اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان اور بشری بی بی کے وکالت نامہ دستخط کرا کے دینے کا حکم دے دیا

‏190 ملین پاؤنڈ کیس میں اسلام آباد کا بڑا غیر معمولی حکم جاری!! “اگر سلمان صفدر دستیاب نہیں تو عمران خان اور بشری بی بی آئندہ سماعت سے پہلے اپنا نیا وکیل مقرر کریں اور اگر آئندہ سماعت پر بھی اپیلوں پر دلائل نہیں دے جاتے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا” چیف جسٹس سرفراز ڈوگر

‏بریکنگ بریکنگ بریکنگ !!!

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے عمران خان کے وکلاء کو وفاقی آئینی عدالت کی راہ دکھا دی

سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو بتایا کہ آپ کی سربراہی میں بنچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستیں نمٹا کر اپیلیں سننے کا فیصلہ کیا ہم اُس فیصلے کے متاثرہ ہیں اور اپیل دائر کرنا چاہتے ہیں لیکن سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل وکالت نامہ دستخط کروا کر نہیں دے رہا

آپ وفاقی آئینی میں اپیل دائر کر دیتے اور اُنہیں بتاتے کہ جیل حکام ہمیں وکالت نامہ دستخط کروا کر نہیں دے رہے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر

ہم وفاقی آئینی عدالت میں ایسے ہی کیسے چلے جاتے کہ ہمیں وکالت نامے دستخط کروا کر نہیں دے رہے، سلمان اکرم راجہ

آپ یہاں بھی تو ایسے ہی کر رہے ہیں، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر

ہمارے پاس یہاں کا وکالت نامہ ہے یہاں ایسے نہیں آئے، سلمان اکرم راجہ

آپ اپیل دائر کریں وہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ہمارے سامنے جو کیس ہے آپ نے آج اُس پر دلائل کا آغاز کرنا چاہیے تھا، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر

‏”عمران خان کے دستخط شدہ وکالت نامے نہیں ہیں تو یہ عدالت کا مسئلہ نہیں ہے، جا کر عدالت سے اجازت لیں اور دستخط کرائیں”

یہ فرمایا جسٹس ڈوگر نے عمران خان کے 190 ملین پاونڈ کیس کی سماعت میں، پہلے عدالت نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے ضمانت کا حق ختم کیا، اور براہراست اپیلوں کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا، اب وکیل دستیاب نہیں اور کسی اور وکیل کو موکل کے دستخط شدہ وکالت ناموں کے بغیر دلائل دینے کی اجازت نہیں، جب یہ مدعا پیش کیا گیا تو جسٹس ڈوگر عدالت ہوتے ہوئے خود کہتی ہے وکالت نامے دستخط کرانے کے لیے “عدالت” سے جا کر رجوع کریں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *