jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پنجاب میں صحت کا نیا انقلاب، اے آئی سے بیماریوں کی بروقت تشخیص کا فیصلہ

تجزیہ بی این پی
دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے اور زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جو اس انقلابی ٹیکنالوجی سے متاثر نہ ہو رہا ہو۔ تعلیم، صنعت، زراعت، معیشت اور حکمرانی کے بعد اب صحت کا شعبہ بھی مصنوعی ذہانت کی بدولت ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں پنجاب حکومت کی جانب سے مریضوں کے لیے ”اے آئی پاورڈ ملٹی ڈیزیز سکینر” متعارف کرانے کا فیصلہ بلاشبہ ایک اہم اور دور رس اقدام ہے، جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کے شعبے میں ایک نئی سمت متعین ہونے کی توقع ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرقیادت صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی یہ کوشش اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کا بنیادی مقصد محض علاج نہیں بلکہ بیماری کی بروقت شناخت اور اس کے مؤثر انتظام کو ممکن بنانا ہے۔
چین کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو معروف چینی کمپنی علی بابا کلاوڈ کے اعلیٰ سطحی وفد کی جانب سے اے آئی پاورڈ ملٹی ڈیزیز سکینر کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس جدید نظام کے ذریعے انتہائی مختصر وقت میں متعدد بیماریوں کی نشاندہی کی جا سکے گی۔ مختلف طبی خطرات کی سکریننگ، تشخیص، علاج اور مینجمنٹ میں مصنوعی ذہانت کی معاونت حاصل ہونے سے نہ صرف ڈاکٹرز کو فیصلہ سازی میں مدد مل سکتی ہے بلکہ مریضوں کے لیے بروقت طبی رہنمائی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس منصوبے کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں بیماری کے بڑھنے کا انتظار کرنے کے بجائے اس کی ابتدائی سطح پر شناخت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ طبی ماہرین ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پیچیدہ اور مہلک بیماریوں کی بروقت تشخیص علاج کے بہتر نتائج کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ خصوصاً سرطان جیسی بیماریوں میں ابتدائی مرحلے پر مرض کی نشاندہی مریض کے لیے علاج کے امکانات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید سکریننگ نظام کا تصور مستقبل کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
مریضوں کے لیے سب سے بڑی امید سرطان کی مختلف اقسام کی بروقت سکریننگ سے وابستہ ہے۔ فراہم کردہ بریفنگ کے مطابق اے آئی پاورڈ ملٹی ڈیزیز سکینر کے ذریعے لبلبے، جگر، معدے، غذائی نالی اور بڑی آنت کے سرطان سمیت مختلف مہلک بیماریوں کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔ ان بیماریوں میں بعض ایسی ہیں جن کی ابتدائی علامات بسا اوقات واضح نہیں ہوتیں اور مریض مرض کے کافی آگے بڑھ جانے کے بعد طبی مرکز سے رجوع کرتا ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی خطرے کی ابتدائی نشاندہی میں معاون ثابت ہو تو ڈاکٹرز مزید ضروری طبی معائنوں اور علاج کے فیصلے نسبتاً جلد کر سکتے ہیں۔
یہ نظام صرف سرطان کی تشخیص تک محدود نہیں بلکہ دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے خطرات کا جائزہ لینے میں بھی معاون ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جسم میں چربی اور پٹھوں کی مقدار و صحت کا اندازہ، ہڈیوں کی کمزوری کی تشخیص اور بعض پیچیدہ طبی صورتحال کی نشاندہی بھی اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد میں شامل ہے۔ یوں ایک ایسا مربوط طبی نظام سامنے آ سکتا ہے جس میں مریض کے جسم کے مختلف حصوں اور بیماریوں کے ممکنہ خطرات کا جامع انداز میں جائزہ لینے کی صلاحیت موجود ہو۔
یہاں یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت ڈاکٹر کا متبادل نہیں بلکہ ڈاکٹر کی معاون ہے۔ کسی بھی اے آئی نظام کی جانب سے فراہم کردہ نتیجے کو حتمی طبی تشخیص قرار دینا مناسب نہیں ہو گا۔ مریض کی حتمی تشخیص اور علاج کا فیصلہ تربیت یافتہ ڈاکٹر ہی مریض کی مکمل طبی تاریخ، معائنے اور دیگر ضروری رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے کرے گا۔ اس لیے پنجاب حکومت کو اس منصوبے کے ساتھ ساتھ طبی ماہرین کی تربیت، نظام کی طبی توثیق اور نتائج کی مسلسل جانچ پر بھی خصوصی توجہ دینا ہو گی۔
مریم نواز شریف کی حکومت کی صحت پالیسی میں جدید ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کا رجحان پہلے ہی نمایاں نظر آتا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت کو صحت کے نظام سے مربوط کرنے کی کوشش اسی سلسلے کی توسیع ہے۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں جہاں سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا غیر معمولی بوجھ ہے، جدید ڈیجیٹل نظام ڈاکٹرز کے کام میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر طبی تصاویر، رپورٹس اور دیگر متعلقہ معلومات کا ابتدائی تجزیہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیزی سے کیا جا سکے تو ڈاکٹرز کو مریض کی طرف زیادہ توجہ دینے کے لیے وقت میسر آ سکتا ہے۔
صحت کے شعبے میں اس پیش رفت کو وزیراعلیٰ پنجاب کے وسیع تر ٹیکنالوجی وژن سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ چین کے دورے کے دوران علی بابا کلاو?ڈ کے وفد سے ملاقات میں پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر، مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمرانی، صحت، زراعت، تعلیم، سماجی و معاشی پروگراموں اور موسمیاتی پیش گوئی میں اے آئی کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت مصنوعی ذہانت کو کسی ایک شعبے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے حکومتی نظام کے مختلف پہلوؤں میں بروئے کار لانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ کہنا کہ پنجاب میں گورننس کے نظام کو مصنوعی ذہانت سے مربوط کیا جا رہا ہے، مستقبل کے حکومتی نظام کے حوالے سے ایک واضح سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر سرکاری اداروں میں فیصلوں، عوامی خدمات، صحت، تعلیم، زراعت اور شہری سہولتوں کے لیے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال کیا جائے تو حکومتی کارکردگی میں بہتری لانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ شفافیت، نگرانی اور انسانی فیصلے کی اہمیت کو بھی برقرار رکھنا ہو گا۔
پنجاب میں دنیا کے بڑے پبلک سیکٹر کینسر ہسپتال کے قیام کا منصوبہ بھی اسی تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر جدید کینسر ہسپتال میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی نظام، جدید طبی آلات، ماہر ڈاکٹرز، تحقیق کے مراکز اور جدید علاج کی سہولتیں ایک ہی چھت تلے دستیاب ہو جائیں تو پنجاب میں سرطان کے علاج کے لیے ایک مضبوط ادارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا فائدہ صرف پنجاب کے شہریوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے مریضوں کو بھی جدید علاج کی سہولت فراہم کرنے کی گنجائش پیدا کی جانی چاہیے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** پنجاب حکومت کے لیے اصل امتحان اس ٹیکنالوجی کو اعلان سے عملی نظام میں تبدیل کرنا ہے۔ جدید مشینیں خرید لینا یا ہسپتالوں میں نصب کر دینا کافی نہیں۔ اس کے لیے ڈاکٹرز، ریڈیالوجسٹس، ٹیکنیشنز اور ہسپتال انتظامیہ کو مناسب تربیت دینا ہو گی۔ اے آئی کے نتائج کی درست تشریح، غلط نتائج کی نشاندہی اور مریض کی مکمل طبی صورتحال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت طبی عملے میں موجود ہونا ضروری ہے۔
اس کے ساتھ مریضوں کے ڈیٹا کا تحفظ بھی انتہائی اہم معاملہ ہے۔ جدید طبی نظام بڑی مقدار میں مریضوں کی حساس معلومات استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مریضوں کا طبی ریکارڈ محفوظ رہے اور کسی غیر متعلقہ فرد یا ادارے تک غیر مجاز طریقے سے نہ پہنچے۔ سائبر سکیورٹی، ڈیٹا پرائیویسی اور معلومات کے محفوظ استعمال کے واضح اصول وضع کیے بغیر ڈیجیٹل صحت کے نظام کو مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔یہ بھی ضروری ہے کہ جدید طبی سہولت صرف لاہور یا بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔ پنجاب کے دور دراز اضلاع اور دیہی علاقوں میں رہنے والے شہری بھی صحت کی ان سہولتوں کے حقیقی حق دار ہیں۔ حکومت کو مرحلہ وار ایسا نظام وضع کرنا چاہیے جس کے ذریعے اے آئی پر مبنی تشخیصی سہولتیں ضلعی اور ضرورت کے مطابق تحصیل سطح کے ہسپتالوں تک پہنچ سکیں۔ اس مقصد کے لیے جدید ڈیجیٹل رابطے اور ٹیلی میڈیسن کی سہولتوں سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے کا ایک بڑا فائدہ علاج کے اخراجات میں ممکنہ کمی بھی ہو سکتا ہے۔ سرطان اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی آخری مراحل میں تشخیص نہ صرف مریض کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے بلکہ خاندان کے مالی وسائل بھی تیزی سے ختم ہوتے ہیں۔ اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں سامنے آ جائے تو علاج کے نسبتاً کم پیچیدہ اور مؤثر طریقے اختیار کرنے کی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔ اس طرح بروقت تشخیص ایک طبی سہولت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معاشی ضرورت بھی بن جاتی ہے۔
چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اس پورے عمل کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔ علی بابا کلاوڈ کے ساتھ ممکنہ شراکت داری سے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا مینجمنٹ اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں پنجاب کو جدید تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ پاکستان میں ڈیٹا سینٹر کے قیام کے حوالے سے جاری بات چیت بھی مستقبل میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مضبوطی کا باعث بن سکتی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری افسران، اہلکاروں اور کابینہ ارکان کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کا اقدام بھی اس پالیسی کی سنجیدگی ظاہر کرتا ہے۔ اگر حکومتی مشینری کو نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف کرایا جائے اور سرکاری اداروں میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کی صلاحیت پیدا کی جائے تو اس کے اثرات طویل مدت میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سرکاری سکولوں کے بچوں کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم دینے کا تصور بھی آنے والی نسل کو مستقبل کی معیشت کے لیے تیار کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔تاہم ہر نئی ٹیکنالوجی کی طرح مصنوعی ذہانت کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ مشین کی رفتار اور ڈیٹا کے تجزیے کی صلاحیت اپنی جگہ، لیکن انسانی تجربہ، طبی بصیرت، مریض کی نفسیاتی کیفیت اور ڈاکٹر اور مریض کے باہمی اعتماد کی اہمیت ختم نہیں ہو سکتی۔ بہترین نظام وہی ہو گا جس میں جدید ٹیکنالوجی اور انسانی مہارت ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔
مجموعی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کو متعارف کرانے کی کوشش مستقبل کی طرف ایک اہم قدم قرار دی جا سکتی ہے۔ سرطان سمیت مختلف بیماریوں کی بروقت سکریننگ، دل اور خون کی شریانوں کے خطرات کا جائزہ، ہڈیوں کی کمزوری کی تشخیص اور جسمانی صحت کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ اگر مؤثر اور محفوظ انداز میں ممکن بنایا جا سکے تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پنجاب کے لیے اب اصل کامیابی کا معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے جدید سکینر خریدے گئے، کتنے ہسپتالوں میں مصنوعی ذہانت نصب ہوئی یا کتنے معاہدے کیے گئے، بلکہ اصل سوال یہ ہو گا کہ کتنے مریضوں کو بروقت تشخیص ملی، کتنی جانیں بچائی گئیں، علاج کے اخراجات میں کتنا فرق آیا اور عام شہری کو جدید طبی سہولت کتنی آسانی سے میسر ہوئی۔
اگر پنجاب حکومت ٹیکنالوجی کے ساتھ طبی معیار، ماہر افرادی قوت، ڈیٹا کے تحفظ، شفافیت اور عوامی رسائی کو بھی یقینی بنا لے تو مصنوعی ذہانت محض ایک جدید اصطلاح نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسی عملی قوت بن سکتی ہے جو بیماریوں کی بروقت شناخت، علاج کی بہتری اور انسانی جانوں کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرے۔
صحت کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی پیمانہ ہے۔ سڑکیں، پل، عمارتیں اور صنعتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک صحت مند معاشرہ ہی حقیقی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ پنجاب میں صحت کو مصنوعی ذہانت سے جوڑنے کا فیصلہ اسی بڑے تصور کی جانب ایک قدم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خواب کو محض اعلان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مضبوط منصوبہ بندی، شفاف عملدرآمد اور مسلسل نگرانی کے ذریعے اسے پنجاب کے ہر شہری کے لیے حقیقی سہولت بنایا جائے۔
اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو پنجاب نہ صرف پاکستان میں جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں مصنوعی ذہانت پر مبنی عوامی صحت کے نظام کی ایک قابلِ تقلید مثال بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہو گا جہاں ٹیکنالوجی کی اصل کامیابی مشینوں میں نہیں بلکہ انسان کی زندگی، صحت اور امید میں نظر آئے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More