وزیر داخلہ محسن نقوی نے رپورٹ طلب کرلی، ملزم کی فوری گرفتاری اور لواحقین کو انصاف دلانے کی ہدایت

اسلام آباد…… اسلام آباد کے علاقے شاہین چوک میں خاتون کو مبینہ طور پر اغوا سے بچانے کے دوران پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق فائرنگ سے شہید ہوگئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ ملزم ایک خاتون کو زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران نائنتھ ایونیو سے گزرنے والے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق نے صورتحال دیکھ کر ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے مداخلت کی اور دونوں فریقین کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی گروپ کیپٹن عاصم طارق موٹرسائیکل سوار کے قریب پہنچے، خاتون بھاگ کر ان کی گاڑی کی دوسری جانب آگئی۔ اس دوران مبینہ ملزم سعد نے پہلے بدکلامی کی اور پھر اچانک فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گروپ کیپٹن عاصم طارق موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ ملزم فرار ہوگیا۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور خاتون کو تحویل میں لے کر اس کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ خاتون کے مطابق ملزم اس کا دفتر میں کولیگ تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی، تاہم بعد میں راستہ تبدیل کرکے زبردستی کسی اور مقام پر لے جانے کی کوشش کی۔ خاتون نے بتایا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق نے بروقت مداخلت کرکے اسے بچایا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خاتون کو بچانے کے دوران گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی ہے۔ انہوں نے آئی جی اسلام آباد پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے اور شہید کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اپنے پیچھے بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی جرات اور قربانی کو ملک بھر میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *