کوئٹہ کی ایک کھوئی ہوئی یاد

تحریر: عبدالواحد کاکڑ

کوئٹہ کی، جسے برطانوی دور میں “لٹن روڈ” (Lytton Road) کہا جاتا تھا، آج شہر کے اہم ترین انتظامی اور سرکاری مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ ، اور دیگر اہم سرکاری عمارتیں اسی شاہراہ پر واقع ہیں۔ مگر اس کی اصل پہچان محض سرکاری ادارے نہیں تھے، بلکہ وہ قدرتی حسن تھا جس نے اسے عوام کے دلوں میں “ٹھنڈی سڑک” کے نام سے زندہ رکھا۔
سڑک کے دونوں جانب بلند و بالا چنار کے درخت قطار در قطار کھڑے تھے۔ ان کی شاخیں اوپر جا کر اس طرح ایک دوسرے میں گتھ جاتی تھیں کہ پورا راستہ قدرتی محراب کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔ دن کے بیشتر حصے میں سورج کی روشنی زمین تک کم ہی پہنچتی تھی، اور گرمیوں میں بھی یہاں سے گزرنے والے ٹھنڈی ہوا اور خنکی کا احساس کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اہلِ کوئٹہ اسے محبت اور فخر سے “ٹھنڈی سڑک” کہتے تھے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ درخت برطانوی دور میں لگائے گئے تھے۔ مقامی روایات انہیں افغانستان سے منسوب کرتی ہیں، تاہم تاریخی طور پر یہ بات زیادہ تر زبانی روایت پر مبنی سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ یہ چنار اُس وقت کے برطانوی ہند کے منظم نرسری نظام سے حاصل کیے گئے تھے، یا پھر شمالی ہند کے ہمالیائی خطے، خصوصاً کشمیر، شملہ یا ڈیرہ دون کی نرسریوں سے لائے گئے تھے۔ چنار (Platanus orientalis) کی یہ نسل پہلے ہی سے اس وسیع خطے میں معروف تھی، اس لیے اس کی منتقلی مختلف علاقوں سے ممکن تھی۔ یوں یہ درخت کسی ایک متعین ملک کی نسبت کے بجائے اُس دور کے شجرکاری نظام کا حصہ تھے، جنہوں نے بعد میں کوئٹہ کی شناخت کو تشکیل دیا۔
یہ علاقہ صرف درختوں کی چھاؤں تک محدود نہیں تھا بلکہ یہاں پرندوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔ سبز طوطے، مینائیں اور دیگر پرندے ان درختوں میں بسیرا کرتے تھے۔ صبح ان کی چہچہاہٹ سے فضا جاگتی اور شام کو ایک نرم نغمگی میں ڈوب جاتی تھی۔ یوں یہ سڑک صرف راستہ نہیں بلکہ فطرت کا ایک زندہ منظرنامہ تھی۔
وقت کے ساتھ جیسے جیسے شہر میں آبادی اور ٹریفک بڑھا، زرغون روڈ کو کشادہ اور دو رویہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترقی کے اس عمل میں سڑک کے دونوں اطراف کے بے شمار پرانے درخت کاٹ دیے گئے۔ نتیجتاً وہ گھنی چھاؤں، وہ ٹھنڈک اور وہ حسن جو اس کی پہچان تھا، آہستہ آہستہ ماند پڑ گیا۔ اب یہ سڑک ایک مصروف شاہراہ تو ہے، مگر اپنی فطری روح کھو چکی ہے۔
چند برس قبل نے اس علاقے کو ایک گہرا زخم دیا۔ اس سانحے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ اندازاً آٹھ پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے جو ریڈ زون میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے، جبکہ متعدد راہ گیر بھی اس کی زد میں آ گئے۔ اس کے ساتھ درختوں میں بسیرا کرنے والے پرندے بھی متاثر ہوئے۔ دھماکے کی شدت نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ لمحہ کوئٹہ کی تاریخ کا ایک دردناک باب بن گیا۔
اس رات کا منظر آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ تقریباً 9 بج کر 25 منٹ پر سول سیکرٹریٹ کے بلاک نمبر 1 میں اچانک بجلی منقطع ہوئی۔ چند لمحوں بعد شیشوں کے ٹوٹنے کی آوازیں آئیں اور پھر ایک زوردار دھماکے نے پورے علاقے کو لرزا دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ریڈ زون کی بیشتر عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔
میں فوراً دفتر سے باہر نکلا۔ ہر طرف اندھیرا تھا، سڑکوں پر گری ہوئی بجلی کی تاریں اور درختوں کی ٹوٹی ہوئی شاخیں بکھری پڑی تھیں۔ ریڈ زون کے دونوں اطراف راستے بند تھے، اس لیے میں نے گاڑی فیڈرل لاجز کے مرکزی دروازے سے اندر داخل کی تاکہ متبادل راستہ مل سکے۔
فیڈرل لاجز کے پچھلے حصے میں موجود گیٹ گلی کی طرف کھلتا تھا مگر وہ اس وقت بند تھا۔ عملے نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وہ گیٹ کھولا، جس کے بعد راستہ ممکن ہوا۔ اندرونی راستوں پر بھی تاریں اور شاخیں گری ہوئی تھیں، اور ہر طرف غیر یقینی اور خوف کا ماحول تھا۔
اسی دوران ایک زخمی شخص اپنے گھر کے باہر بیٹھا ملا، جس کا گھر آئی جی ہاؤس کے قریب تھا۔ اس نے درخواست کی کہ اسے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (CMH) پہنچایا جائے۔ میں نے اسے اور اس کی اہلیہ کو فوراً گاڑی میں بٹھایا اور ہسپتال روانہ ہوا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ بے نظیر ہسپتال میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھیں۔
سی ایم ایچ میں انہیں اتارنے کے بعد میں واپس روانہ ہوا، مگر اس رات کے مناظر- ٹوٹے شیشے، گری شاخیں، زخمی چہرے اور خاموش سڑکیں- آج بھی ذہن میں نقش ہیں۔ اس رات کی بے بسی اور خوف آج تک یادوں میں زندہ ہے۔
آج جب پرانے کوئٹہ کے باسی “ٹھنڈی سڑک” کا ذکر کرتے ہیں تو وہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ ایک پورا عہد یاد کرتے ہیں؛ چناروں کی گھنی چھاؤں، ٹھنڈی ہوائیں، پرندوں کی آوازیں اور ایک پرسکون شہر۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ درخت صرف ماحول نہیں ہوتے بلکہ شہروں کی تاریخ، شناخت اور اجتماعی یادوں کا حصہ ہوتے ہیں۔

درخت کاٹنے میں چند لمحے لگتے ہیں، مگر ان جیسا سایہ پیدا کرنے میں کئی دہائیاں بیت جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *