تجزیہ: بی این پی
بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں پانچ محنت کش مزدوروں کو بے دردی سے قتل کیے جانے کا واقعہ پوری قوم کے لیے انتہائی افسوسناک، المناک اور قابلِ مذمت سانحہ ہے۔ ایسے واقعات صرف چند بے گناہ انسانوں کی جانیں نہیں لیتے بلکہ پورے ملک کے امن، قومی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ملک کے دیگر حصوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر اب بھی پاکستان کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ تاہم اس تمام صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پوری قوم کسی بھی قسم کی لسانی، صوبائی یا نسلی تقسیم کا شکار ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہو۔ دہشت گردوں کا اصل مقصد صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ پاکستانیوں کے درمیان نفرت، بداعتمادی اور تقسیم پیدا کرنا بھی ہوتا ہے تاکہ ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں۔ یہی وہ خطرناک سازش ہے جسے سمجھنا اور ناکام بنانا ہر پاکستانی کی قومی ذمہ داری ہے۔
تجزیہ: بی این پی کے مطابق بلوچستان میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کو کسی مخصوص قوم، زبان یا علاقے کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اسے دہشت گردی کے ایک سنگین واقعے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ دہشت گرد نہ بلوچ کے دوست ہیں، نہ پنجابی کے، نہ پشتون کے، نہ سندھی کے اور نہ ہی کسی دوسرے پاکستانی کے۔ ان کا واحد مقصد پاکستان کو کمزور کرنا، ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانا، معیشت کو نقصان پہنچانا اور قوم کو آپس میں تقسیم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ بلوچستان میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی سندھ میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں اور کبھی پنجاب میں معصوم شہریوں کی جانیں لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر پاکستانی دشمن ہے، اس لیے ہمیں بھی اس فتنے کو صرف ایک قومی مسئلہ سمجھ کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، روایات اور قومیتوں کا خوبصورت گلدستہ ہے۔ بلوچ، پنجابی، سندھی، پشتون، سرائیکی، کشمیری، بروہی، بلتی، ہزارہ اور دیگر تمام قومیتیں اس وطن کی مشترکہ طاقت ہیں۔ اگر بلوچستان پاکستان کا دل ہے تو پنجاب اس کی معاشی قوت ہے، سندھ اس کی تجارتی شہ رگ ہے، خیبر پختونخوا اس کی بہادری اور قربانیوں کی علامت ہے، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر اس کے حسن اور جغرافیائی اہمیت کا مظہر ہیں۔ ان تمام اکائیوں نے مل کر پاکستان کو مضبوط بنایا ہے، اس لیے کسی ایک قوم یا صوبے کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا دراصل پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بلوچ ہے، کوئی پنجابی، کوئی سندھی، کوئی پشتون یا کوئی سرائیکی، لیکن سب سے پہلے ہم سب پاکستانی ہیں۔ ہماری شناخت، ہمارا پرچم، ہمارا آئین اور ہماری سرزمین مشترک ہے۔ اگر ملک کا ایک حصہ زخمی ہوتا ہے تو اس کا درد پورا پاکستان محسوس کرتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور عام شہری اپنی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ ان قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، لیکن وقتاً فوقتاً ایسے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ریاست اپنی سکیورٹی حکمت عملی کو مزید مؤثر، مربوط اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنائے۔ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط سرحدی نگرانی، فوری قانونی کارروائی اور عوامی تعاون دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض دہشت گرد گروہ بیرونی معاونت یا سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے اپنا مؤقف مختلف بین الاقوامی اور سفارتی فورمز پر پیش کرتا رہا ہے۔ تاہم اس معاملے میں ضروری ہے کہ ایسے حساس موضوعات پر حتمی ذمہ داری ریاستی اداروں کی تحقیقات، مصدقہ شواہد اور سرکاری مؤقف پر ہی مبنی ہو۔ عوام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ افواہوں، نفرت انگیز مہمات اور اشتعال انگیز بیانیوں سے خود کو دور رکھیں، کیونکہ بیرونی عناصر کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ پاکستانی آپس میں لڑ پڑیں اور قومی اتحاد کمزور ہو جائے۔ اگر ہم ان کے اس مقصد کو سمجھ جائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہیں تو ان کی ہر سازش ناکام ہو سکتی ہے۔
بلوچستان میں قتل ہونے والے مزدور روزگار کی تلاش میں وہاں گئے تھے۔ وہ سیاست نہیں کر رہے تھے، وہ کسی تنازعے کا حصہ نہیں تھے، بلکہ صرف اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کر رہے تھے۔ اسی طرح بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کے ہزاروں افراد بھی روزگار کی غرض سے ملک کے مختلف حصوں میں کام کرتے ہیں۔ یہی پاکستان کی خوبصورتی ہے کہ ایک صوبے کا شہری دوسرے صوبے میں جا کر عزت اور محبت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ اگر اس روایت کو دہشت گردی کے ذریعے نقصان پہنچایا گیا تو اس سے پورا ملک متاثر ہوگا، اس لیے ہر پاکستانی کی جان، عزت اور روزگار کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
**تجزیہ: بی این پی** یہ سمجھتا ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد، سیاسی برداشت، سماجی ہم آہنگی اور آئین و قانون کی بالادستی کو فروغ دینے کی ہے۔ کسی دہشت گردی کے واقعے کے بعد پوری قومیت یا کسی مخصوص علاقے کے لوگوں کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ دہشت گردوں کے مقاصد کو تقویت دینا بھی ہے۔ بلوچستان کے عوام کی بھاری اکثریت امن پسند، محب وطن اور ترقی کی خواہاں ہے، بالکل اسی طرح جیسے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام۔ چند جرائم پیشہ یا دہشت گرد عناصر کی کارروائیوں کو کسی پوری قوم سے جوڑنا دانشمندی نہیں بلکہ قومی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
آج سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹی خبریں، نفرت انگیز پروپیگنڈا اور غیر مصدقہ معلومات بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ ہر خبر کی تصدیق کرے، ذمہ داری کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرے اور ایسے کسی بھی مواد سے اجتناب کرے جو صوبائی، لسانی یا نسلی نفرت کو فروغ دیتا ہو۔ اختلاف رائے ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہے، لیکن نفرت، تشدد اور تقسیم کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتے۔ پاکستان کی ترقی اس وقت ممکن ہوگی جب تمام صوبے، تمام قومیتیں اور تمام طبقات ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ قومی مفاد کو ترجیح دیں گے۔
آج یہ پیغام پورے ملک میں عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ ہمارا دکھ مشترک ہے، ہماری خوشیاں مشترک ہیں، ہماری کامیابیاں مشترک ہیں اور ہمارے مستقبل کا دارومدار بھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے۔ اگر بلوچستان میں کوئی معصوم شہری شہید ہوتا ہے تو پورا پاکستان سوگوار ہوتا ہے، اگر پنجاب میں کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا ہے تو بلوچستان بھی اتنا ہی غمزدہ ہوتا ہے، اگر خیبر پختونخوا میں کوئی اہلکار شہید ہوتا ہے تو سندھ بھی اس قربانی کو اپنی قربانی سمجھتا ہے۔ یہی جذبہ پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ قومی اتحاد، بہتر حکمرانی، انصاف، تعلیم، معاشی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد سے بھی کیا جاتا ہے۔ جب قوم متحد ہوگی، ریاست مضبوط ہوگی اور قانون کی حکمرانی ہر جگہ یکساں ہوگی تو دہشت گردی، نفرت اور تقسیم کی ہر سازش ناکام ہو جائے گی۔ پاکستان کا مستقبل اسی اتحاد، بھائی چارے اور مشترکہ قومی شعور میں پوشیدہ ہے، کیونکہ ہمارا سب سے بڑا تعارف ہماری زبان یا قومیت نہیں بلکہ ہماری مشترکہ شناخت ہے کہ **ہم سب پاکستانی ہیں، اور کوئی بھی طاقت ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *