اسلام آباد (جہان امروز)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہاہے کہ ہماری روایتی دستکاریاں پاکستان کی مختلف کمیونٹیز کی مہارت کی عکاس ہیںیوم عالمی ورثہ 18 اپریل 2026 پر اپنے پیغام میں انہوںنے کہاکہ میں قوم اور ان تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو ہمارے مشترکہ ورثے کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں۔
یہ دن ہمیں اپنے ثقافتی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے کی اہمیت یاد دلاتا ہے، جیسا کہ یونیسکو نے عالمی سطح پر اسے تسلیم کیا ہے۔
پاکستان دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ قدیم سنگی دور اور نئے سنگی دور سے لے کر کانسی کے دور کی وادی سندھ کی تہذیب تک، مہر گڑھ، موہنجوداڑو اور گندھارا کی ثقافت سے لے کر مغلیہ دور تک، ہماری سرزمین انسانی تخلیق، جدت اور ہمت کے مسلسل سفر کی عکاسی کرتی ہے، ان تہذیبوں نے آثارِ قدیمہ، فنِ تعمیر اور ثقافتی روایات کا ایک پائیدار ورثہ چھوڑا ہے جو ہماری قومی شناخت کی بنیاد ہے۔
انہوںنے کہاکہ ہمارا غیر مادی ثقافتی ورثہ(Intangible cultural heritage)بھی اتنا ہی اہم ہے جس میں لوک داستانیں، زبانیں، موسیقی، دستکاری اور فنونِ لطیفہ شامل ہیں۔
ہیر رانجھا، سوہنی مہیوال، عمر ماروی، سسی پنوں، آدم خان اور درخانی، ہانی اور شاہ مرید جیسی رومانوی داستانیں، صوفیائے کرام کا کلام اور قوالی، اور رباب، الغوزہ، طبلہ، شہنائی، بانسری، سرود، بنجو، سارنگی اور ڈھولک کے ذریعے پیش کی جانے والی علاقائی موسیقی ہمارے عوام کی یادوں اور جذباتی گہرائی کی امین ہے۔
نسل در نسل منتقل ہونے والی یہ روایات ہمارے تسلسل اور مشترکہ اقدار کو برقرار رکھتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہماری روایتی دستکاریاں پاکستان کی مختلف کمیونٹیز کی مہارت کی عکاس ہیں۔
کشمیری کڑھائی اور شال بافی سے لے کر سندھی اجرک اور رلی تک، بلوچی سوئی کاری سے لے کر ملتان کی نیلی مٹی کے برتنوں (بلیو پاٹری) تک، پشاوری چپل سے لے کر چترالی ٹوپی تک، اور چنیوٹ کے لکڑی کے کام سے لے کر ٹرک آرٹ تک، ہر دستکاری ایک منفرد کہانی سناتی ہے اور ہمارے ماضی کو حال سے جوڑتی ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں موجود عالمی ورثے کے مقامات، وادی سندھ کی تہذیب، گندھارا کے بدھ مت کے فنِ پاروں اور انڈوـعرب و مغلیہ دور کے قلعوں اور یادگاروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ مقامات ہماری تاریخ اور ثقافتی تنوع کی جیتی جاگتی علامت ہیں۔
انہوںنے کہاکہ بہت سے شہریوں کے لیے ورثہ محض ایک تصور نہیں بلکہ یہ ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے،یہ بازاروں اور ورکشاپس میں دستکاروں کے روزگار کا ذریعہ ہے، تاریخی شہروں میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اور یادگاروں کے گرد و نواح میں مقامی معیشت کو سہارا دیتا ہے،یہ سکولوں میں بچوں کی تاریخ کے بارے میں معلومات اور کمیونٹیز میں اپنے مقام و تسلسل کے احساس کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
انہوںنے کہاکہ ہم ان اثاثوں کو پیشہ ورانہ مہارت اور تحفظ کی جدید تکنیکوں کے ذریعے محفوظ بنانے کے لیے پْرعزم ہیں،ورثے کا تحفظ ایک ذمہ داری بھی ہے اور سیاحت، ثقافتی صنعتوں اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ایک موقع بھی۔انہوںنے کہاکہ تمام متعلقہ فریقین بشمول سرکاری اداروں، صوبائی حکام، مقامی کمیونٹیز اور نوجوانوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے ورثے کے تحفظ، بقا اور فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔
