کوئٹہ’ پیشہ ور بھکاریوں کی بھرمار، شہریوں کا سخت ردعمل’کارروائی کا مطالبہ
شہر کے مصروف بازاروں، سڑکوں، چوراہوں اور اشاروں پر درجنوں کی تعداد میں بھکاری مرد، عورتیں اور بچے بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں
کوئٹہ (سٹاف رپورٹر) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیشہ ور بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے’ شہر کے مصروف بازاروں، سڑکوں، چوراہوں اور اشاروں پر درجنوں کی تعداد میں بھکاری مرد، عورتیں اور بچے بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں، جن میں سے بیشتر منظم گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے’شہریوں کا کہنا ہے کہ بھکاریوں کی جانب سے زبردستی مانگنا، گاڑیوں کی کھڑکیاں بجانا، اور خواتین یا بچوں کو جذباتی طور پر استعمال کرنا معمول بن چکا ہے’متعدد واقعات میں ان پیشہ ور گداگروں کے ملوث ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جن میں جیب تراشی، چوری اور فراڈ شامل ہیں
شہریوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہر چوراہے پر ہاتھ پھیلائے کھڑے یہ بھکاری اب صرف تنگ ہی نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات بدتمیزی پر اتر آتے ہیں’ یہ معمولی مسئلہ نہیں رہا، انتظامیہ کو فوری نوٹس لینا چاہیے’یہ بھکاری شہر کے بڑے بازاروں، اسپتالوں، عبادت گاہوں، اور تعلیمی اداروں کے باہر بھی جمع ہو جاتے ہیں، جس سے شہریوں کے لیے گزرنا دشوار ہو جاتا ہے’ بعض دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ ان افراد کے دباؤ میں آ کر بھیک دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں تاکہ ان سے جان چھوٹے۔
شہری حلقے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی خاموشی پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں’ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ معاملہ بارہا سامنے آ چکا ہے تو کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا ان کے پیچھے کوئی بااثر گروہ یا سرپرست کارفرما ہیں؟
شہریوں نے حکومت بلوچستان، کمشنر کوئٹہ، اور ڈی سی کوئٹہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے منظم گروہوں کی نشاندہی کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے
بچوں کو استعمال کرنے والے افراد پر چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیںمستحق افراد کے لیے فلاحی اداروں اور بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ حقیقی ضرورت مندوں کی مدد الگ طریقے سے کی جا سکے۔