کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )بلوچستان میں ٹرانسپورٹ، تجارت اور مواصلاتی نظام میں انقلابی تبدیلی لانے والے اہم منصوبے “پاکستان ایکسپریس وے” پر تعمیراتی کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)کے مطابق قومی شاہراہ این-25 (N25) کی توسیع اور اپ گریڈیشن کا یہ عظیم الشان منصوبہ سال 2025 میں شروع کیا گیا تھا، جسے اکتوبر 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبے کی تکمیل کے بعد چمن سے کراچی تک طویل سفر کا دورانیہ تاریخی کمی کے بعد صرف 8 گھنٹے رہ جائے گا۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں مجموعی طور پر 327 ارب روپے کی بھاری لاگت سے یہ جدید قومی شاہراہ تعمیر کر رہی ہے، جسے صوبے کی تاریخ کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

اس سے نہ صرف عوام کو عالمی معیار کی سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ صوبے کی معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

منصوبے کے تحت کراچی سے چمن تک بلوچستان کے مختلف اضلاع کو آپس میں جوڑنے والی اس شاہراہ کو چار رویہ (فور لین)بنایا جا رہا ہے تاکہ بھاری اور ہلکی ٹریفک کی روانی کو بہتر کیا جا سکے۔

شاہراہ پر جدید ریسٹ ایریاز، ہوٹلز، پٹرول پمپس اور سروس ایریاز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

منصوبے کے اہم ترین حصے کے طور پر، چمن کے قریب کوژک کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے تقریبا 3 کلومیٹر طویل دو جدید سرنگیں (ٹنز) بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ این-25 شاہراہ ماضی میں خستہ حالی اور حادثات کے باعث “خونی شاہراہ” کے نام سے بھی جانی جاتی رہی ہے، تاہم اس ایکسپریس وے کی تعمیر سے حادثات کا خاتمہ ہوگا اور چمن، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ، قلات، خضدار اور حب سمیت مختلف شہروں کے درمیان رابطے مضبوط ہوں گے۔

یہ منصوبہ مال بردار ٹریفک کی تیز رفتار نقل و حرکت، ایندھن کی بچت اور افغانستان کے ساتھ علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے “گیم چینجر” ثابت ہوگا۔

حکومتِ پاکستان اس اہم ترین منصوبے کو 2027 کی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *