مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے بعد پاکستان نے توانائی تحفظ کے لیے بڑا قدم اٹھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حکومت اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز اور bonded commercial storage کا فریم ورک تیار کر رہی ہے، کیونکہ پاکستان کے تقریباً 90 فیصد تیل اور LNG درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔ منصوبے کے تحت غیر ملکی سپلائرز پاکستان میں کمرشل فیول اسٹاک رکھ سکیں گے، جبکہ حکومت جون 2026 تک bonded storage framework فائنل کرنا چاہتی ہے۔

اس منصوبے کی فنڈنگ کے لیے 10 روپے فی لیٹر fuel levy سے آمدن استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے سالانہ تقریباً 700 ملین ڈالر حاصل ہونے کا اندازہ ہے۔ حکومت refineries اور oil marketing companies کے لیے minimum crude اور fuel inventories لازمی بنانے پر بھی غور کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *