کوئٹہ بلوچستان کی تین بڑی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کے پابندِ سلاسل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ جیل خانہ جات کے حکام کے مطابق صوبے کی 12 جیلوں میں مجموعی طور پر تقریباً 3 ہزار قیدی موجود ہیں، تاہم بعض جیلوں میں قیدیوں کی تعداد مقررہ گنجائش سے دوگنا تک پہنچ چکی ہے۔

حکام کے مطابق 1939 میں قائم ہونے والی ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں 472 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، لیکن اس وقت وہاں تقریباً 1100 قیدی موجود ہیں۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ جیل ڈیرہ مراد جمالی میں 120 قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 250 سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔

مزید برآں، 2002 میں قائم ہونے والی سنٹرل جیل گڈانی میں 223 قیدیوں کی گنجائش ہے، مگر وہاں بھی تقریباً 400 قیدی بند ہیں، جس کے باعث جیل انتظامیہ کو مختلف انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان حکومت نے گوادر، قلات اور پشین میں نئی سنٹرل جیلوں کے قیام کا منصوبہ تیار کیا تھا، تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ان منصوبوں پر تاحال عملی کام شروع نہیں کیا جا سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیلوں میں بڑھتی ہوئی گنجائش سے زائد آبادی نہ صرف قیدیوں کے بنیادی حقوق بلکہ جیل انتظامیہ کی کارکردگی اور سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *