تجزیہ بی این پی
امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کا سب سے اہم موضوع بن چکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جنہوں نے امریکی داخلی سیاست، ایران کے ساتھ تعلقات اور اسرائیل کے کردار کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان بیانات کے مطابق اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کو ناکام بنانے کے لیے امریکی سیاسی ماحول پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی، جبکہ جے ڈی وینس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ دیرپا تنازعے کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔
اگر ان بیانات کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ امریکہ گزشتہ چار دہائیوں سے ایران کے خلاف مختلف نوعیت کی پالیسیاں اختیار کرتا رہا ہے۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ، خفیہ کارروائیاں اور عسکری موجودگی جیسے اقدامات کے باوجود واشنگٹن اپنے بنیادی مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکا، جبکہ ایران بھی شدید اقتصادی مشکلات کے باوجود اپنے علاقائی اثرورسوخ اور دفاعی پالیسیوں پر قائم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی طرف آنے پر مجبور ہوئے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام متعلقہ فریق جذباتی بیانات اور طاقت کے اظہار کے بجائے حقیقت پسندانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کریں، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کا نقصان صرف امریکہ یا ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا کہ اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے اور بعض حلقوں نے ایران کے ساتھ مفاہمت کو ناکام بنانے کے لیے سیاسی اثرورسوخ استعمال کیا، ایک غیرمعمولی بیان تصور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ضروری ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر مختلف داخلی اور خارجی عوامل ہمیشہ سے اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق ہر فیصلہ صرف علاقائی حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاست، کانگریس، اتحادی ممالک اور عالمی مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔
جے ڈی وینس نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ ایران میں زمینی فوج نہیں بھیجے گا اور جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے۔ یہ مؤقف اس لیے بھی اہم ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک طویل فوجی مہمات کی مخالفت کرتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے تجربات نے ثابت کیا کہ عسکری کامیابی ہمیشہ سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں بنتی بلکہ بعض اوقات جنگیں مزید پیچیدہ مسائل کو جنم دیتی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت بیانات کے ذریعے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے بنیادی مفادات یا انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھرپور جواب دے گا۔ ایرانی فوجی قیادت اور اعلیٰ حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سرخ لکیر قرار دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اس معاملے پر کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے اور دنیا کی قابلِ ذکر مقدار میں خام تیل اسی سمندری گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اگر یہاں کسی قسم کی فوجی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادھر امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان رپورٹس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، تاہم اگر کسی بھی سطح پر فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کے نتائج صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ چالیس برس کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں شدید اتار چڑھاؤ آیا، لیکن مکمل جنگ سے دونوں ممالک نے گریز کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک جانتے ہیں کہ براہِ راست جنگ کے نتائج انتہائی مہنگے اور غیر متوقع ہوں گے۔ اقتصادی پابندیوں نے ایران کو ضرور متاثر کیا، مگر وہ اپنی ریاستی ساخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، جبکہ امریکہ نے بھی بھاری مالی اور سیاسی قیمت ادا کی۔
بی این پی کے مطابق اس وقت دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو جنگی بیانات کے بجائے سفارتی پل تعمیر کرے۔ امریکہ، ایران، یورپی ممالک، خلیجی ریاستیں اور دیگر عالمی طاقتیں اگر مذاکرات کے ایک نئے مرحلے پر متفق ہو جائیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک بڑے بحران سے بچایا جا سکتا ہے۔
پاکستان اس پورے معاملے میں ایک اہم اور متوازن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات موجود ہیں اور ماضی میں بھی پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ اگر دونوں ممالک کسی ایسے سفارتی فریم ورک پر پہلے اصولی اتفاق کر چکے تھے جسے دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہو، تو اس امکان پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ تاہم کسی بھی ایسے فریم ورک کی کامیابی کا انحصار متعلقہ ممالک کی سیاسی آمادگی اور باہمی اعتماد پر ہوگا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ خطے میں امن، عدم مداخلت اور مذاکرات کی حمایت کرتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ عالمی برادری میں بھی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر اسلام آباد اعتماد سازی کے اقدامات میں سہولت کار کا کردار ادا کرے تو یہ پورے خطے کے مفاد میں ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کریں۔ صرف بیانات جاری کرنا کافی نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو مذاکرات کی راہ ہموار کریں، غلط فہمیوں کو کم کریں اور تصادم کے امکانات کو محدود بنائیں۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اسرائیل، ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کا اثر لبنان، شام، عراق، یمن اور خلیجی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔ اگر علاقائی سطح پر کسی بھی قسم کی بڑی فوجی کارروائی شروع ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں، انسانی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے اور عالمی امدادی اداروں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ مہنگائی، توانائی کے بحران، سپلائی چین کے مسائل اور مالیاتی غیر یقینی صورتحال کے دوران اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑ جاتی ہے تو اس کے اثرات ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ سمیت پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، بحری تجارت میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے عوامل عالمی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات سائبر حملوں، اطلاعاتی جنگ، معاشی پابندیوں اور سفارتی محاذوں تک پھیل جاتے ہیں۔ اسی لیے عالمی طاقتوں کو ایسی حکمت عملی اپنانا ہوگی جس میں طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، اعتماد سازی اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔
جے ڈی وینس کے بیانات نے ایک اہم سوال ضرور اٹھایا ہے کہ آیا امریکہ مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنی پالیسی میں کسی حد تک تبدیلی لائے گا یا نہیں۔ اس کا جواب آنے والے مہینوں میں امریکی فیصلوں سے واضح ہوگا، لیکن اس وقت سب سے اہم ضرورت یہی ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے مسائل کا کوئی فوری یا آسان حل موجود نہیں، لیکن تاریخ یہ ضرور ثابت کرتی ہے کہ دیرپا امن صرف مذاکرات، باہمی احترام اور سفارتی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ جنگ وقتی کامیابیاں تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام نہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ عالمی حالات میں امریکہ، ایران اور اسرائیل سمیت تمام متعلقہ قوتوں کو اپنے فیصلوں کے ممکنہ نتائج کا ادراک کرنا چاہیے۔ اگر طاقت کے استعمال کی بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی گئی تو نہ صرف ایک بڑے تصادم سے بچا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں اعتماد اور استحکام کی نئی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان سمیت عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ ہر ایسے سفارتی اقدام کی حمایت کرے جو مذاکرات، امن اور تعاون کو فروغ دے۔ یہی راستہ عالمی امن، علاقائی استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ جنگ سے بچنے کا واحد مؤثر ذریعہ بھی یہی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *