jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

خاران سے کوئٹہ و کراچی ٹرانسپورٹ 16 اگست تک معطل

کراچی سے تربت، گوادر، پنجگور، خاران اور بسیمہ خضدار کے روٹس بھی بند رہیںگے

کوئٹہ(نمائندہ خصوصی )سیکیورٹی وجوہات کے باعث خاران سے کوئٹہ اور کراچی سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع کے درمیان چلنے والی مسافر ٹرانسپورٹ سروس 16 اگست تک مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس کے باعث خاران، پنجگور، تربت، گوادر، واشک، بسیمہ اور دیگر علاقوں کے ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ذرائع کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مختلف ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے 8 اگست سے 16 اگست تک بین الاضلاعی بس سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت خاران سے کوئٹہ اور کراچی جانے والی بسیں بھی سڑکوں پر نہیں چلیں گی، جبکہ بلوچستان کے جنوبی اور مغربی علاقوں سے کراچی کے لیے چلنے والی متعدد مسافر گاڑیوں کی آمدورفت بھی روک دی گئی ہے ٹرانسپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مسافروں، ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں اور ٹرانسپورٹ عملے کی جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں طویل روٹس پر سفر کرنے والی مسافر بسوں کو مختلف حساس علاقوں اور شاہراہوں سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز نے احتیاطی طور پر سروس معطل رکھنے کو ترجیح دی ہے۔

خاران، پنجگور، واشک، بسیمہ اور دیگر علاقوں کے مسافر شدید متاثر ہوگیٹرانسپورٹ سروس کی بندش سے خاران سمیت پنجگور، واشک، بسیمہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے کوئٹہ اور کراچی جانے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ان علاقوں کے بہت سے شہری علاج، تعلیم، کاروبار، ملازمت، سرکاری امور اور دیگر ضروری کاموں کے سلسلے میں کوئٹہ اور کراچی کا سفر کرتے ہیں خصوصا ایسے مریض اور ان کے تیماردار جو علاج کے لیے کوئٹہ یا کراچی کے بڑے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، انہیں ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات پیش آنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح طلبہ، سرکاری ملازمین، کاروباری افراد اور روزگار کے سلسلے میں سفر کرنے والے شہری بھی متاثر ہوں گییو این اے کے مطابق خاران اور ملحقہ علاقوں میں طویل فاصلے کی مسافر ٹرانسپورٹ کا بڑا انحصار بس سروس پر ہے۔

اچانک سروس بند ہونے کے باعث مسافروں کو متبادل ذرائع آمدورفت تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں، تاہم محدود اور غیر یقینی متبادل ٹرانسپورٹ کے باعث سفر مزید مشکل اور مہنگا ہونے کا امکان ہے ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے تک مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنا چاہیے، جبکہ ضروری سفر کرنے والے افراد متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے روانگی سے قبل معلومات حاصل کریں کراچی سے تربت، گوادر، پنجگور، خاران اور بسیمہ خضدار کے روٹس بھی بند بندہ رپے گے ذرائع کے مطابق ٹرانسپورٹ سروس کی بندش صرف خاران سے کوئٹہ یا کراچی جانے والی گاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ کراچی سے بلوچستان کے جنوبی اور مغربی علاقوں کی جانب چلنے والی متعدد مسافر بس سروسز بھی 8 اگست سے 16 اگست تک معطل رہیں گی کراچی سے تربت، گوادر، پنجگور، خاران اور بسیمہ جانے والی ٹرانسپورٹ بھی بند کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں بلوچستان اور سندھ کے درمیان مسافروں کی آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ متاثر ہوگاباس صورتحال کے باعث کراچی میں مقیم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی اپنے آبائی علاقوں میں جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے کراچی جانے والے مسافر بھی متاثر ہوں گے

کاروباری سرگرمیوں، مسافر آمدورفت اور روزمرہ ضروریات سے متعلق نقل و حرکت پر بھی اس بندش کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی جانب سے مسافر بسوں کی معطلی کا دورانیہ 8 اگست سے 16 اگست تک مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم سیکیورٹی صورتحال میں بہتری یا متعلقہ اداروں کی جانب سے نئی ہدایات جاری ہونے کی صورت میں ٹرانسپورٹ سروس کی بحالی کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ مسافروں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اسی لیے موجودہ حالات میں طویل روٹس پر بسیں چلانے کے بجائے عارضی طور پر سروس معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی سفر سے قبل متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنی سے روٹ اور سروس کی دستیابی کے بارے میں تصدیق ضرور کریں ٹرانسپورٹ کی اس عارضی بندش سے بلوچستان کے جنوبی، مغربی اور شمالی علاقوں کے درمیان مسافر رابطہ نمایاں طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ 16 اگست تک صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا جاری رہ سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More