jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

نوشکی.بینک بندش سے تنخواہوں اور کاروباری امور متاثر

یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی، تنخواہوں کا حصول اور کاروباری امور معطل، حکام سے فوری سروسز بحال کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ/نوشکی(سٹاف رپورٹر)نوشکی میں سکیورٹی صورتحال کے باعث 31 اگست تک تمام بینکوں کی بندش نے شہریوں، سرکاری ملازمین، تاجروں، کاروباری حضرات اور عام کھاتہ داروں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

بینکنگ سروسز کی طویل بندش سے نہ صرف عوام اپنے روزمرہ مالی معاملات انجام دینے سے محروم ہیں بلکہ مختلف سرکاری و نجی اداروں کے مالی معاملات بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

بینک بند ہونے کے باعث سرکاری ملازمین کو تنخواہیں اکانٹس میں منتقل ہونے کے باوجود رقم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے لین دین، چیک کلیئرنس، رقم جمع کرانے اور دیگر بینکاری امور تقریبا معطل ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب بینکوں کی بندش سے کیسکو، پی ٹی سی ایل، سوئی سدرن گیس کمپنی سمیت مختلف اداروں کے صارفین بھی متاثر ہورہے ہیں۔ شہری بینکوں کے ذریعے بجلی، ٹیلی فون، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی سمیت مختلف مالی معاملات بروقت انجام نہیں دے پارہے، جس سے نہ صرف صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ متعلقہ اداروں کی وصولیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ پہلے ہی طویل بندش، کاروباری سرگرمیوں میں کمی اور آمدورفت کی مشکلات کے باعث نوشکی کی معیشت دبا کا شکار ہے، ایسے میں بینکنگ نظام کی طویل بندش نے کاروباری سرگرمیوں کو مزید محدود کردیا ہے۔ چھوٹے کاروباری افراد، دکانداروں اور عام شہریوں کے لیے نقد رقم کا انتظام بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

شہریوں کے مطابق بینک صرف رقم نکلوانے یا جمع کرانے کا ذریعہ نہیں بلکہ تنخواہوں، پنشن، سرکاری ادائیگیوں، یوٹیلیٹی بلز، کاروباری لین دین اور دیگر مالی معاملات کا بنیادی نظام ہیں۔

طویل عرصے تک بینک بند رہنے سے اس پورے نظام پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نوشکی میں بینکنگ سروسز کی بحالی کے لیے قابلِ عمل اور محفوظ طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ سکیورٹی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو بنیادی مالی سہولیات فراہم کی جاسکیں اور سرکاری و نجی اداروں کو مزید مالی نقصان سے بچایا جاسکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ 31 اگست تک بینکوں کی بندش ایک طویل مدت ہے، اس لیے حکومت اور متعلقہ حکام فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More