تجزیہ ۔ راجا محمد الیاس کیانی
عوامی حکومت کی اصل کامیابی محض بڑے ترقیاتی منصوبوں، بلند و بالا عمارتوں یا اعداد و شمار میں نہیں بلکہ اس بات میں مضمر ہوتی ہے کہ عام شہری کی روزمرہ زندگی کس قدر آسان، محفوظ اور باوقار بن رہی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں شہری کو صاف ستھرا ماحول، بہتر سفری سہولیات، محفوظ سڑکیں، منظم ٹریفک، مؤثر شہری خدمات اور فوری حکومتی ردعمل میسر ہو، درحقیقت وہیں اچھی حکمرانی کے ثمرات عوام تک پہنچتے ہیں۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے عوامی فلاح اور شہری سہولتوں کے مختلف منصوبوں کے ساتھ اب ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد، حادثات کی روک تھام اور سڑکوں کو محفوظ بنانے پر توجہ اسی وسیع تر حکومتی سوچ کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔لاہور میں ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق خصوصی اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر برہمی کا اظہار اس اعتبار سے اہم ہے کہ سرکاری ادارے اور سرکاری یا عوامی خدمت کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں خود قانون کی پابندی کی مثال بنیں۔ اگر ایک ایسی گاڑی جو شہری صفائی اور عوامی خدمت کے مقصد کے لیے سڑک پر موجود ہو، ٹریفک ضوابط کی خلاف ورزی کرے اور اس کے نتیجے میں کوئی قیمتی انسانی جان ضائع ہوجائے تو معاملہ محض ایک ٹریفک حادثہ نہیں رہتا بلکہ حکومتی نظام کی جواب دہی کا سوال بن جاتا ہے۔ کمسن بچی کا ستھرا پنجاب کی گاڑی تلے آکر جاں بحق ہونا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، جس نے اس امر کی ضرورت مزید نمایاں کردی ہے کہ عوامی خدمت کے تمام اداروں میں حفاظتی معیارات کو اولین ترجیح دی جائے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیراعلیٰ نے اس واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ متعلقہ گاڑیوں کو ہر صورت ٹریفک قوانین کا پابند بنانے کا حکم دیا۔ کسی بھی حکومتی پروگرام کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے نفاذ کے دوران شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ صفائی، تعمیرات، ٹرانسپورٹ، آب رسانی یا کسی بھی دوسرے شعبے میں کام کرنے والی سرکاری گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور متعلقہ عملے کے لیے تربیت، نگرانی، رفتار کی پابندی اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل ضروری ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہو تو ہی عوام میں قانون کی پاسداری کا حقیقی شعور پیدا ہوتا ہے۔
لاہور جیسے بڑے شہر میں ٹریفک کا مسئلہ صرف گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کا نتیجہ نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، سڑکوں کے استعمال، پارکنگ، پیدل چلنے والوں کی سہولت، پبلک ٹرانسپورٹ، تجاوزات، اوورلوڈنگ اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سمیت کئی عوامل سے جڑا ہوا ہے۔ شاہدرہ اور ٹھوکر نیاز بیگ جیسے اہم داخلی و خارجی راستوں پر ٹریفک جام نہ صرف شہریوں کے وقت کا ضیاع بنتا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، ایندھن کے استعمال اور ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے ان مقامات پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے فوری اور مستقل نوعیت کے اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی ہدایت اس وسیع تر حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بڑے شہروں کی ترقی صرف نئی سڑکیں بنانے سے نہیں ہوتی بلکہ موجودہ انفراسٹرکچر کے مؤثر استعمال سے بھی ہوتی ہے۔ ٹریفک مینجمنٹ میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، سگنل سسٹم کی بہتری، متبادل راستوں کی منصوبہ بندی اور شہریوں میں ٹریفک شعور پیدا کرنے کے اقدامات کو یکجا کرنا ہوگا۔
اسی تناظر میں لاہور کی معروف شاہراہوں پر بائیک لین مقرر کرنے کا فیصلہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ موٹر سائیکل پاکستان کے بڑے شہروں میں لاکھوں شہریوں کے لیے روزگار اور آمدورفت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ تاہم موٹر سائیکل سواروں کے لیے مخصوص اور محفوظ لین نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر بائیک لین کو سائن بورڈز، مناسب مارکنگ، کیمروں اور مؤثر نفاذ کے ذریعے عملی شکل دی جائے تو اس سے موٹر سائیکل سواروں اور دیگر گاڑیوں دونوں کے لیے ٹریفک کا نظام بہتر ہوسکتا ہے۔
پیدل چلنے والوں کے لیے زیبرا کراسنگ کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت بھی ایک مثبت قدم ہے۔ ہمارے شہروں میں سڑکوں کی منصوبہ بندی اکثر گاڑیوں کو مرکز بنا کر کی جاتی ہے جبکہ پیدل چلنے والا شہری سب سے زیادہ نظرانداز ہوتا ہے۔ حالانکہ ایک ترقی یافتہ شہری نظام میں پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں، موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں اور نجی گاڑیوں کے درمیان متوازن سہولت فراہم کرنا بنیادی ضرورت ہے۔ زیبرا کراسنگ پر الرٹ بٹن اور کیمروں کے ذریعے ڈیجیٹل نگرانی کا تصور اس نظام کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔
مال روڈ پر زیبرا کراسنگ کی پابندی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت بھی قابلِ توجہ ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے تو اسے لاہور کی دیگر مصروف شاہراہوں تک وسعت دی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے محض کیمرے نصب کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ خلاف ورزی پر مؤثر کارروائی، شہریوں کی آگاہی اور ٹریفک وارڈنز کی موجودگی بھی ضروری ہوگی۔ قانون اس وقت مؤثر بنتا ہے جب شہری کو یقین ہو کہ اس کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔
مال بردار ٹریکٹر ٹرالیوں کو بغیر کور کیے سڑکوں پر آنے سے روکنے کی ہدایت بھی شہری صحت اور سڑکوں کی حفاظت سے براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔ خصوصاً ستھرا پنجاب کی ٹریکٹر ٹرالیوں کو کور کرنے کی پابندی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صفائی کا کام کرنے والے ادارے خود بھی صفائی اور حفاظتی اصولوں کی پابندی کریں۔ سڑکوں پر کچرا، مٹی یا دیگر مواد گرنے سے نہ صرف ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
گنے کے سیزن سے قبل اوورلوڈنگ کے خلاف کارروائی کی ہدایت ایک دوراندیش فیصلہ ہے۔ پاکستان میں گنے کے سیزن کے دوران بھاری بھرکم ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر مال بردار گاڑیاں سڑکوں پر بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں۔ اوورلوڈنگ سے سڑکیں متاثر ہوتی ہیں، گاڑیوں کے بریک اور ٹائر زیادہ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ کارروائی صرف سیزن کے آغاز تک محدود نہ رکھیں بلکہ پورے سیزن میں مستقل نگرانی کا نظام قائم کریں۔
لاہور کی ٹریفک رینکنگ میں بہتری کا دعویٰ بھی حکومتی اقدامات کے حوالے سے حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق نمبیو گلوبل ٹریفک رینکنگ انڈیکس میں لاہور 149ویں نمبر سے بہتر ہوکر 29ویں نمبر پر آچکا ہے۔ تاہم کسی بھی رینکنگ کو حتمی کامیابی سمجھنے کے بجائے اسے مزید بہتری کے لیے ایک پیمانہ تصور کرنا چاہیے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب شہری خود محسوس کریں کہ ان کا سفر پہلے سے زیادہ محفوظ، تیز اور منظم ہوگیا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق لاہور میں ٹریفک اصلاحات کو محض انتظامی مہم بنانے کے بجائے ایک مستقل شہری پالیسی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ٹریفک قوانین کا نفاذ، پیدل چلنے والوں کا تحفظ، بائیک لین، اوورلوڈنگ کے خلاف کارروائی، داخلی و خارجی راستوں پر روانی اور ڈیجیٹل نگرانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اقدامات ہیں۔ اگر ان سب کو ایک مربوط منصوبے کے تحت آگے بڑھایا جائے تو لاہور نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں شہری ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے ایک بہتر مثال بن سکتا ہے۔اس پورے معاملے کا ایک دوسرا اہم پہلو پنجاب کے عوامی فلاحی منصوبے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت کی جانب سے عوامی سہولت کو مرکز میں رکھتے ہوئے مختلف پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کی اصل اہمیت اسی وقت ثابت ہوگی جب ان کا فائدہ شہری مراکز کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں کے عام لوگوں تک بھی پہنچے۔ ریاستی وسائل کا مقصد صرف بڑے شہروں کی خوب صورتی نہیں بلکہ ہر شہری کو بنیادی سہولتوں تک رسائی دینا ہونا چاہیے۔
عوامی فلاح کا یہی تصور صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری مختلف فلاحی پروگراموں کے حوالے سے بھی قابلِ ستائش ہے۔ صوبائی حکومتیں اگر صحت، تعلیم، روزگار، صفائی، شہری سہولت، سماجی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں عوام دوست منصوبے آگے بڑھاتی ہیں تو اس کا مجموعی اثر پورے ملک کی ترقی پر پڑتا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر ایسے منصوبے جو عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہوں، ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مثبت تجربات کا تبادلہ قومی ترقی کے لیے نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے۔
اسی حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آزاد جموں و کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کی ملاقات بھی اہم ہے۔ ملاقات میں آزاد کشمیر کی ترقی، اصلاحاتی اقدامات اور باہمی تعاون پر گفتگو ہوئی۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کے لیے 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر بھرپور عملدرآمد کے عزم کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی حکومت فوری نوعیت کے اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے عوام کو اپنی کارکردگی کا احساس دلانا چاہتی ہے۔
آزاد کشمیر جیسے خطے میں ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے مقامی ضروریات کو سامنے رکھنا انتہائی اہم ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں میں کامیاب ہونے والا کوئی منصوبہ ضروری نہیں کہ بعینہ? آزاد کشمیر کے پہاڑی اور مختلف جغرافیائی حالات رکھنے والے علاقوں میں بھی اسی انداز سے مؤثر ثابت ہو۔ البتہ حکمرانی، شفافیت، ڈیجیٹل نگرانی، عوامی سہولت، صحت، تعلیم، صفائی اور انتظامی اصلاحات کے اصول ہر جگہ قابلِ استفادہ ہوسکتے ہیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے پنجاب کے عوامی فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کو مشعلِ راہ قرار دینا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دونوں حکومتیں محض بیانات اور ملاقاتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی تعاون کے لیے واضح نظام تشکیل دیں۔ پنجاب کے کامیاب تجربات کا مطالعہ کرکے آزاد کشمیر میں مقامی حالات کے مطابق منصوبے تیار کیے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے بعض شعبوں میں موجود تجربات بھی پنجاب اور دیگر صوبوں کے لیے قابلِ استفادہ ہوسکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی یہ سمجھتا ہے کہ آج پاکستان کو سیاسی اختلافات سے زیادہ مؤثر حکمرانی، عوامی خدمت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے اچھے تجربات سے سیکھیں، ناکام منصوبوں سے سبق حاصل کریں اور عوامی وسائل کو سیاسی نمائش کے بجائے حقیقی فلاح پر خرچ کریں تو ملک کے مختلف علاقوں میں ترقی کی رفتار بہتر ہوسکتی ہے۔ عوام کو اس بات سے زیادہ غرض ہے کہ ان کے بچوں کے لیے محفوظ سڑکیں ہوں، انہیں صاف ماحول ملے، ہسپتال میں علاج میسر ہو، اسکول بہتر ہوں، سفر آسان ہو اور سرکاری ادارے ان کے مسائل حل کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی مقبولیت کا پائیدار معیار اس کے نعروں سے نہیں بلکہ شہری کے تجربے سے طے ہوتا ہے۔ اگر ایک والد اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے سڑک پر محفوظ محسوس کرتا ہے، ایک مزدور مناسب سفری سہولت کے ذریعے بروقت کام پر پہنچتا ہے، ایک بزرگ زیبرا کراسنگ پر اطمینان سے سڑک عبور کرسکتا ہے، ایک موٹر سائیکل سوار کے لیے الگ لین موجود ہے اور شہری کو صاف ماحول میسر آتا ہے تو یہ سب حکمرانی کی حقیقی کامیابیاں ہیں۔
ستھرا پنجاب جیسے پروگرام کا بنیادی مقصد بھی شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے، مگر صفائی کا نظام اس وقت مکمل تصور ہوگا جب اس سے وابستہ گاڑیوں اور عملے کے لیے بھی واضح حفاظتی ضوابط موجود ہوں۔ ایک کمسن بچی کی جان کا ضیاع پورے نظام کے لیے ایک سنجیدہ سبق ہے۔ کسی بھی حادثے کے بعد صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں؛ اس کے اسباب تلاش کرکے دوبارہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا اصل ذمہ داری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب میں سرکاری و نجی شعبے کی تمام کمرشل اور عوامی خدمت سے متعلق گاڑیوں کے لیے باقاعدہ سیفٹی آڈٹ کیا جائے۔ ڈرائیوروں کی تربیت، گاڑیوں کی فٹنس، رفتار کی نگرانی، روٹ مینجمنٹ اور حادثات کے ڈیٹا کا تجزیہ مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے گاڑیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی ممکن بنائی جائے تو نہ صرف حادثات کم کیے جاسکتے ہیں بلکہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت بھی پیدا ہوگی۔
اسی طرح لاہور کی ٹریفک اصلاحات کو صرف مال روڈ یا چند اہم شاہراہوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ شہر کے گنجان علاقوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں کے قریب پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے اور زیبرا کراسنگ یقینی بنائی جائیں۔ بچوں اور بزرگوں کے لیے سڑک عبور کرنے کی سہولت کو خصوصی ترجیح دی جائے۔ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ، میونسپل اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان مربوط رابطہ قائم کیا جائے۔
پاکستان کے بڑے شہروں کو مستقبل کی شہری ضروریات کے مطابق تیار کرنے کا وقت آچکا ہے۔ آبادی میں اضافے، گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اور شہری پھیلاؤ کے پیش نظر صرف سڑکیں کشادہ کرنا مستقل حل نہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ، پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے، بائیک لین، پارکنگ کا مؤثر نظام اور جدید ٹریفک مینجمنٹ ہی مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے تمام انتظامی علاقوں میں عوامی فلاح کے منصوبوں کو سیاسی مسابقت کے بجائے صحت مند انتظامی مقابلے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ اگر ایک صوبہ کوئی کامیاب پروگرام شروع کرتا ہے تو دوسرے صوبے اس سے سیکھیں، اس میں بہتری پیدا کریں اور اسے اپنے مقامی حالات کے مطابق نافذ کریں۔ اسی عمل سے گورننس کا معیار بلند ہوسکتا ہے۔
بالآخر اچھی حکمرانی کا مقصد یہی ہے کہ ریاست شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کرے، مشکلات میں اضافہ نہ کرے۔ لاہور میں ٹریفک قوانین کی پابندی، ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کے لیے حفاظتی اصول، پیدل چلنے والوں کے حقوق، اوورلوڈنگ کے خلاف کارروائی اور ڈیجیٹل نگرانی جیسے اقدامات اسی سمت میں اہم پیش رفت ہوسکتے ہیں۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار مستقل مزاجی، بلاامتیاز قانون نافذ کرنے اور ادارہ جاتی جواب دہی پر ہوگا۔
اگر پنجاب حکومت اپنے عوامی فلاحی منصوبوں کے ساتھ ٹریفک اور شہری نظم و ضبط کے میدان میں بھی عملی اصلاحات کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے اور خیبر پختونخوا و آزاد کشمیر سمیت دیگر صوبائی حکومتیں بھی ایک دوسرے کے کامیاب تجربات سے استفادہ کرتی ہیں تو اس کے نتیجے میں ایک ایسا انتظامی کلچر تشکیل پاسکتا ہے جس میں حکومت کا مرکز سیاست نہیں بلکہ شہری ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کے شہروں کو محفوظ، صاف، منظم اور رہنے کے قابل بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ عوامی فلاح کے منصوبے اسی وقت تاریخ ساز بنتے ہیں جب ان کے ثمرات عام آدمی کی زندگی میں صاف دکھائی دیں، اور حکمرانی کا اصل امتحان بھی یہی ہے۔
عوامی فلاح کا سفر، محفوظ سڑکیں اور مؤثر طرزِ حکمرانی
Prev Post
پاکستان، کرغزستان کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
Next Post