اوستہ محمد(نمائندہ خصوصی)اوستہ محمد کھیر تر کنال میں زرعی پانی کی شدید شارٹ فال سندھ بلوچستان کے حصے کا پانی چوری کر رہا ہے 1200 کیو سک پانی دینے کے بجائے 500 کیو سک پانی فراہم کر رہا ہے زمینداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی خریف کی فصل کاشت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں حکام بالا اس جانب فوری نوٹس لیں تفصیلات کے مطابق خریف کسی زن قریب ہونے کے ساتھ ساتھ کھیر تر کنال میں زرعی پانی کی شدید شارٹ فال پیدا ہو گیا زرعی پانی کی قلت کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہونے کا خدشہ مقامی زمیندار و کاشتکار خریف کی فصل سے محروم ہو جائیں گے

سپرنٹنڈنگ انجینیئر ایریگیشن سرکل نصیر اباد مدثر ظفر کھوسہ کا کیرتھر کا دورہ کیرتھر کینال میں پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی پر تشویشناک کا اظہار کیاسپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے یو این اے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ RD-102 گھڑنگ ریگولیٹر پر کیرتھر کینال کو فراہم کیے جانے والے پانی میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے باعث بلوچستان کے زرعی اور آبپاشی نظام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کیرتھر کینال ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کیرتھر کینال کا گیج 3.90 فٹ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں صرف 571 کیوسک پانی کا اخراج ہو رہا تھا، جبکہ بلوچستان کے لیے مقررہ اور مجاز حصہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس صورتحال سے متعلق متعلقہ حکام اور اداروں کو باضابطہ طور پر آگاہ بھی کیا جا چکا ہے۔

مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ سندھ کی آبپاشی اتھارٹیز نہری نظام کو اپنی ضروریات کے مطابق ریگولیٹ کر رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کو ارسا کی جانب سے منظور شدہ پانی کا جائز حصہ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو بلوچستان کے حصے کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی تھی، تاہم اس کے باوجود کیرتھر کینال میں پانی کے اخراج میں روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی سپلائی میں بلاجواز اور مسلسل کمی سے محکمہ آبپاشی بلوچستان کی منصوبہ بندی، آپریشنل سرگرمیوں اور زرعی ترقی کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔

حکومت بلوچستان زرعی رقبے میں اضافے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تاہم پانی کی قلت ان کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کی روح اور شقوں کے بھی منافی ہیں، جس میں بلوچستان کے پانی کے حق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کو فوری طور پر حکومت سندھ کے متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ RD-102 گھڑنگ ریگولیٹر پر کیرتھر کینال میں بلوچستان کے مختص کردہ پانی کی مکمل، بلاتعطل اور منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور پانی کے اخراج میں کی جانے والی بلاجواز کمی کا فوری سدباب کیا جائے۔ دورے کے دوران ایس ڈی او اور دیگر متعلقہ عملہ بھی موجود تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *