گلگت /پشاور (بیورورپورٹ)پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر اور ان کیساتھیوں کو گلگت بدر کردیا گیا، پولیس حکام کے مطابق جنید اکبر کے ساتھ ان کے دیگر 6 ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ جنید اکبر کی گرفتاری اور انہیں الیکشن مہم سے روکنا قابل مذمت ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی سیاسی اسپیس نہ دینے سے جمہوریت کا نقصان ہوگا، الیکشن مہم سے روکنا انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف ہے۔قبل ازیں پولیس حکام نے بتایا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر کو گرفتار کر لیا گیا
جنید اکبر اور ان کے ساتھیوں کو ہینزل کے مقام سے گرفتار کیا گیا۔جنید اکبر کے ساتھ ان کے دیگر چھ ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا، زیرحراست افراد میں محبوب شاہ، سلیم الرحمان، ڈاکٹر امجد علی خان شامل ہیں، محمد نعیم خان، ضیاء الدین اور ارشد معیار کو بھی حراست میں لیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر اور ان کے ساتھیوں کو گلگت بدر کر دیا گیا۔
اپنے بیان میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو انتخابی مہم سے دور رکھنا بدترین سیاسی انتقام ہے، سیاسی آزادی سلب کرنا جمہوری اقدار کی نفی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی معاملے میں فوری مداخلت کریں۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا گلگت بلتستان میں سیاسی میدان یک طرفہ بنانے کی سازش ہورہی ہے، انتخابی مہم روکنے کے ہتھکنڈے جمہوریت کیلئے خطرناک ہیں، انہوں نے الیکشن سے پہلے سیاسی دبا بڑھانیکو عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ گلگت بلتستان ساجد علی بیگ نے جنید اکبر کو گلگت بدر کرنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر اور ان کے ساتھیوں نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔
وزیر داخلہ گلگت بلتستان نے کہا کہ جنید اکبر بغیر اجازت اور اطلاع جگلوٹ پہنچے اور ریلی سے خطاب کیا، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر نے گلگت میں بھی بنا اجازت ریلی نکالی۔ انھوں نے کہا کہ جنید اکبر کو این او سی لینے کا کہا گیا تھا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
ساجد علی بیگ نے کہا کہ خلاف ورزی پر جنید اکبر اور انکے ساتھیوں کو غذر جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا، انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جنید اکبر کو گلگت بدر کیا گیا۔ وزیر داخلہ گلگت بلتستان نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلا تفریق کارروائی ہوگی۔
