jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سپریم کورٹ کا حکم،عمران خان کی نورین نیازی سے ملاقات کرادی گئی، بانی سے بشریٰ بی بی کی بھی ملاقات

راولپنڈی(بیورورپورٹ)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی سے ملاقات کرادی گئی۔تفصیلات کے مطابق منگل کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے، اہل خانہ اور ذاتی معالج سے ملاقاتوں کا حکم دیا تھا جس پر عمل درآمد شروع ہوگیا، آج ہمشیرہ نورین نیازی کی عمران خان سے ملاقات کرادی گئی۔عمران خان سے ملاقات کے لیے علیمہ خان، نورین خان اور دیگر اڈیالہ جیل پہنچے، نورین نیازی جیل کے اندر پہنچیں ،عمران خان اور اور نورین نیازی کی کانفرنس روم میں ملاقات کرادی گئی۔

ملاقات میں دونوں بہن بھائی نے صحت اور دیگر امور پر گفتگو کی۔جیل ذرائع کے مطابق نورین نیازی نے عمران خان کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق نورین نیازی کی بانی پی ٹی آئی سے 45 منٹ تک ملاقات جاری رہی۔نورین نیازی کی ملاقات کے بعد انہوں نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کی۔

علیمہ خان نے کہا کہ ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی، نورین کی ملاقات ہو گئی یہ بونس ہے، ملاقات پر اتنی خوشی ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے، میں کہاں سے مٹھائی لاتی، سپریم کورٹ سے اے ٹی سی پنڈی پیش ہوئی۔صحافی نے سوال کیا کہ کوئی اشارہ ملا ہے کہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہمیں کہاں سے اشارہ ملنا ہے، آپ کا مطلب یہ ملاقات ہے؟ ہاں اکٹھا ہی بہت کچھ ہوگیا ،ابھی تک غیر یقینی سی ہے۔

ملاقات کے بعد بانی کی تینوں بہنیں اڈیالہ جیل سے روانہ ہوئیں۔بعد ازاں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں بشریٰ بی بی سے بھی ملاقات کرادی گئی۔ بانی اور بشری بی بی کی ملاقات 30 منٹ تک جیل کانفرنس روم میں جاری ہی۔ ملاقاتوں کے بعد عمران خان کو واپس کمپانڈ منتقل کردیا گیا۔ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد اب عمران خان ہسپتال جائیں گے جس کا مطالبہ ہم گزشتہ آٹھ ماہ سے کر رہے تھے۔

علیمہ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ضمانت دینے کا مطالبہ کردیا۔ علیمہ خان نے کہا کہ دونوں کو دونوں کو ضمانت ملنی چاہیے، بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات کمزور ہیں اور انہیں پہلے ہی ریلیف مل جانا چاہیے تھا، انصاف ملے گا تو تنقید نہیں ہوگی، ماضی میں عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید انصاف نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی۔اپنے مقدمے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں ابھی ان کی جانب سے گواہ پر جرح ہونا باقی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More