اس سال حج کے حوالے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ سعودی حکومت نے ایک نئی پالیسی جاری کی ہے، جس کے مطابق کسی بھی پرائیویٹ گروپ یا فرد کو حج کی قربانی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام قربانیاں سعودی حکومت کی طرف سے کی جائیں گی، جس کے لیے حاجی صاحبان پیشگی رقم ادا کریں گے۔
اب یہاں یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک حج کے اندر تین افعال میں ترتیب واجب ہے، “رمی، قربانی اور حلق”، لہذا حلق (سر منڈوانے) سے پہلے قربانی کرنا واجب ہے، اور اس ترتیب کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں دم واجب ہوتا ہے۔
پہلے حجاج کے لیے آسانی تھی کہ وہ اپنی قربانی کا انتظام خود یا کسی پرائیویٹ ذریعے سے کرواتے تھے، اور جب قربانی ہو جاتی تو انہیں اطلاع مل جاتی، جس کے بعد وہ حلق کروا لیتے تھے۔ لیکن اب اس نئی پالیسی کی وجہ سے حاجی اس ترتیب پر عمل نہیں کر سکتا، کیونکہ اسے یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اس کی قربانی حلق سے پہلے ہوئی ہے یا بعد میں۔ مزید یہ کہ حکومت کے لیے بھی ممکن نہیں کہ وہ لاکھوں حجاج کی قربانی ایک ہی وقت میں کر کے اس کے بعد انہیں حلق کروانے کا موقع دے۔
اس صورتِ حال پر مفتی تقی عثمانی صاحب نے چند روز قبل فتویٰ جاری فرمایا ہے کہ ضرورتِ شدیدہ اور مجبوری کے پیشِ نظر صاحبین اور ائمہ ثلاثہ کے قول پر عمل کرنا جائز ہے۔ لہٰذا قربانی اور حلق میں ترتیب برقرار نہ رہنے کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ مفتی تقی عثمانی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے، جنہوں نے بروقت حجاجِ کرام کی اس مشکل کو حل فرمایا۔
دوستوں کے ساتھ شئیر کیجیے
#haj #Qurbani #fatwa @top fans
