پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے چمن میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ماضی میں ‘ون یونٹ’ کا خاتمہ ہوا تو بلوچ حیران تھے کہ اب کیا کریں۔ اس صورتحال میں انہیں آسمان سے ایک تحفے کے طور پر الگ صوبہ مل گیا۔ انہوں نے تاجر برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاجر اپنا سامان بلوچوں کے راستے سے لانے لے جانے اور انہیں کرایہ یا ٹیکس دینے سے مکمل گریز کریں۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ ملک کے تمام بارڈرز (سرحدیں) کھلے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ایک طرف بلوچ آزادی کی جنگ لڑ رہا ہو اور پھر بھی تفتان بارڈر کھلا ہے جہاں کاروبار بلا رکاوٹ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب چمن کے مقامی لوگوں پر رزق اور روزگار کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چمن بارڈر کی بندش اور وہاں کے عوام کا معاشی استحصال کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *