گوادر(جہان امروز نیوز)گوادر میں چینی سرمایہ کار گروپ کا بڑا فیصلہ، آپریشنل رکاوٹوں کے باعث فیکٹری بند کرنے اور تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان
تفصیلات کے مطابق یکم مئی 2026 کو مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر گوادر بندرگاہ پر کام کرنے والے معروف چینی سرمایہ کار ادارے ‘ہان گینگ گروپ’ نے پاکستان اور چین میں اپنے تمام آپریشنز فوری طور پر بند کرنے اور فیکٹری کو تالے لگانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی قدم مسلسل درپیش غیر مارکیٹ عوامل اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے جس نے کاروبار کو مزید چلانا ناممکن بنا دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق ان کی تنصیبات چائنا کسٹمز کے سخت معائنے اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی کے معیارات (HACCP) پر مکمل طور پر پوری اترتی ہیں، لیکن اس کے باوجود عملی طور پر برآمدات کے لیے ضروری منظوری حاصل کرنے میں مسلسل ناکامی کا سامنا رہا۔
کمپنی نے واضح کیا کہ گزشتہ تین ماہ سے کمپنی ہر سطح پر تعاون اور صبر کا مظاہرہ کر رہی تھی، تاہم اس دوران ملازمین کی تنخواہوں، بجلی کے بلوں، معاہدوں کے جرمانوں اور کنٹینرز کے ڈیمرج کی مد میں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
ادارے نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے اہم منصوبوں کا حصہ ہونے کے باوجود انہیں ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جو کسی بھی نجی ادارے کے بس سے باہر ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے انتظامی سطح پر موجود غیر یقینی صورتحال اور پالیسیوں کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو اپنی بندش کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم پاکستان رواں ماہ چین کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔
کمپنی نے اس دورے کے تناظر میں دیگر ممکنہ چینی سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے قبل پالیسیوں کے نفاذ میں موجود خلیج اور ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔
بیان کے اختتام پر کمپنی نے اپنے تمام پاکستانی اور چینی ملازمین سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں مزید روزگار فراہم کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ گوادر کی ترقی اور زرمبادلہ کی فراہمی کے لیے تیار تھے لیکن ایک واضح اور مستحکم پالیسی ماحول نہ ملنے کی وجہ سے انہیں یہ کٹھن فیصلہ کرنا پڑا۔ ہان گینگ گروپ کے اس فیصلے کو خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور پالیسیوں کے تسلسل کے حوالے سے ایک اہم انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
