jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

ڈیجیٹل معیشت کی جانب پاکستان کا سفر، امکانات اور زمینی تقاضے

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں روایتی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دنیا بھر میں تجارت، بینکاری، سرمایہ کاری، روزگار، تعلیم، صحت اور سرکاری خدمات کا بڑا حصہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، بلاک چین، ورچوئل اثاثہ جات، ای کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں نے معاشی سرگرمیوں کی نوعیت تبدیل کر دی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے بھی یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ بدلتی ہوئی عالمی معاشی حقیقتوں کے ساتھ قدم ملا کر چلے اور اپنی نوجوان آبادی، وسیع صارف منڈی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں موجود صلاحیتوں کو قومی ترقی کا ذریعہ بنائے۔
وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب کی جانب سے یہ کہنا کہ پاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار ہے، اس اعتبار سے اہم ہے کہ حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات کے لیے نسبتاً مختصر مدت میں ایک ریگولیٹری نظام قائم کرنے کی سمت پیش رفت کی ہے۔ محدود اخراجات میں ایک نئے شعبے کے لیے ادارہ جاتی اور قانونی بنیاد فراہم کرنا بلاشبہ ایک قابلِ ذکر قدم ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے عالمی رجحانات کو سمجھتے ہوئے پاکستان کو اس ابھرتے ہوئے میدان سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ امر وزیراعظم شہباز شریف کی ان کاوشوں کے تناظر میں بھی قابلِ تحسین ہے جن کے ذریعے حکومت ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن، سرمایہ کاری اور جدید معاشی شعبوں کو قومی ترقی کے ایجنڈے کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ موجودہ عالمی معیشت میں وہی ممالک زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں جو ٹیکنالوجی کو محض سہولت نہیں بلکہ معاشی پیداوار، روزگار اور برآمدات کے بنیادی وسیلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کو زرمبادلہ کمانے، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے ایک بڑے ذریعہ کے طور پر استعمال کرے۔
تاہم ڈیجیٹل معیشت کا تصور صرف ورچوئل اثاثہ جات کے لیے ریگولیٹری نظام، چند قوانین یا نئے اداروں کے قیام تک محدود نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کی سہولت ملک کے عام شہری تک کس حد تک پہنچتی ہے۔ اگر پاکستان کے ایک بڑے شہر میں رہنے والا صارف تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل بینکاری، آن لائن خریداری، آن لائن تعلیم اور جدید سرکاری خدمات تک رسائی رکھتا ہو لیکن کسی دور دراز علاقے کا شہری بنیادی انٹرنیٹ سہولت سے بھی محروم ہو تو ایسی صورت میں ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد مضبوط قرار نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے سب سے بنیادی ضرورت قابلِ اعتماد اور سستی انٹرنیٹ سہولت ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں آج بھی انٹرنیٹ کی رفتار، معیار اور دستیابی کے حوالے سے مسائل موجود ہیں۔ شہری علاقوں میں بھی بعض اوقات نیٹ ورک کے تعطل، کم رفتار اور تکنیکی مسائل کا سامنا رہتا ہے، جبکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صورتحال مزید مشکل ہے۔ ڈیجیٹل معیشت اسی وقت حقیقی معنوں میں قومی معیشت کا حصہ بن سکتی ہے جب ملک کے ہر علاقے کے شہری کو اس میں شرکت کا یکساں موقع میسر ہو۔
اس سلسلے میں بجلی کی مسلسل فراہمی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ڈیجیٹل کاروبار، آن لائن تعلیم، فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل بینکاری اور دیگر سرگرمیاں مسلسل بجلی اور انٹرنیٹ کی متقاضی ہیں۔ ایک نوجوان اگر آن لائن کام کر رہا ہو، بیرون ملک کسی کمپنی کے لیے خدمات فراہم کر رہا ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کاروبار چلا رہا ہو تو بجلی کی غیر یقینی صورتحال اس کی پیداواری صلاحیت کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ لہٰذا ڈیجیٹل معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے توانائی اور انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق وفاقی حکومت کا ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھنا خوش آئند ہے، لیکن اس سفر کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے ادارے قائم ہوئے یا کتنے قوانین بنائے گئے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ عام پاکستانی کی زندگی کتنی آسان ہوئی، نوجوانوں کے لیے کتنے نئے روزگار پیدا ہوئے، چھوٹے کاروباروں کی لاگت کتنی کم ہوئی، سرکاری خدمات تک رسائی کتنی آسان ہوئی اور ملک کی ڈیجیٹل برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا۔ اگر ڈیجیٹل معیشت کا فائدہ صرف بڑے کاروباری اداروں یا محدود طبقے تک رہے تو اس کے وسیع معاشی ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج ڈیجیٹل معیشت کو عام صارف دوست معیشت بنانا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے ڈیجیٹل نظام اس وقت مفید ثابت ہوگا جب اسے اپنے روزمرہ کے مسائل حل کرنے میں سہولت ملے۔ بجلی، گیس، پانی، ٹیکس، شناختی دستاویزات، بینکاری، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر سرکاری و نجی خدمات اگر شفاف اور آسان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دستیاب ہوں تو اس سے نہ صرف شہریوں کا وقت بچے گا بلکہ دفتری پیچیدگی، غیر ضروری کاغذی کارروائی اور بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں چھوٹے کاروبار ایسے ہیں جو اگر ڈیجیٹل ادائیگیوں، آن لائن مارکیٹنگ، ای کامرس اور جدید کاروباری نظام سے منسلک ہو جائیں تو ان کی رسائی مقامی مارکیٹ سے نکل کر عالمی منڈی تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک چھوٹا صنعت کار، دستکار، دکاندار، گھریلو کاروبار کرنے والی خاتون یا نوجوان فری لانسر اگر مناسب ڈیجیٹل سہولیات حاصل کر لے تو وہ اپنے گھر یا چھوٹے دفتر سے عالمی سطح پر خدمات اور مصنوعات فروخت کر سکتا ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جہاں پاکستان کے لیے سب سے بڑے مواقع موجود ہیں۔ ملک کی نوجوان آبادی ٹیکنالوجی سے نسبتاً مانوس ہے اور بڑی تعداد میں نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن تعلیم اور دیگر شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر حکومت انہیں جدید تربیت، عالمی معیار کے کورسز، تیز رفتار انٹرنیٹ، آسان ادائیگی کے نظام اور کاروباری معاونت فراہم کرے تو یہ نوجوان ملک پر معاشی بوجھ بننے کے بجائے قومی آمدنی میں نمایاں حصہ ڈال سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت کے لیے مالیاتی شمولیت بھی نہایت ضروری ہے۔ ملک کے ایسے شہری جو روایتی بینکاری نظام سے باہر ہیں، انہیں محفوظ اور آسان ڈیجیٹل مالیاتی خدمات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موبائل بینکاری، ڈیجیٹل ادائیگیاں اور دیگر جدید مالیاتی سہولیات کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی بنانے کے ساتھ ساتھ معیشت میں شفافیت بڑھا سکتی ہیں۔ تاہم اس عمل میں صارف کے تحفظ، ڈیٹا کی سلامتی اور سائبر سکیورٹی کو بنیادی ترجیح دینا ہوگی۔
ورچوئل اثاثہ جات کا ریگولیٹری نظام بھی اسی وسیع تر ڈیجیٹل معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ شعبہ دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس میں مواقع کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ اگر ریاست مؤثر نگرانی، شفاف قواعد، صارفین کے تحفظ اور مالی جرائم کی روک تھام کے لیے مضبوط نظام قائم کر سکے تو پاکستان اس شعبے کو بے قاعدگی کے بجائے معاشی مواقع میں تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن اس حوالے سے عوام میں آگاہی بھی ضروری ہے تاکہ لوگ غیر محفوظ سرمایہ کاری، دھوکا دہی اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کا شکار نہ ہوں۔
ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم پہلو ڈیٹا ہے۔ جدید دنیا میں ڈیٹا کو معاشی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کے پاس شہریوں، کاروبار، صحت، تعلیم، زراعت اور دیگر شعبوں سے متعلق وسیع معلومات موجود ہوتی ہیں۔ ان معلومات کو محفوظ، منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جائے تو بہتر پالیسی سازی، وسائل کی مؤثر تقسیم اور عوامی خدمات میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تاہم شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ ریاستی ذمہ داری ہے۔ ڈیجیٹل ترقی اگر شہری کی نجی زندگی اور معلومات کے تحفظ کے بغیر ہو تو اس کے فوائد کے ساتھ سنگین خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کے لیے صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ڈیجیٹل کلچر بھی درکار ہے۔ شہریوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ آن لائن دنیا میں اپنے مالی اور ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے، جعلی معلومات کی شناخت کیسے کی جاتی ہے اور ڈیجیٹل خدمات سے محفوظ طریقے سے فائدہ کیسے اٹھایا جا سکتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں جدید ڈیجیٹل تعلیم کو محض کمپیوٹر چلانے تک محدود رکھنے کے بجائے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا سائنس، پروگرامنگ اور ڈیجیٹل کاروبار جیسے شعبوں سے جوڑنا ہوگا۔
**تجزیہ بی این پی** یہ سمجھتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل معیشت کو قومی ترقی کے ایجنڈے میں جگہ دینا مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ قدم ہے۔ تاہم کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیوں کا مرکز عام شہری ہو۔ اگر ایک نوجوان کو گھر بیٹھے روزگار ملے، ایک چھوٹے کاروبار کو بغیر غیر ضروری رکاوٹ کے ڈیجیٹل ادائیگی اور آن لائن مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو، ایک طالب علم کو معیاری آن لائن تعلیم دستیاب ہو اور ایک عام شہری کو سرکاری دفتر کے چکر لگانے کے بجائے گھر بیٹھے بنیادی خدمات مل جائیں تو یہی ڈیجیٹل معیشت کی حقیقی کامیابی ہوگی۔
اس کے ساتھ حکومت کو ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری، انٹرنیٹ کی لاگت کم کرنے، دور دراز علاقوں کو براڈ بینڈ سے جوڑنے، بجلی کی فراہمی بہتر بنانے اور آئی ٹی برآمدات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔ نجی شعبے کو بھی اس عمل میں شریک کرنا ضروری ہے کیونکہ حکومت تنہا ڈیجیٹل انقلاب نہیں لا سکتی۔ ریاست کو پالیسی، ضابطہ اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوگا جبکہ نجی شعبہ سرمایہ کاری، جدت اور نئی خدمات کے میدان میں اپنا کردار ادا کرے۔
پاکستان کے لیے یہ وقت محض ڈیجیٹل معیشت کی بات کرنے کا نہیں بلکہ اسے عملی طور پر قومی معیشت کا حصہ بنانے کا ہے۔ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، ڈیجیٹل تجارت اور نئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر پاکستان نے بروقت درست فیصلے کیے تو اس کی نوجوان افرادی قوت اور وسیع مارکیٹ اسے خطے کی ایک اہم ڈیجیٹل معیشت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لیکن اگر بنیادی مسائل نظرانداز کیے گئے تو محض اداروں اور قوانین کے قیام سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک جامع، قابلِ عمل اور طویل المدتی حکمتِ عملی تشکیل دے جس میں انٹرنیٹ، بجلی، تعلیم، روزگار، کاروبار، مالیاتی شمولیت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا تحفظ اور ٹیکنالوجی کی صنعت کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھا جائے۔ وزیراعظم کی اس سمت میں کاوشیں یقیناً قابلِ ستائش ہیں، لیکن ان کا اصل ثمر اسی وقت سامنے آئے گا جب ڈیجیٹل ترقی کے فوائد اشرافیہ یا چند بڑے اداروں تک محدود رہنے کے بجائے عام پاکستانی کے گھر، دکان، دفتر، اسکول اور کاروبار تک پہنچیں۔
پاکستان کے لیے ڈیجیٹل معیشت کوئی دور کا خواب نہیں؛ یہ درست پالیسی، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور مسلسل سیاسی و انتظامی عزم کے ذریعے ایک قابلِ حصول حقیقت ہے۔ حکومت نے اگر موجودہ اقدامات کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عام صارف کی سہولت سے جوڑ دیا، نوجوانوں کو ہنر اور روزگار فراہم کیا، چھوٹے کاروباروں کو ڈیجیٹل مواقع دیے اور ملک کے ہر خطے کو قابلِ اعتماد انٹرنیٹ سے منسلک کر دیا تو ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی معاشی بحالی، روزگار کے فروغ اور عالمی منڈی میں نئی شناخت کا مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر مستقل مزاجی سے آگے بڑھ کر پاکستان نہ صرف مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے تیار ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل کی معیشت میں اپنا مؤثر مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More