تجزیہ بی این پی
دہشت گردی کسی بھی معاشرے کے لیے محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی اقدار، معاشرتی امن، ریاستی استحکام اور نسلوں کے مستقبل پر حملہ ہوتی ہے۔ جب کوئی دہشت گرد تنظیم اپنے مذموم مقاصد کے لیے کم عمر بچوں اور خواتین کو استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اس کی سفاکی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی اس سے بڑی مثال شاید ہی کوئی ہو۔ مکران میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے دو کم عمر لڑکیوں کو مبینہ طور پر تنظیمی مقاصد اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کا ناکام بنایا جانا اسی خطرناک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ سولہ سالہ زینب اور اس کی بارہ سالہ کزن فاطمہ کی بازیابی ایک طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہم کامیابی ہے تو دوسری طرف اس امر کا ناقابل تردید ثبوت بھی ہے کہ دہشت گرد گروہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے انسانی جذبات اور معصومیت تک کو پامال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا لانگو کے مطابق دونوں لڑکیوں کو جذباتی طور پر ورغلا کر تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کیا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق زینب کے شوہر سیف نے تنظیم میں شمولیت سے انکار کیا تو اسے قتل کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں زینب کو یہ تاثر دیا گیا کہ اس کے شوہر کو ریاستی اداروں نے قتل کیا ہے۔ اس طرح ایک ذاتی سانحے کو انتقام کے جذبات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ زینب کو شوہر کے قتل کا بدلہ لینے پر اکسایا گیا اور اس کے بعد اسے دہشت گردی کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش ہوئی۔ یہی طریقہ اس کی کم عمر کزن فاطمہ کے معاملے میں بھی اختیار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں صرف ہتھیاروں اور بموں کے ذریعے جنگ نہیں کرتیں بلکہ وہ ذہنوں کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔ جذباتی صدمے، غربت، خوف، محرومی، انتقام اور ریاستی اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا دہشت گرد گروہوں کی ایک خطرناک حکمت عملی ہے۔ کسی فرد کے ذاتی دکھ کو ایک منظم دہشت گرد بیانیے میں تبدیل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ایسے گروہوں کا مقصد عوام کے مسائل حل کرنا نہیں بلکہ ان کے دکھ اور محرومیوں کو اپنے سیاسی و عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
دونوں لڑکیوں کے مطابق انہیں تقریباً چالیس روز تک ایک نامعلوم مقام پر رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اگر یہ تفصیلات تحقیقات میں درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ معاملہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا بھی ہے۔ ایک بارہ سالہ بچی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہے۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو گروہ بلوچ عوام کے حقوق، روایات اور محرومیوں کی بات کرتے ہیں، وہ کس اخلاقی جواز کے تحت بلوچ معاشرے کی کم عمر بچیوں کو تشدد، خوف اور دہشت گردی کی بھٹی میں جھونکنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس واقعے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہی ہے کہ دہشت گردی کے لیے معصوم ذہنوں کو تیار کرنے کی کوشش دراصل معاشرے کے مستقبل کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ بچے اور بچیاں کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انہیں تعلیم، تحفظ اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جو عناصر انہیں نفرت، انتقام اور تشدد کا سبق دیتے ہیں، وہ کسی نظریے یا حقوق کی جدوجہد کے علمبردار نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کرنے والے عناصر ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ کسی علاقے کے عوام کو درپیش حقیقی مسائل، انتظامی کمزوریاں، معاشی محرومیاں یا سیاسی شکایات اپنی جگہ اہم معاملات ہیں جن پر ریاست کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے، لیکن ان مسائل کو بنیاد بنا کر معصوم شہریوں کو قتل کرنا، خوف پھیلانا، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا یا نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنا کسی صورت قابل جواز نہیں ہو سکتا۔ مسائل کا حل سیاسی مکالمے، آئینی عمل، ترقی، تعلیم اور بہتر حکمرانی میں ہے، دہشت گردی میں نہیں۔
کالعدم بی ایل اے سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کی اس حوالے سے بھرپور مذمت ضروری ہے جو بلوچ عوام کے نام کو اپنے پرتشدد عزائم کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پوری بلوچ آبادی کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے تشدد کو اپنا ذریعہ بنائے۔ بلوچستان کے کروڑوں محب وطن شہریوں کو دہشت گرد عناصر سے الگ دیکھنا ہوگا۔ ایک پوری قوم، صوبے یا معاشرے کو چند مسلح گروہوں کی کارروائیوں سے جوڑنا نہ انصاف ہے اور نہ دانش مندی۔اسی طرح لاپتہ افراد جیسے حساس اور انسانی مسئلے کو بھی سیاسی و عسکری مفادات کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی شہری کے لاپتہ ہونے کی شکایت سامنے آتی ہے تو اس کی شفاف تحقیقات اور اہل خانہ کو حقیقت سے آگاہ کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن دوسری جانب اگر دہشت گرد تنظیمیں خود کسی فرد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں، اسے قتل کریں یا اس کے اہل خانہ کو گمراہ کرکے الزام ریاستی اداروں پر ڈالیں تو ایسے حربوں کو بے نقاب کرنا بھی ناگزیر ہے۔ کسی بھی دعوے کو بغیر تحقیق کے حتمی حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے شواہد، تحقیقات اور قانون کے تقاضوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس جنگ کا ایک اہم محاذ اطلاعات اور بیانیے کا بھی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سوشل میڈیا، جھوٹی اطلاعات، جعلی بیانیوں اور جذباتی مواد کا استعمال کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ کم عمری میں جذباتی اثر پذیری زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ والدین، اساتذہ، علما، دانشوروں، میڈیا اور ریاستی اداروں کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں نوجوانوں کو نفرت اور انتقام کے بیانیے کے بجائے دلیل، تعلیم، قانون اور قومی یکجہتی کی طرف راغب کیا جائے۔
میڈیا کی ذمہ داری بھی اس مرحلے پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ دہشت گردوں کی کارروائیوں کی خبر دینا صحافت کا حصہ ہے، لیکن ان کے پروپیگنڈے کو غیر ضروری تشہیر دینا، ان کے بیانیے کو بغیر تحقیق کے نشر کرنا یا ان کی کارروائیوں کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرنا معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ میڈیا کو خبر اور پروپیگنڈے میں واضح فرق رکھنا ہوگا۔ عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ دہشت گرد کس طرح نوجوانوں کو ورغلاتے، خاندانوں کے دکھوں سے فائدہ اٹھاتے اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے انہیں اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق مکران میں دونوں کم عمر لڑکیوں کی بازیابی محض دو جانوں کو بچانے کا واقعہ نہیں بلکہ دہشت گردی کے ایک خطرناک طریقہ کار کو سمجھنے کا موقع بھی ہے۔ اگر ریاست اور معاشرہ اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے دہشت گردوں کے بھرتی کرنے کے طریقہ کار، مالی معاونت، سہولت کاری، پروپیگنڈے اور ذہنی اثراندازی کے نیٹ ورک کو مؤثر انداز میں نشانہ بنائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ صرف حملہ آور کو گرفتار یا ہلاک کرنا کافی نہیں؛ اس پورے نظام کو توڑنا ضروری ہے جو نوجوان ذہنوں کو تشدد کے لیے تیار کرتا ہے۔
بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ تعلیم، روزگار، صحت، مواصلات، مقامی ترقی اور سیاسی شمولیت کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ عوام کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاست ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے موجود ہے۔ جب شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے تو دہشت گردوں کے لیے اپنے جھوٹے بیانیے کو جگہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مقامی عمائدین، قبائلی و سماجی رہنماؤں اور نوجوانوں کو امن کے عمل میں شریک کرنا بھی ضروری ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ ہر مشتبہ شخص کو دہشت گرد قرار دینے کے بجائے شواہد کی بنیاد پر کارروائی اور عدالتوں کے ذریعے قانونی عمل کو آگے بڑھانا ہی ریاستی اداروں کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ اسی طرح دہشت گرد تنظیموں کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور پروپیگنڈا نیٹ ورک کے خلاف بھی مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی میں کسی قسم کی ابہام کی گنجائش نہیں۔ جو گروہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ کسی سیاسی یا قومی مقصد کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔ ان کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان انہی علاقوں کے عوام کو پہنچتا ہے جن کے نام پر وہ اپنی کارروائیوں کا جواز پیش کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو امن، ترقی اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ہے اور اس حق کی حفاظت ریاست، معاشرے اور خود بلوچستان کے باشعور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مکران کا یہ واقعہ ایک سنجیدہ تنبیہ ہے۔ دہشت گردی کا اصل چہرہ اس وقت پوری طرح سامنے آتا ہے جب اس کے علمبردار اپنے مقاصد کے لیے معصوم بچیوں کو بھی استعمال کرنے لگیں۔ یہ کسی آزادی، حقوق یا محرومی کی جدوجہد نہیں بلکہ انسانی زندگی، اخلاقی اقدار اور معاشرتی امن کے خلاف جنگ ہے۔ کالعدم بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی ایسی تمام کارروائیوں کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے اور ریاست کو قانون کے مطابق ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔ساتھ ہی عوام کو دہشت گردوں کے جھوٹے پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مؤثر قومی ابلاغی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، تعلیمی ادارے انتہا پسندی کے خلاف شعور اجاگر کریں، میڈیا ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے اور ریاست نوجوان نسل کو تعلیم، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کے زیادہ مواقع فراہم کرے۔ یہی وہ جامع راستہ ہے جس کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کی بھرتی اور ذہنی اثراندازی کے دروازے بند کیے جا سکتے ہیں۔ریاست کی طاقت، قانون کی بالادستی، عوام کا اعتماد اور ذمہ دار میڈیا—یہ چاروں عناصر مل کر دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دے سکتے ہیں۔ معصوم بچیوں کو دہشت گردی کا ایندھن بنانے کی کوشش نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سرحدوں یا محاذوں پر نہیں بلکہ گھروں، اسکولوں، معاشرے اور ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کا حقیقی راستہ یہی ہے کہ دہشت گردی کے ہر روپ کو مسترد کیا جائے، معصوم شہریوں کو تحفظ دیا جائے اور بلوچستان سمیت پورے ملک کے عوام کو امن، انصاف اور ترقی کا مضبوط یقین فراہم کیا جائے۔