بلوچستان کی صحافتی تاریخ، جمہوری اقدار اور عوامی حقِ آگاہی کے تناظر میں 16 اپریل کے کابینہ اجلاس میں منظور کی گئی نئی میڈیا پالیسی نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔
سب سے اہم تشویش یہ ہے کہ اس اہم پالیسی کی تیاری اور اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے اخباری مالکان، پرنٹ میڈیا سے وابستہ کارکنان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جو جمہوری اصولوں کے خلاف ایک غیر معمولی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سرکاری اشتہارات کو محدود کر کے صرف دو اخبارات تک مرکوز کرنے، جبکہ عدالتی، ملازمتوں اشتہار تین اور ٹینڈر اشتہارات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز یا دیگر ذرائع پر منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
اس فیصلے کے معاشی، سماجی اور انتظامی اثرات کا مکمل جائزہ لینا ناگزیر ہے، کیونکہ دنیا کے کسی بھی مضبوط جمہوری نظام میں میڈیا پالیسی سازی کا عمل شفاف، جامع اور مشاورتی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے۔
یہ امر ناقابلِ تردید ہے کہ بلوچستان کا پرنٹ میڈیا طویل عرصے سے محدود وسائل اور سخت حالات کے باوجود ریاست، عوام اور اداروں کے درمیان ایک مثر پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ی
ہی وہ شعبہ ہے جس نے مقامی مسائل کو اجاگر کیا، عوامی رائے کو جگہ دی اور قومی بیانیے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
آج بھی ہزاروں افراد، جن میں صحافی، کمپوزر، پرنٹنگ ورکرز اور ڈسٹری بیوٹرز شامل ہیں، اسی صنعت سے وابستہ ہیں۔ اس لیے کسی بھی غیر متوازن پالیسی کے اثرات صرف اداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ روزگار، معلومات کے بہا اور سماجی استحکام کو بھی متاثر کریں گے۔
اگر پرنٹ میڈیا میں کسی قسم کی ادارتی یا انتظامی خامیاں موجود ہیں تو ان کے لیے پہلے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہے، جس میں ڈیکلریشن، رجسٹریشن، ABC سرٹیفکیشن اور مرکزی میڈیا لسٹ جیسے شفاف طریقہ کار شامل ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی بے ضابطگیوں کا تدارک کیا جائے، نہ کہ پورے شعبے کو اجتماعی طور پر متاثر کیا جائے۔
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کو ترجیح دینے کے لیے کیا کوئی جامع قانون، ضابطہ اخلاق اور ریگولیٹری نظام موجود ہے؟ اگر نہیں، تو ایک منظم اور قانونی شعبے کو کمزور کر کے غیر منظم ذرائع کو ترجیح دینا پالیسی کے توازن پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اگر شفافیت اور اصلاح کے نام پر تاریخی اور مستند اخبارات کو غیر موثر بنایا جائے تو یہ عمل نہ صرف میڈیا انڈسٹری بلکہ جمہوری ڈھانچے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ امر بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے کہ اس وقت بلوچستان کے وسیع و عریض علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت یا تو نہایت محدود ہے یا کئی مقامات پر دستیاب ہی نہیں۔
ایسے حالات میں سرکاری اشتہارات اور اہم عوامی معلومات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کرنا عملی طور پر غیر موثر ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف عوام کی معلومات تک رسائی متاثر ہوگی بلکہ شفافیت کے بجائے عدم توازن اور ابہام پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جائے گا۔
بعض حلقوں کے مطابق اس طرزِ عمل کے نتیجے میں غیر ارادی طور پر مخصوص طبقات کو فائدہ جبکہ وسیع عوامی حلقوں کو نقصان پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، جس پر سنجیدہ نظرثانی ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ برطانوی دور کے روزنامہ زمیندار جیسے ادارے اس بات کی تاریخی مثال ہیں کہ محدود وسائل کے باوجود بھی میڈیا عوامی شعور کو بیدار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت تصادم کے بجائے مشاورت، بندش کے بجائے اصلاح اور محدودیت کے بجائے وسعت کا راستہ اختیار کرے۔
بلوچستان کا پرنٹ میڈیا کمزور کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے، کیونکہ مضبوط میڈیا ہی مضبوط جمہوریت، شفاف حکمرانی اور مستحکم صوبے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
تحریر:نامعلوم
