تربت(نمائندہ خصوصی ) تربت شہر کے مصروف ترین تجارتی روڈ فٹبال چوک پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے سیکیورٹی فورسز کی ایک قائمہ چوکی کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر دستی بم(ہینڈ گرینیڈ) پھینک کر فرار ہو گئے۔ دستی بم چوکی کے قریب زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کی زد میں آ کر وہاں سے گزرنے والے دو بے گناہ راہگیر شدید زخمی ہو گئے۔

دھماکے کی آواز اتنی ہولناک تھی کہ اس کے باعث قریبی پورے علاقے اور بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کاروباری مراکز عارضی طور پر بند ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیموں نے فوری موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کیا۔

ہسپتال ذرائع اور تربت پولیس کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، دستی بم حملے میں زخمی ہونے والے شہریوں کی شناخت ارمان ولد مختار (مقامی رہائشی)اور شمشیر خان کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ زخمی شمشیر خان کا تعلق بلوچستان کے ضلع دکی، لورالائی سے بتایا جاتا ہے جو روزگار کے سلسلے میں تربت میں مقیم تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس بزدلانہ واقعے میں مذکورہ دونوں راہگیروں کے زخمی ہونے کے علاوہ چوکی کو کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے فورا بعد تربت پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے فٹبال چوک اور اردگرد کے راستوں کی سخت ناکہ بندی کر کے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر تحقیقات اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *