تہران/اسلام آباد /واشنگٹن/دو حہ/ماسکو(ویب ڈیسک)ایران نے جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھیج دیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کو بھجوا دیا ہے، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے،مجوزہ منصوبے کے مطابق اس مرحلے پر مذاکرات جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہوں گے۔

رپورٹس کے مطابق ایران اس سے قبل بھی جنگ کے مستقل خاتمے، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق نکات پر مشتمل تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھجوا چکا ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا کہ وہ ایران کے باضابطہ جواب کے منتظر ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔

دریں اثناء قطری وزیرخارجہ کا ایرانی وزیرخارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے جاری ثالثی کوششوں پر فریقین کومثبت ردِعمل دینا چاہیے۔قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ سمندری جہازرانی کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، آبنائے ہرمزکودبا ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے بحران شدت اختیار کرے گا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خاص ایلچی وٹکوف کی میامی میں قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات ہوئی۔امریکی میڈیا کے مطابق ملاقات ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ڈیل تک پہنچنے کی کوششوں کیلئے کی گئی۔

قبل ازیں قطر کے وزیراعظم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کرکے مشرق وسطی کی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر گفتگو کی۔اس موقع پر شیخ محمد بن عبدالرحمن نے تمام فریقین سے مذاکراتی عمل میں شامل ہونے پر زور دیا۔

قبل ازیں ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی متحدہ کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ملاقات میں سپریم لیڈر نے فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے اور دشمنوں کے خلاف سخت مقف اپنانے کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے ملاقات کے دوران سپریم لیڈر کو ملک کی مسلح افواج کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ملاقات کب ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق علی عبداللہی نے کہا کہ مسلح افواج امریکی اور صہیونی دشمنوں کی کسی بھی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر دشمن کی جانب سے کوئی غلطی کی گئی تو ایران کا جواب فوری، سخت اور فیصلہ کن ہوگا ادھر ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے خبردار کیا کہ جو بھی ممالک امریکا کی ایران پر عائد پابندیوں کو نافذ کریں گے، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا کہ جنگ میں دشمن اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوا اور ایرانی نظام کے سیاسی توازن کو بھی نقصان نہیں پہنچا بلکہ ملک کے اندر اتحاد اور یکجہتی میں اضافہ ہوا ہے، جس کا مظاہرہ آج بھی عوام کی سڑکوں پر موجودگی سے دیکھا جا سکتا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہاکہ دشمن نے دیکھ لیا کہ وہ اس مزاحمت کو توڑنے میں ناکام رہا، اور آخرکار اسے جنگ بندی قبول کرنا پڑی۔ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ امریکا سے جاری جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی فوجی قوت اور صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا، ممکنہ اہداف کی فہرست کو اپ ڈیٹ کیا اور اپنی دفاعی و جارحانہ پوزیشنوں کو مزید بہتر بنایا۔

علاوہ ازیں ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر نے بتایاکہ پاسدارانِ انقلاب کے میزائل اور ڈرون خطے میں امریکی اہداف اور جارح دشمن کے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں ادھر ایک میڈیا ہائوس نے دعویٰ کیا کہ امریکا پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران کو جنگ بندی میں توسیع پر تجاویز بھجوا چکا ہے۔

دریں اثناء روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو منتقل کرکے محفوظ رکھنے کیلئے تیار ہے۔میڈیا سے گفتگو میں پیوٹن نے کہا کہ روس نے 2015 میں بھی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کیا تھا اور وہ اس تجربے کو دوبارہ دہرانے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ تنازع کے تمام فریق ایران سے یورینیم منتقل کرنے پر متفق تھے تاہم بعد میں امریکا نے موقف سخت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یورینیم صرف امریکا منتقل کیا جائے۔

روسی صدر نے کہا کہ ماسکو امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور امید ہے کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔ دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز، ایران کے میزائل پروگرام یا تہران کی پالیسیوں پر بیان بازی آئی اے ای اے کا کام نہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی)کا مینڈیٹ صرف نگرانی اور تصدیق ہے، آبنائے ہرمز، ایران کے میزائل پروگرام یا تہران کی پالیسیوں سے متعلق سیاسی بیانات آئی اے ای کا کام نہیں، ادارے پیشہ ورانہ جانب داری، سیاست یا ذاتی مفادات کی نذر ہو جائیں تو اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسے اداروں کی وقت کے ساتھ ساتھ اہمیت کم ہوتی جاتی ہے، آئی اے ای کے سیاسی منشور کے مطابق ادارے کی بنیادی ذمہ داری ایٹمی پروگراموں کی نگرانی اور تصدیق کرنا ہے تاکہ جوہری مواد صرف پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہو۔ ا

س سے پہلے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)نے کہا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری ہے جس کے تحت 58 تجارتی جہازوں کو واپس بھیجا جاچکا ہے جبکہ 4 بحری جہازوں کو غیر فعال کردیا گیا، سینٹکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی بندرگاہوں سے آنے جانے والے بحری جہازوں کو روکنا ہے تاکہ تہران پر دبا بڑھایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *