تجزیہ بی این پی
آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے سامنے آیا ہے کہ کیا سیاسی تبدیلی کو عوامی زندگی میں حقیقی تبدیلی میں تبدیل کیا جا سکے گا؟ نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کی صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور انہیں پہلے سو دنوں پر مشتمل اصلاحاتی و ترقیاتی پروگرام دیے جانے سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ نئی حکومت محض روایتی حکومتی اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے ایک واضح اور قابلِ عمل ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ آزاد کشمیر کے عوام کو اس وقت وعدوں سے زیادہ نتائج کی ضرورت ہے، اور نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان بھی یہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی وعدوں کو عملی اقدامات میں کس رفتار سے ڈھالتی ہے۔
میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر میں صحت، تعلیم، صفائی، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی شعبوں میں بہتری کے لیے پہلے سو دنوں کا اصلاحاتی منصوبہ وزیراعظم افتخار گیلانی کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ترقی کے ثمرات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ دور دراز علاقوں کے عوام بھی اس عمل کا حصہ بنیں۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جسے آزاد کشمیر کی ترقیاتی حکمت عملی میں بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، کیونکہ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں آباد لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ نئی حکومت کی ترجیحات میں صحت اور تعلیم کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا پہلا زینہ معیاری تعلیم اور بہتر صحت کی سہولیات ہیں۔ اگر ہسپتالوں میں ڈاکٹر، ادویات اور ضروری طبی سہولیات میسر نہ ہوں، اگر دور دراز علاقوں کے عوام کو معمولی علاج کے لیے بھی بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑے، اگر سرکاری تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور فنی تربیت کے مواقع دستیاب نہ ہوں تو ترقی کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پہلے سو دنوں کا پروگرام اس وقت مؤثر ثابت ہوگا جب اسے محض سرکاری دستاویز نہیں بلکہ کارکردگی کا قابلِ پیمائش معاہدہ بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر شعبے کے لیے واضح اہداف مقرر کرے اور یہ طے کرے کہ سو دنوں میں کیا حاصل کیا جائے گا۔ عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ حکومت نے ان سے جو وعدے کیے ہیں ان میں سے کتنے وعدوں پر عملی پیش رفت ہوئی۔ اس مقصد کے لیے ہر ماہ پیش رفت کی رپورٹ جاری کی جا سکتی ہے تاکہ حکومتی کارکردگی محض دعووں کے بجائے اعداد و شمار اور زمینی حقائق سے جانچی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر حکومت کو وفاقی حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی اس سلسلے میں اہم پیش رفت ہے۔ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے وسائل، تجربے اور ادارہ جاتی معاونت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو کئی ایسے منصوبے پای? تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں جو محض محدود علاقائی وسائل سے مشکل دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم وفاقی تعاون کے ساتھ آزاد کشمیر حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وسائل کے شفاف اور دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنائے۔
ترقیاتی بجٹ میں اضافہ اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ مختص رقم کہاں خرچ ہوتی ہے اور اس کا فائدہ کس طبقے تک پہنچتا ہے۔ سڑک بنانا، پل تعمیر کرنا یا عمارت کھڑی کر دینا ترقی کی مکمل تصویر نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب سڑک کے ساتھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں، سکول کے ساتھ معیارِ تعلیم بہتر ہو، ہسپتال کی عمارت کے ساتھ علاج کی سہولت بھی دستیاب ہو اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ مقامی معیشت کو بھی تقویت ملے۔ ترقی کا مقصد صرف تعمیرات نہیں بلکہ انسانی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔
آزاد کشمیر کے نوجوان نئی حکومت کی پالیسیوں کا ایک اہم مرکز ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم افتخار گیلانی نے سکلڈ ڈویلپمنٹ کو آگے بڑھانے اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی بات کی ہے، جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج کی دنیا میں روایتی ملازمتوں کے مقابلے میں فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، سیاحت، دستکاری، زراعت، چھوٹی صنعتوں اور دیگر شعبوں میں تربیت دی جائے تو وہ نہ صرف اپنی معاشی حالت بہتر کر سکتے ہیں بلکہ خطے کی معیشت کو بھی نئی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
انٹرنیٹ سروس کی جلد بحالی کے حوالے سے وزیراعظم آزاد کشمیر کا بیان بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، تجارت، بینکاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ دور دراز علاقوں کے نوجوان اگر معیاری انٹرنیٹ سے محروم رہیں گے تو وہ ڈیجیٹل معیشت میں موجود بے شمار مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ اس لیے آزاد کشمیر میں ڈیجیٹل رابطوں کا فروغ بھی ترقیاتی ایجنڈے کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔نئی حکومت کے لیے گورننس کی اصلاح بھی ایک بنیادی چیلنج ہے۔ عوام کے مسائل صرف نئے منصوبوں سے حل نہیں ہوتے، بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ فائلوں کے غیر ضروری تاخیر سے لے کر عوامی شکایات کے ازالے تک، ہر سطح پر انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سرکاری افسران اور اداروں کی کارکردگی جانچنے کا مؤثر نظام، شفافیت، میرٹ اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر حکومتی مشینری مؤثر نہیں ہوگی تو بہترین پالیسی بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔
اس حوالے سے وزیراعظم افتخار گیلانی کا یہ کہنا قابلِ توجہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کی اصلاحی تنقید کو قبول کرے گی۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے کو کمزوری نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔ مضبوط اپوزیشن حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کا موقع دیتی ہے اور پارلیمانی نظام میں احتساب کا ایک اہم ذریعہ بھی بنتی ہے۔ نئی حکومت اگر سیاسی اختلافات کو ذاتی محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کے بجائے انہیں عوامی مفاد کی بحث تک محدود رکھے تو اس سے آزاد کشمیر کے سیاسی ماحول میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ایکشن کمیٹی سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل بھی نئی حکومت کے لیے فوری نوعیت کا ایک اہم چیلنج ہے۔ کسی بھی احتجاج کے پیچھے موجود عوامی شکایات کو نظر انداز کرکے محض احتجاج ختم کرانا دیرپا حل نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرے اور جو مسائل حقیقی اور قابلِ حل ہیں ان کے لیے واضح ٹائم فریم دے۔ عوامی اعتماد مذاکرات، وعدوں اور اعلانات سے نہیں بلکہ عملی پیش رفت سے بحال ہوتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جب عوام کو بنیادی سہولیات، روزگار اور شفاف حکمرانی میسر آتی ہے تو سیاسی بے چینی میں کمی آتی ہے، جبکہ مسلسل عوامی مسائل اور حکومتی عدم توجہی احتجاجی سیاست کو تقویت دیتی ہے۔ اس لیے نئی حکومت کو سیاسی انتظام کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے بنیادی اسباب پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے حکومت عوامی اعتماد کو پائیدار بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔مسئلہ کشمیر بھی نئی حکومت کی ترجیحات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم افتخار گیلانی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حوصلے اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت پر لازم ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے۔ تاہم اس ذمہ داری کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ آزاد کشمیر خود ایک انتظامی اکائی ہے اور یہاں بسنے والے عوام کی فلاح و بہبود بھی ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔
