تجزیہ بی این پی
کسی بھی ریاست کی ترقی کا حقیقی پیمانہ صرف بلند شرحِ نمو، سڑکوں کے جال، بلند و بالا عمارتوں یا بڑے ترقیاتی منصوبوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ کسی ملک کی اصل طاقت اس کے شہریوں کی صحت، تعلیم، صلاحیت، پیداواری استعداد اور مستقبل کے بارے میں ان کے اعتماد سے تشکیل پاتی ہے۔ اگر آبادی کا ایک بڑا حصہ بنیادی طبی سہولتوں سے محروم ہو، علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جائے اور ایک معمولی بیماری بھی کسی خاندان کو مالی بحران سے دوچار کر دے تو ایسی صورت حال میں معاشی ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھونے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صحت کا شعبہ طویل عرصے سے ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے، جہاں ضرورت اور وسائل کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔
اقتصادی سروے 2025ـ26ء کے مطابق پاکستان صحت کے شعبے پر اپنے مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.8 فیصد خرچ کرتا ہے۔ یہ شرح نہ صرف صحت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے بلکہ خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں بھی انتہائی کم ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صحت کے فی کس اخراجات تقریباً 30.49 ڈالر ہیں، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ رقم 53.46 ڈالر، نیپال میں تقریباً 84 ڈالر، بھارت میں 84.69 ڈالر اور سری لنکا میں 134.24 ڈالر تک پہنچتی ہے۔ اعداد و شمار کا یہ تقابلی جائزہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحت ہماری قومی ترجیحات میں جس مقام کی مستحق ہے، اسے وہ مقام ابھی تک حاصل نہیں ہو سکا۔
یہ مسئلہ محض بجٹ کی ایک عددی کمی نہیں بلکہ قومی پالیسی کے اس بنیادی تصور سے متعلق ہے جس کے تحت انسانی زندگی اور انسانی سرمائے کو ریاستی ترقی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر یہی نوجوان صحت مند، توانا اور معیاری طبی سہولتوں سے مستفید ہوں تو وہ ملک کی معیشت کے لیے ایک عظیم اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اگر بیماری، غذائی قلت، ناقص طبی سہولتوں اور علاج کی مہنگائی ان کی صلاحیتوں کو محدود کر دے تو یہی انسانی سرمایہ قومی معیشت پر بوجھ بننے لگتا ہے۔
سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت کی حالت اس بحران کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ ملک کے متعدد علاقوں میں ہسپتالوں کی عمارتیں مرمت اور توجہ کی منتظر ہیں، جدید طبی آلات کی قلت ہے، تشخیصی سہولتیں محدود ہیں اور ضروری ادویات کی دستیابی بھی ہر جگہ یقینی نہیں۔ بعض مقامات پر ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی بنیادی مسئلہ ہے جبکہ کئی دور دراز علاقوں میں صحت کے مراکز موجود ہونے کے باوجود ان میں مطلوبہ سہولتیں دستیاب نہیں ہوتیں۔ نتیجتاً مریضوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں سفر، رہائش، ٹیسٹ، ادویات اور علاج کے اخراجات ان کے لیے ایک الگ معاشی آزمائش بن جاتے ہیں۔
صحت کے شعبے میں سرکاری سرمایہ کاری کی کمی کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری اپنی جیب سے اٹھاتا ہے۔ پاکستان میں علاج کے لیے ذاتی جیب سے ادا کیے جانے والے اخراجات 60 سے 70 فیصد کے درمیان بتائے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اس ملک کے لیے نہایت تشویشناک ہے جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ محدود آمدنی میں اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے۔ کسی خاندان کے ایک فرد کو سنگین بیماری لاحق ہو جائے، کوئی حادثہ پیش آ جائے یا کسی پیچیدہ طبی عمل کی ضرورت پڑ جائے تو علاج کے اخراجات پورے کرنا اس خاندان کے لیے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صحت کا بحران دراصل غربت کا بھی بحران ہے۔ ایک غریب یا متوسط گھرانہ جب علاج کے لیے اپنی جمع پونجی خرچ کرتا ہے، قرض لیتا ہے یا اپنی کوئی قیمتی چیز فروخت کرتا ہے تو اس کے پاس بچوں کی تعلیم، بہتر خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے وسائل کم رہ جاتے ہیں۔ بیماری صرف مریض کو متاثر نہیں کرتی بلکہ پورے خاندان کی معاشی ساخت کو ہلا دیتی ہے۔ کئی گھرانے علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے باعث علاج ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، جس سے بیماری مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور مستقبل میں اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
ورلڈ بینک کی جانب سے بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں صحت پر اپنی جیب سے ہونے والے اخراجات لوگوں کو غربت کی طرف دھکیلنے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔ اس حقیقت کو محض ایک معاشی اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک شہری بیماری کے باعث اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتا ہے تو ریاستی نظام کی ناکامی کا اثر صرف اس فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ ایسے خاندان کئی برس تک مالی مشکلات سے نکل نہیں پاتے اور ان کے بچوں کی تعلیم، غذائیت اور بہتر مستقبل کے امکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
دیہی اور پسماندہ علاقوں میں یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے۔ بڑے شہروں میں اگرچہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، مگر دور دراز علاقوں میں بنیادی مراکزِ صحت کی محدود تعداد، ماہر ڈاکٹرز کی عدم دستیابی، تشخیصی سہولتوں کا فقدان اور ادویات کی کمی عوام کو علاج کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک غریب دیہی خاندان کے لیے کئی گھنٹوں کا سفر بھی ایک اضافی مالی بوجھ ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بہت سے مریض ابتدائی مرحلے میں علاج حاصل نہیں کر پاتے اور بیماری اس وقت ہسپتال پہنچتی ہے جب علاج زیادہ پیچیدہ اور مہنگا ہو چکا ہوتا ہے۔
صحت کا کمزور نظام ملکی معیشت کو بھی براہِ راست نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک بیمار کارکن مسلسل اور مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتا۔ بیماری کے باعث کام سے غیر حاضری بڑھتی ہے، خاندان کی آمدنی متاثر ہوتی ہے اور کاروباری اداروں کی پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے۔ بچوں کی صحت خراب ہو تو ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، جبکہ کسی خاندان میں بیماری کا مستقل مسئلہ موجود ہو تو گھر کے دوسرے افراد بھی روزگار یا تعلیم کے بجائے مریض کی دیکھ بھال میں وقت صرف کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ یوں صحت کے شعبے میں کم سرمایہ کاری کا اثر معیشت کے تقریباً ہر شعبے تک پہنچتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق صحت پر خرچ دراصل خرچ نہیں بلکہ قومی انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ہے۔ ایک صحت مند شہری زیادہ بہتر تعلیم حاصل کر سکتا ہے، زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکتا ہے، زیادہ آمدنی پیدا کر سکتا ہے اور قومی معیشت میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس لیے صحت کے بجٹ کو محض سرکاری اخراجات کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے مستقبل کی معاشی پیداوار اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔ جس ملک میں صحت مند افرادی قوت موجود ہو وہاں پیداواری صلاحیت بہتر ہوتی ہے، غربت کم کرنے کے امکانات بڑھتے ہیں اور معاشی ترقی زیادہ پائیدار بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔
تاہم اس مسئلے کا حل صرف صحت کے بجٹ میں اضافہ کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اگر اضافی وسائل کے ساتھ شفافیت، مؤثر نگرانی، بہتر انتظامی نظام اور سخت جوابدہی نہ ہو تو بڑے بجٹ بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتے۔ سرکاری ہسپتالوں میں وسائل کی دستیابی اور ان کے درست استعمال کے درمیان فرق ختم کرنا ضروری ہے۔ ادویات کی خریداری، طبی آلات کی تنصیب، تعمیر و مرمت، عملے کی حاضری اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات، ہر شعبے میں مؤثر نگرانی کا نظام قائم ہونا چاہیے۔
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ بھی اس وسیع تر حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ محض وسائل مختص کرنا کافی نہیں، بلکہ اداروں کی انتظامی کارکردگی، نگرانی اور جوابدہی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر کسی ادارے میں انتظامی خامیاں موجود ہوں، ذمہ داریاں واضح نہ ہوں اور نگرانی کا نظام مؤثر نہ ہو تو اضافی مالی وسائل بھی بنیادی مسائل کا مستقل حل نہیں بن سکتے۔ اس لیے صحت کے نظام میں اصلاحات کا مقصد صرف زیادہ پیسہ فراہم کرنا نہیں بلکہ اس پیسے کو عوامی فائدے میں تبدیل کرنے کا مؤثر طریقہ وضع کرنا ہونا چاہیے۔
