jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

بلوچستان میڈیا فورم کا مرکزی سیشن ،اہم فیصلوں کا اعلان

بی ایم ایف کا پہلا مرکزی سیشن، آئین و منشور کی منظوری، ڈیجیٹل میڈیا پالیسی مسترد، تنظیمی دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ

کوئٹہ(پ ر) بلوچستان میڈیا فورم کا پہلا مرکزی سیشن مرکزی صدر قیوم بلوچ کی صدارت میں کوئٹہ میں منعقد ہوا۔جس میں فورم کی مرکزی کابینہ، مرکزی عہدیداران، اراکین سینٹرل کمیٹی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سبی، مچھ بولان، بھاگ، صحبت پور، بختیار آباد، ڈیرہ مراد جمالی، گوادر اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مرکزی ڈویژنل عہدیداران و اراکین سینٹرل کمیٹی نے شرکت کی۔

اجلاس میں تنظیمی امور، صحافیوں کے حقوق، لوکل پرنٹ میڈیا کے تحفظ اور بلوچستان بھر میں میڈیا کارکنوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ فورم کے آئین و منشور کی منظوری سمیت اہم تنظیمی فیصلے بھی کئے گئے۔اجلاس سے مرکزی صدر قیوم بلوچ، سیکرٹری جنرل اللہ داد رند، رمضان بھٹو، محمد علی ہزارہ، مشتاق عزیز کھوسہ، شیخ فرید، ڈاکٹر رضا، گووندا راہیجہ، عبدالمنان صلاحی، اصغر بلوچ، اسد سندیلہ اور دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے حکومت بلوچستان کی جانب سے نافذ کی گئی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2026 کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں لوکل پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہزاروں صحافیوں، نامہ نگاروں، رپورٹرز، فوٹوگرافرز اور دیگر میڈیا کارکنوں کے معاشی حقوق اور روزگار متاثر ہوں گے، لہذا صوبائی حکومت فوری طور پر اس پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے واپس لے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان میں مقامی اخبارات اور ان سے وابستہ میڈیا کارکن صوبے کے دور دراز علاقوں میں عوامی مسائل اجاگر کرنے اور حکومت و انتظامیہ تک عوام کی آواز پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں، اس لئے انہیں نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے معاشی و پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

بلوچستان میڈیا فورم کے رہنماں نے واضح کیا کہ صوبے کے کسی بھی علاقے میں میڈیا سے وابستہ کسی شخص کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی اور صحافیوں کے بنیادی، قانونی اور پیشہ ورانہ حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں مختلف علاقوں میں انتظامیہ اور بعض سرکاری افسران کی جانب سے نامہ نگاروں کے ساتھ نامناسب رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ اختیار کیا جائے اور ان کے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔

اجلاس میں مختلف علاقوں کے پریس کلبز پر مخصوص گروہوں کی اجارہ داری کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ پریس کلبز تمام صحافیوں کے مشترکہ ادارے ہیں، ان پر کسی فرد یا مخصوص گروہ کی اجارہ داری قابل قبول نہیں۔اجلاس میں مختلف علاقوں کے نامہ نگاروں کے خلاف قائم مقدمات کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ صحافتی فرائض کی ادائیگی کے دوران قائم کئے گئے مقدمات فوری طور پر ختم کئے جائیں اور صحافیوں کو آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے کا ماحول فراہم کیا جائے۔مقررین نے کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم کسی فرد، گروہ یا تنظیم کے خلاف نہیں بلکہ صوبے بھر کے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لئے قائم کیا گیا ہے۔

فورم صوبے کے تمام علاقوں کے صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے ان کے مسائل کے حل، لوکل پرنٹ میڈیا کے تحفظ اور صحافت کے شعبے سے وابستہ افراد کے معاشی استحکام کے لئے عملی جدوجہد جاری رکھے گا۔ مرکزی صدر قیوم بلوچ نے کہا۔کہ صوبے کے کسی بھی کونے میں میڈیا سے وابستہ فرد کے ساتھ زیادتی ہوئی تو فورم اس کی آواز بنے گا۔انہوں نے کہا کہ لوکل پرنٹ میڈیا بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آج بھی عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہے، اسے کمزور کرنے والی کسی بھی پالیسی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میڈیا فورم آئین و منشور کے مطابق صحافیوں کے حقوق، آزادی صحافت، لوکل پرنٹ میڈیا کے تحفظ اور میڈیا کارکنوں کے معاشی و پیشہ ورانہ مفادات کے لئے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More