مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور مصنوعی قلت نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے قیمتوں کا تعین خود کرنے اور انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تفصیلات:
مستونگ میں پمپ مالکان ایرانی پیٹرول کو 410 روپے فی لیٹر فروخت کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، ایرانی پیٹرول کی خریداری کی لاگت 220 سے 230 روپے کے قریب ہے، اور اسے زیادہ سے زیادہ 330 سے 360 روپے تک فروخت ہونا چاہیے، لیکن عوام سے 410 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ پیٹرول پمپ مالکان اور انتظامیہ کے درمیان مبینہ ملی بھگت ہے، جس کی وجہ سے پمپس پر اکثر پیٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کر دی جاتی ہے۔
سوالات اور مطالبہ:
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پمپس پر فروخت ہونے والا پیٹرول ایرانی ہے یا پاکستانی، اور قیمتوں کے حوالے سے “چیک اینڈ بیلنس” کا نظام کہاں ہے؟
انتظامیہ سے گزارش ہے کہ وہ پمپس کی جانچ پڑتال کرے تاکہ عوام کو مقررہ قیمتوں پر پیٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس رپورٹ کو کسی خاص اخبار یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے مزید بہتر بناؤں؟
