تحریر: رشیداحمدنعیم
ریاست کے کسی بھی نظام کا اصل حسن اُس کے اداروں کے کردار سے پہچانا جاتا ہے اور اداروں میں بھی سب سے زیادہ حساس، نازک اور انسان دوست شعبہ محکمہ صحت کو سمجھا جاتا ہے۔ ایک بیمار انسان جب ہسپتال کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ محض دوا لینے نہیں آتا بلکہ اُمید، توجہ، ہمدردی اور تسلی کی تلاش میں آتاہے۔ ڈاکٹر کے چہرے پر موجود شفقت، اُس کے لہجے کی نرمی اور مریض کی بات سننے کا انداز بعض اوقات دوا سے زیادہ اثر رکھتا ہے مگر جب یہی ہسپتال بے حسی، غفلت اور رسمی کارروائیوں کے مراکز بن جائیں تو مریض کے جسم کے ساتھ اُس کی روح بھی زخمی ہو جاتی ہے۔8مئی2026کو راقم الحروف کو بطورِ مریض تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتال کوٹ رادھاکشن ضلع قصور جانے کا اتفاق ہوا۔ معمول کے مطابق پرچی بنوائی اور معائنے کے لیے ڈاکٹر کے کمرے میں حاضر ہوا۔ باری آنے پر ڈاکٹر صاحب نے محض اشارے سے مسئلہ پوچھا۔راقم الحروف نے ابھی صرف اتنا کہا تھا کہ ”الرجی ہے“ اور اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا اور سر دکھانے کے لیے تھوڑا سا جھکا مگر ڈاکٹر صاحب چند لمحوں میں نسخہ لکھ چکے تھے۔ نہ یہ پوچھا گیا کہ تکلیف کب سے ہے۔ نہ سابق علاج کے بارے میں استفسار کیا گیا۔ نہ الرجی کا معائنہ کیا گیا۔نہ احتیاطی تدابیر سمجھانے کی زحمت کی گئی اور نہ ہی مرض کی نوعیت جاننے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے مریض کی کیفیت سننے سے پہلے ہی علاج کا فیصلہ کر لیا گیا ہو۔ یہ سارا عمل چند لمحوں میں مکمل کر لیا گیا۔(سی سی ٹی وی کیمروں سے مکمل کارروائی ملاحظہ فرمائی جا سکتی ہے)۔
راقم الحروف پرچی ہاتھ میں لیے کمرے سے باہر نکلا تو ذہن عجیب سوالات کے حصار میں قید ہو گیا۔ کیا واقعی طب جیسے عظیم اور مقدس پیشے کا تقاضا یہی رہ گیا ہے؟ کیا ایک انسان کی بیماری محض چندسیکنڈ میں سمجھی جا سکتی ہے؟ کیا مریض کی بات مکمل سننا اب معالج کی ذمہ داری میں شامل نہیں رہا؟ اگر تشخیص ہی رسمی انداز میں ہو تو علاج کی افادیت کیسے ممکن ہے؟اصل المیہ صرف یہ نہیں کہ دو گولیاں لکھ دی گئیں بلکہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک انسان کو ”انسان“ سمجھنے کی بجائے محض ایک پرچی، ایک نمبر اور ایک اضافی بوجھ تصور کر لیا گیا۔ حالانکہ طب صرف دوا تجویز کرنے کا نام نہیں بلکہ مشاہدے، سوال، تشخیص، توجہ اور نفسیاتی تسلی کا مجموعہ ہے۔
دنیا بھر کی میڈیکل سائنس اِس حقیقت پر متفق ہے کہ درست تشخیص کے لیے مریض کی مکمل ہسٹری لینا بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے مگر جب مریض کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی نسخہ لکھ دیا جائے تو یہ محض پیشہ ورانہ غفلت نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری سے ”صرفِ نظر“بھی محسوس ہوتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں یہ رویہ ایک فرد تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک اجتماعی بیماری بن چکا ہے۔ بعض ڈاکٹرز ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے وہ فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے لیے نہیں بلکہ وقت پورا کرنے آئے ہیں۔ مریض اُن کے لیے انسان نہیں بلکہ فائلیں بن چکے ہیں۔ نہ چہرے پر مسکراہٹ، نہ لہجے میں نرمی، نہ توجہ، نہ دلچسپی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہسپتال علاج گاہ کم اور وقت گزاری کے مراکز زیادہ بن گئے ہیں۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ڈاکٹرز پر کام کا دباؤ ہوتا ہے۔سہولیات ناکافی ہیں۔عملہ کم ہے۔ تنخواہوں و وسائل کے مسائل بھی موجود ہیں مگر اِن تمام مشکلات کے باوجود مریض کے ساتھ بنیادی انسانی رویہ اختیار کرنا ہرگز ناممکن نہیں۔ ایک ڈاکٹر اگر دو منٹ مریض کی بات سن لے، اُس کی کیفیت دیکھ لے، چند سوال پوچھ لے اور تسلی دے دے تو آدھی بیماری وہیں ختم ہو جاتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انتظامی نگرانی کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اگر ہسپتالوں میں حاضری، روئیے، تشخیص اور مریضوں سے برتاؤ کا باقاعدہ احتساب ہو تو حالات کافی بہتر ہو سکتے ہیں۔ صرف عمارتیں تعمیر کر دینا، مشینیں مہیا کر دینا یا بجٹ بڑھا دینا کافی نہیں ہوتا۔ اصل چیز انسان ہے اور جب نظام کے اندر بیٹھا انسان اپنی ذمہ داری محسوس کرنا چھوڑ دے تو پورا ڈھانچہ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
اگر ایک ڈاکٹر مریض کو دیکھے بغیر دوا لکھ دے، اُس کی کیفیت جانے بغیر علاج شروع کر دے اور صرف رسمی کارروائی پوری کرے تو پھر سوال صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا بن جاتا ہے۔ ایسے عناصر نہ صرف اپنے پیشے کی توہین کرتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ محکمہ صحت میں اصلاحات صرف کاغذی نہ ہوں بلکہ عملی سطح پر دکھائی دیں۔ دیہی مراکزِ صحت اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں خفیہ انسپکشن کا موثر نظام بنایا جائے۔ مریضوں سے براہِ راست فیڈ بیک لیا جائے۔ غفلت برتنے والے ڈاکٹرز اور عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے تاکہ نظام خوف اور سزا کی بجائے احساسِ ذمہ داری پر کھڑا ہو۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹرز کو یاد دلایا جائے کہ اُن کا پیشہ صرف ملازمت نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتاہے۔ ایک مریض جب ہسپتال آتا ہے تو وہ اپنی تکلیف، بے بسی اور اُمید سب کچھ ڈاکٹر کے سپرد کر دیتا ہے۔ اُس اعتماد کو ٹھیس پہنچانا محض پیشہ ورانہ کوتاہی نہیں بلکہ اخلاقی جرم بھی ہے۔ اگر سرکاری ہسپتالوں میں یہی روش برقرار رہی تو غریب آدمی کے لیے علاج ایک اذیت بن جائے گا۔ پھر عوام کا اعتماد سرکاری اداروں سے مکمل طور پر اُٹھ جائے گا اور نجی ہسپتالوں کی مہنگی دیواریں اُن کی مجبوری بن جائیں گی۔ ریاست اگر واقعی فلاحی تصور رکھتی ہے تو اُسے ہسپتالوں میں انسانیت کو واپس لانا ہوگا کیونکہ دوا سے پہلے رویہ علاج کرتا ہے اور مسیحا وہی ہوتا ہے جو مریض کے درد کو محسوس کرے۔قوموں کے ادارے صرف عمارتوں، مشینوں اور بجٹ سے زندہ نہیں رہتے بلکہ انسانیت، احساسِ ذمہ داری اور اخلاقی دیانت سے مضبوط ہوتے ہیں۔ جب معالج مریض کے درد کو محسوس کرنا چھوڑ دے تو دوا بھی اپنی تاثیر کھو دیتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں انسان دوستی کی بحالی ہی عوامی اعتماد کی اصل ضمانت بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *