کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)محکمہ تعلیم بلوچستان میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں سے متعلق تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے تین اہم افراد کو طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طلب کیے جانے والوں میں جان محمد، قاضی منظور اور یاسین جعفر شامل ہیں، جنہیں متعلقہ ریکارڈ اور وضاحت کے لیے اینٹی کرپشن حکام کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت جاری کی گئی ہے

محکمہ تعلیم میں مختلف آسامیوں پر ہونے والی بھرتیوں کے دوران میرٹ کی مبینہ خلاف ورزی، غیر قانونی سفارشات، جعلی دستاویزات اور قواعد سے ہٹ کر تقرریوں کی شکایات موصول ہونے کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

ابتدائی انکوائری میں متعدد بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آنے کے بعد تحقیقات کو مزید تیز کر دیا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران بھرتیوں سے متعلق ریکارڈ، تقرری آرڈرز، امیدواروں کی فائلیں، انٹرویو اور ٹیسٹ کے نتائج سمیت دیگر اہم دستاویزات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اینٹی کرپشن حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا بھرتیوں میں سیاسی اثر و رسوخ یا اختیارات کا ناجائز استعمال تو نہیں کیا گیا تحقیقاتی ذرائع کے مطابق طلب کیے گئے تینوں افراد سے بھرتیوں کے مختلف مراحل، تقرریوں کی منظوری، امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار اور متعلقہ کمیٹیوں کے کردار سے متعلق سوالات کیے جائیں گے۔

ان افراد کے بیانات کی روشنی میں مزید شخصیات کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہیمحکمہ تعلیم بلوچستان میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے زیر بحث رہا ہے، جہاں مختلف حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر میرٹ کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اس سے نہ صرف محکمہ تعلیم کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ اہل امیدواروں کے حقوق بھی متاثر ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *