اسلام آباد (سٹاف رپورٹڑ) وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو اشیائے خورونوش پر بڑے پیمانے پر ریلیف ملنے کا امکان کم نظر آ رہا ہے۔

حکام کے مطابق حکومت نے کھانے پینے کی بنیادی اشیا پر عائد سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور دیگر محصولات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا بدستور مہنگی رہ سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 2026 میں عام صارفین کو روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں فوری ریلیف ملنے کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومتی محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے بنیادی غذائی اشیا اور ادویات پر عائد موجودہ ٹیکسز اور کسٹمز ڈیوٹیز میں کسی نمایاں کمی کی تجویز زیرِ غور نہیں ہے، جس کے باعث مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ان اشیا کی قیمتوں میں کمی کی توقعات کم ہیں۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ چینی، گھی، کوکنگ آئل اور چائے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھا جائے گا۔

اسی طرح بنیادی غذائی اشیا پر مختلف نوعیت کی ڈیوٹیز کی وصولی بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے ان اشیا کی قیمتوں میں فوری کمی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ادویات پر عائد ایک فیصد سیلز ٹیکس بھی برقرار رہے گا۔درآمدی چکن پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 4 فیصد اضافی ڈیوٹی بدستور نافذ رہے گی، جبکہ انڈوں پر 3 سے 16 فیصد تک کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سبزیوں میں آلو پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کا امکان ہے، جبکہ ٹماٹر اور پیاز پر 5 فیصد ڈیوٹی برقرار رہے گی۔گندم اور چاول پر 10 فیصد جبکہ آٹے پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ویجیٹیبل آئل اور کوکنگ آئل پر عائد بھاری کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی کوئی نمایاں تبدیلی متوقع نہیں۔ خام سویابین اور دیگر خوردنی تیلوں پر فی ٹن ہزاروں روپے کی ڈیوٹیز بھی برقرار رکھی جائیں گی۔

واضح رہے کہ اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *