واشنگٹن (رائٹرز): امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔ یہ پیش رفت کانگریس میں صدر ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔
قرارداد کے حق میں 215 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 208 نے مخالفت کی۔ چار ریپبلکن اراکین نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قرارداد کی حمایت کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ کی اپنی جماعت میں بھی ایران تنازع پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
قرارداد کے مطابق صدر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران سے امریکی فوجی دستے واپس بلائیں، جب تک کانگریس باقاعدہ طور پر جنگ کا اعلان یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے دے۔
اگرچہ یہ اقدام فی الحال علامتی نوعیت کا ہے اور قانون بننے کے لیے سینیٹ کی منظوری بھی ضروری ہے، تاہم اس کے باوجود اسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کی کوششیں ایوان میں ناکام ہوتی رہی تھیں، لیکن اس بار فرق سے منظور ہو جانا ایک بڑی تبدیلی ظاہر کرتا ہے۔
قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی ایوان نے یوکرین کی حمایت سے متعلق ایک الگ معاملے پر بھی پیش رفت کی، جس کے تحت روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو سکیورٹی امداد فراہم کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے پاس، اور موجودہ جنگ میں واضح حکمت عملی کے بغیر امریکہ کو ایک طویل تنازع میں دھکیلا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنما اس قرارداد کو سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ امریکی قومی سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران تنازع پر واشنگٹن میں سیاسی تقسیم مزید واضح ہو رہی ہے۔
