jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سانحہ 8 اگست کو دس برس بیت گئے، شہدائے سول اسپتال کوئٹہ کی یادیں آج بھی تازہ

سول اسپتال کے شعبہ حادثات میں قیامت خیز دھماکہ، بلوچستان کے نامور وکلا سمیت درجنوں افراد شہید

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)سانحہ 8 اگست 2016 کو دس برس بیت گئے، مگر سول اسپتال کوئٹہ کے شعبہ حادثات میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ بلوچستان کی تاریخ کے اس المناک اور دلخراش سانحے میں صوبے کے قابل، نڈر اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کرنے والے وکلا سمیت صحافیوں، عام شہریوں اور دیگر افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

سانحہ 8 اگست صرف چند خاندانوں کے پیاروں سے محرومی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اسے بلوچستان کے قانونی، سیاسی، سماجی اور انسانی شعور پر ایک کاری ضرب قرار دیا جاتا ہے۔ سانحے کی دسویں برسی کے موقع پر شہدائے 8 اگست، بالخصوص شہید وکلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جبکہ ان کے ایصالِ ثواب کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ میں قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور ختم کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز، وکلا، بار روم کے وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہید وکلا کے لواحقین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تقریب کے دوران شہدا کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی گئی۔

شرکا نے سانحہ 8 اگست کے شہدا کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدا کی قربانیوں اور ان کے مشن کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور قانون، آئین، انصاف اور جمہوری اقدار کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی یو این اے کے مطابق 8 اگست 2016 کی صبح بلوچستان بار کونسل کے صدر اور معروف قانون دان بلال انور کاسی کو فائرنگ کرکے قتل کیے جانے کے بعد ان کی میت سول اسپتال کوئٹہ لائی گئی تھی۔ بڑی تعداد میں وکلا اپنے ساتھی کی میت دیکھنے اور قانونی و اخلاقی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے سول اسپتال کے شعبہ حادثات میں جمع ہوئے تھے۔

اسی دوران اسپتال کے شعبہ حادثات کے احاطے میں خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا چند لمحوں میں سول اسپتال کا احاطہ دھماکے کی خوفناک آواز سے گونج اٹھا۔ ہر طرف چیخ و پکار، دھواں، زخمی افراد اور افراتفری کا منظر تھا۔ اسپتال میں اپنے ساتھی وکیل کے جسدِ خاکی کے ساتھ موجود متعدد وکلا، صحافیوں، شہریوں اور دیگر افراد اس حملے کی زد میں آ گئے اس حملے میں 70 سے زائد افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ شہدا میں بڑی تعداد وکلا کی تھی۔ بلوچستان کی قانونی برادری کو اس سانحے میں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور ایک ہی واقعے میں صوبے کے متعدد ممتاز قانون دان دنیا سے رخصت ہو گئے سانحے نے نہ صرف کوئٹہ بلکہ پورے ملک کو سوگوار کر دیا تھا۔ عدالتیں، بار ایسوسی ایشنز، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور مختلف طبقہ ہائے فکر کئی روز تک غم اور صدمے کی کیفیت میں رہے۔

بلوچستان کی وکالت کی تاریخ میں 8 اگست کا دن ایک ایسے سانحے کے طور پر درج ہو گیا جس کی شدت اور اثرات کو آج بھی محسوس کیا جاتا ہیشہید ہونے والے وکلا میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو عدالتوں میں عوام کو انصاف کی فراہمی، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے رہے تھے۔ ایک ہی لمحے میں کئی خاندان اپنے کفیل، بھائی، بیٹے، والد اور عزیزوں سے محروم ہو گئے سانحے کے بعد بلوچستان کی وکلا برادری نے نہ صرف اپنے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم کو بھی دہرایا۔ وکلا تنظیموں کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا جاتا رہا کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات کے مکمل محرکات، سہولت کاروں اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائیسانحہ 8 اگست کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تحت قائم انکوائری کمیشن نے واقعے کے مختلف پہلوں کا جائزہ لیتے ہوئے سکیورٹی انتظامات، دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی، تفتیشی نظام، فرانزک سہولیات اور نیشنل ایکشن پلان پر اہم نکات اٹھائے تھے انکوائری کمیشن کی سفارشات اور مشاہدات نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی کارروائیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انٹیلی جنس نظام کو مثر بنانے، جدید فرانزک سہولیات کی فراہمی، تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے، دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے اور ریاستی اداروں کے درمیان مربوط رابطے کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے دس سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود سانحہ 8 اگست سے متعلق کئی سوالات آج بھی قومی اور صوبائی سطح پر زیر بحث ہیں۔

شہدا کے لواحقین اور وکلا برادری کی جانب سے ہمیشہ یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے کہ سانحے کے پس پردہ تمام ذمہ دار عناصر، سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورک کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے شہدا کے لواحقین کے لیے یہ سانحہ صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا دکھ ہے جو ہر سال 8 اگست کو دوبارہ تازہ ہو جاتا ہے۔ کئی خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی تصاویر، یادوں اور ان سے وابستہ یادگاروں کے ذریعے ان کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں بلوچستان ہائی کورٹ میں شہدائے 8 اگست کے لیے قرآن خوانی، ججز، وکلا، سول سوسائٹی اور لواحقین کی شرکت، شہدا کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا سانحہ 8 اگست کی دسویں برسی کے موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ میں شہدائے 8 اگست کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز ججز، وکلا، بار روم کے وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہید وکلا کے لواحقین نے شرکت کی قرآن خوانی کے بعد شہدا کے درجات کی بلندی، مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلی مقام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر شہدا کے لواحقین کی استقامت، صبر اور حوصلے کے لیے بھی دعا کی گئی تقریب میں شریک وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا کہ 8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا ایسا سیاہ دن ہے جسے قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اس روز دہشت گردی نے صرف انسانی جانیں نہیں لیں بلکہ بلوچستان کی قانونی برادری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ شہید وکلا قانون کی حکمرانی اور انصاف کے نظام سے وابستہ تھے اور ان کی شہادت نے پورے صوبے کو سوگوار کر دیا شہید وکلا کے لواحقین نے بھی قرآن خوانی میں شرکت کی۔

اپنے پیاروں کی یاد میں منعقدہ اس موقع پر فضا سوگوار رہی۔ شہدا کی تصاویر اور ان کی یادوں نے تقریب میں شریک افراد کو ایک بار پھر دس برس قبل پیش آنے والے اس المناک واقعے کی یاد دلا دی شہید وکلا کے خاندان آج بھی اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ ان کے گھروں میں موجود تصاویر، کتابیں، عدالتوں سے وابستہ یادیں اور ذاتی اشیا ان کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔

لواحقین کے لیے دس سال کا عرصہ بھی اس دکھ کو ختم نہیں کرسکا بلوچستان کی وکلا برادری نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سانحہ 8 اگست کے شہدا کو بھلایا نہیں جائے گا۔ ان کی قربانیوں کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے گا اور قانون و انصاف کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں، مگر ان کا اصل پیغام آج بھی زندہ ہے: قانون کی حکمرانی، انصاف کی بالادستی، دہشت گردی کے خلاف مزاحمت اور امن کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد دس برس بعد بھی 8 اگست بلوچستان کے اجتماعی حافظے میں ایک ایسا دن ہے جسے نہ وقت مٹا سکا اور نہ فاصلے کم کرسکے۔ سول اسپتال کوئٹہ کے شعبہ حادثات میں بہنے والا خون آج بھی اس عزم کی علامت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور انصاف، قانون اور امن کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More