دنیا کو مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ کرنے کے لیے مضبوط سیاسی اور سفارتی مؤقف ضرور ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ آزاد کشمیر کو ترقی، تعلیم، صحت، سیاحت اور معیشت کے حوالے سے ایک مثالی خطہ بنانے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔ ایک خوشحال، پرامن، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ آزاد کشمیر نہ صرف یہاں کے عوام کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے بلکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی ایک مضبوط عملی مثال پیش کر سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ سلامتی اور اجتماعی دفاع کے عزم کا اظہار بھی بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات تاریخی، مذہبی اور برادرانہ بنیادوں پر استوار ہیں جبکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ان تعلقات کو صرف دفاعی اور سیاسی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور روزگار کے شعبوں تک وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ علاقائی شراکت داری کا اصل فائدہ اس وقت سامنے آتا ہے جب اس کے اثرات عام شہری کی زندگی میں بھی محسوس ہوں۔آزاد کشمیر کی نئی حکومت کو بھی بیرونی سرمایہ کاری، سیاحت اور نجی شعبے کے فروغ پر توجہ دینا چاہیے۔ اس خطے میں قدرتی حسن، سیاحت اور انسانی وسائل کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ اگر بنیادی ڈھانچہ بہتر بنایا جائے، سیاحتی مقامات کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں، مقامی نوجوانوں کو تربیت دی جائے اور نجی سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تو سیاحت آزاد کشمیر کی معیشت کا ایک مضبوط ستون بن سکتی ہے۔وزیراعظم افتخار گیلانی کو 32 میں سے 31 ووٹ ملنا ان کے لیے ایک مضبوط سیاسی آغاز ضرور ہے، لیکن یہ اکثریت ان کے لیے ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ اتنی واضح حمایت کے بعد عوام کی توقعات بھی بلند ہوں گی۔ حکومت کو اس سیاسی اعتماد کو عوامی اعتماد میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر میرٹ، شفافیت اور کارکردگی کو ترجیح دی جائے۔
حکومت اگر پہلے سو دنوں میں چند واضح اور نظر آنے والے نتائج دینے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ اس کے آئندہ دور کے لیے مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر سو دن بھی اجلاسوں، اعلانات اور سیاسی بیانات میں گزر گئے تو عوام میں مایوسی پیدا ہونے کا خدشہ ہوگا۔ اس لیے حکومت کو اپنی ترجیحات محدود مگر مؤثر رکھنی چاہئیں اور ان منصوبوں کا انتخاب کرنا چاہیے جن سے عام شہری کی زندگی میں فوری اور نمایاں بہتری آسکے۔
آزاد کشمیر کے عوام اس وقت ایک ایسی حکومت کے منتظر ہیں جو ان کے مسائل کو سیاسی نعرے کے بجائے انتظامی ترجیح سمجھے۔ انہیں بہتر ہسپتال، معیاری سکول، قابلِ اعتماد سڑکیں، روزگار کے مواقع، تیز رفتار انٹرنیٹ، صاف ستھرا ماحول، شفاف ادارے اور فوری داد رسی چاہیے۔ یہ مطالبات غیر معمولی نہیں بلکہ ایک مہذب اور ذمہ دار حکومت سے عوام کی بنیادی توقعات ہیں۔نئی حکومت کے پاس ایک واضح سیاسی موقع موجود ہے۔ مرکزی قیادت کی حمایت، وفاقی حکومت کے تعاون اور پارلیمانی اکثریت کو اگر مؤثر حکمرانی میں تبدیل کردیا جائے تو آزاد کشمیر میں ترقی اور اصلاحات کا ایک نیا باب رقم ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنے پہلے سو دنوں کو محض سیاسی تشہیر کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ انہیں عملی کارکردگی، ادارہ جاتی اصلاح اور عوامی خدمت کا آغاز بنائے۔آخرکار حکومتیں اپنے نعروں سے نہیں بلکہ اپنے نتائج سے پہچانی جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی نئی حکومت کے لیے پہلے سو دن اسی حقیقت کا پہلا امتحان ہیں۔ اگر ان سو دنوں میں عوام کو محسوس ہوا کہ حکومت ان کے مسائل سن رہی ہے، ان پر کام کر رہی ہے اور وعدوں کو زمین پر اتار رہی ہے تو سیاسی اعتماد مضبوط ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو ایک اور سیاسی تبدیلی عوامی توقعات کے بوجھ تلے دب سکتی ہے۔ وقت نے نئی حکومت کو موقع دیا ہے؛ اب فیصلہ اس کے طرزِ حکمرانی، ترجیحات اور عملی کارکردگی نے کرنا ہے کہ یہ سو دن محض سو دن رہتے ہیں یا آزاد کشمیر میں ایک نئی اور بہتر حکمرانی کی بنیاد بن جاتے ہیں۔