پاکستان کو ایک ایسی جامع قومی صحت پالیسی کی ضرورت ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطے کے ساتھ بنیادی صحت، ماں اور بچے کی صحت، وبائی امراض کی روک تھام، غذائیت، تشخیص، ادویات، ہسپتالوں اور ماہر طبی خدمات کو ایک مربوط نظام میں جوڑ سکے۔ بنیادی مراکزِ صحت کو مضبوط کیے بغیر بڑے ہسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ کم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عام بیماریوں کا علاج مقامی سطح پر دستیاب ہو، ابتدائی تشخیص ممکن ہو اور ضروری ادویات بروقت فراہم کی جائیں تو بڑے ہسپتالوں میں غیر ضروری رش بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح صحت کے شعبے میں نجی شعبے کے کردار کو بھی ایک منظم پالیسی کے تحت استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ نجی شعبہ جدید طبی ٹیکنالوجی، تشخیص اور علاج کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن صحت کو مکمل طور پر منافع پر مبنی شعبہ بنا دینا بھی مناسب نہیں۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر شہری، خواہ وہ کسی بھی علاقے، طبقے یا آمدنی سے تعلق رکھتا ہو، اسے کم از کم معیاری اور قابلِ استطاعت علاج تک رسائی حاصل ہو۔
صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مریضوں کا مربوط طبی ریکارڈ، ادویات کی ترسیل کی نگرانی، ہسپتالوں کی کارکردگی کا ڈیجیٹل جائزہ، آن لائن طبی مشاورت اور دور دراز علاقوں کے لیے ٹیلی میڈیسن کی سہولتیں نظام میں شفافیت اور رسائی دونوں بہتر بنا سکتی ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی کو بھی انسانی وسائل، تربیت اور بنیادی سہولتوں کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا، ورنہ یہ محض ایک نیا منصوبہ بن کر رہ جائے گی۔
قومی ترجیحات کا تعین دراصل اس بات سے ہوتا ہے کہ ریاست اپنے محدود وسائل کہاں خرچ کرتی ہے۔ اگر صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے مسلسل کم وسائل حاصل کرتے رہیں اور دوسری جانب غیر ضروری اخراجات میں کمی نہ لائی جائے تو طویل المدت قومی ترقی کا خواب شرمند? تعبیر نہیں ہو سکتا۔ صحت کو سیاسی نعروں کے بجائے مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں مگر ایک کمزور صحت کا نظام پوری قوم کو مسلسل متاثر کرتا ہے۔
تجزیہ بی این پی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو صحت کے شعبے میں محض ہنگامی اقدامات کے بجائے طویل المدت اور قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔ صحت پر سرکاری اخراجات میں بتدریج اضافہ، بنیادی مراکزِ صحت کی بحالی، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی منصفانہ تعیناتی، ضروری ادویات کی یقینی فراہمی، جدید تشخیصی سہولتوں کی توسیع اور سرکاری ہسپتالوں میں شفاف انتظامی نظام اس پالیسی کے بنیادی ستون ہونے چاہئیں۔ ساتھ ہی ہر سطح پر کارکردگی کا باقاعدہ آڈٹ اور عوام کے سامنے جوابدہی کا نظام قائم کیا جانا چاہیے۔
یہ بات اب قومی سطح پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ صحت مند قوم ہی مضبوط معیشت تشکیل دے سکتی ہے۔ بیمار، کمزور اور علاج کی سہولتوں سے محروم آبادی سے پائیدار معاشی ترقی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحت کو بجٹ کے ایک معمولی خانے کے بجائے قومی سلامتی، انسانی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھے۔ اگر آج صحت پر مناسب سرمایہ کاری کی جائے گی تو کل اس کے ثمرات بہتر تعلیم، زیادہ پیداواری صلاحیت، کم غربت، مضبوط انسانی سرمایہ اور مستحکم معیشت کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے شہریوں کی زندگی اور عزت کا تحفظ ہے۔ علاج کی سہولت کسی شہری کے لیے آسائش نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صحت کے بحران کو محض اعداد و شمار اور سالانہ بجٹ کی بحث تک محدود رکھنا چاہتا ہے یا اسے قومی ترقی کے مرکزی ایجنڈے میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ صحت کے شعبے کو ترجیحات کی صفِ اول میں لایا جائے، وسائل بڑھائے جائیں، نظام کو شفاف بنایا جائے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک صحت مند معاشرے، باوقار شہری اور مضبوط پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