے مطابق ترتیب دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو گاڑیوں کی دیکھ بھال اور رات کے وقت سفر کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ سرکاری اداروں، ضلعی انتظامیہ اور فلاحی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہریوں اور مویشیوں کو شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پینے کے ٹھنڈے پانی اور سایہ دار مقامات کی فراہمی سمیت دیگر بروقت اور مثر اقدامات یقینی بنائیں۔
