واشنگٹن / تہران (جہان امروز نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی تہذیب کو ختم کر دینے کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر جوہری تصادم کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
متعدد عالمی رپورٹس کے مطابق کئی ممالک نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید بڑھا تو خطے میں جوہری تصادم کا خطرہ حقیقت بن سکتا ہے۔
دوسری جانب تہران نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کے لیے نئے مطالبات واشنگٹن کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ان مطالبات کو سفارتی حل کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے اہم پالیسی بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک کا افزودہ یورینیم کسی دوسرے ملک کو منتقل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان امریکہ کے لیے ایک نئی پریشانی بن گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس معاملے پر چینی صدر کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی — یہ بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیوں کے تناظر میں دیا گیا۔
پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے
امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ثالثی کردار کو قابل تعریف قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام آج تہران روانہ ہو رہے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھایا جا سکے۔
اس صورتحال میں چین کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ٹرمپ نے چین سے واپسی پر تائیوانی صدر سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے جس سے ایک نئے تنازع کا دروازہ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن انتہائی نازک ہیں اور سفارتی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی پر بہت کچھ منحصر ہے۔
