لاہور(بزنس نیوز)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے رواں سال اکتوبر میں شیڈول ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش کیلئے فنڈزکی منظوری نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی ایونٹ کی تیاریوں اور غیر ملکی خریداروں سے بروقت رابطوں کیلئے بلا تاخیر فنڈز کی منظوری نا گزیر ہے ،18نمایاں ایکسپورٹرز جولائی میں چین میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش میں شرکت کیلئے رجسٹریشن کرا چکے ہیں تاہم ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کی جانب سے سبسڈی کا معاملہ بھی تاحال التواء کا شکار ہے جس سے پاکستان کے اپنی مصنوعات کی تشہیر کیلئے بڑے پلیٹ فارم سے محروم رہنے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا اجلاس چیئرمین میاں عتیق الرحمن کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک ،وائس چیئرمین ریاض احمد ، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن، میجر (ر) اختر نذیر، خواجہ میر مدثر ،سعید خان ،سعد اعجاز الرحمن اور دیگر شریک ہوئے ۔ اجلاس میں شرکاء نے طویل مشاورت کے بعد ہاتھ سے بنے قالینوں کی تین روزہ 42ویں عالمی نمائش کے لئے 6سے 8اکتوبر 2026تاریخوں کا فیصلہ کیا ۔ میاں عتیق الرحمن اور ریاض احمد نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات پہلے ہی تنزلی کا شکار ہیں ایسے حالات میں مینو فیکچررز اور برآمد کنندگان کو ریلیف اور مراعات دینے کی بجائے مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔
ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی نمائش میں شرکت کے لئے پاکستان آنے والے غیر ملکی خریدار لاکھوں ڈالرز کے سودے کرتے ہیں اور رواں سال تذبذب کی صورتحال کی وجہ سے مینو فیکچررز اور برآمد کنندگان شدید تشویس میں مبتلا ہیں ۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان سے مطالبہ ہے کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی نمائش کیلئے جلد از جلد فنڈز کی منظوری دی جائے تاکہ غیر ملکی خریداروں کیلئے ہوٹل بکنگ اور ان سے رابطے کر کے ہاسپیٹلٹی پیکج کی پیشکش کی جا سکے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان سے18نامور ایکسپورٹرز جولائی میں چین میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش میں شرکت کے لئے اپنی رجسٹریشن کرا چکے ہیں لیکن ان کے لئے بھی تاحال 80/20فارمولے کے تحت سبسڈی کا اجراء نہیں کیا جارہا ہے ۔ نمائش میں شرکت کے لئے1200ڈالر فی سٹال فیس مقرر کی گئی ہے جبکہ سفری اور فریٹ کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں ۔مزید مطالبہ ہے کہ ترکیہ اور جرمنی میں منعقد ہونے والی نمائشوں کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے مینو فیکچررز اور ایکسپورٹرز کے لئے سبسڈی کا اعلان کیا جائے تاکہ عالمی نمائشوں میں شرکت کیلئے پیشگی تیاریوں کا آغاز کیا جا سکے ۔
