کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں عیدالاضحی سے پانچ روز قبل ہی شہر بھر میں مویشی منڈیاں سج گئی ہیں جہاں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت زور و شور سے جاری ہے۔

تاہم اس سال جانوروں کی قیمتوں میں ہونے والے غیر معمولی اور بے تحاشا اضافے نے شہریوں کو شدید پریشانی اور ذہنی کرب سے دوچار کر دیا ہے۔

خریداروں کا کہنا ہے کہ منڈیوں میں بیوپاری من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اس تمام صورتحال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

شہر کی سب سے بڑی مویشی منڈی تختانی بائی پاس بھوسہ منڈی میں قائم کی گئی ہے جہاں بلوچستان کے مختلف اضلاع سمیت سندھ اور پنجاب سے بھی بڑی تعداد میں قربانی کے جانور لائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ایئرپورٹ روڈ، اسپنی روڈ، بروری روڈ چوک، نواکلی، سریاب کسٹم اور گول منڈی چوک سمیت دیگر علاقوں میں بھی بکرے، دنبے، بیل اور اونٹوں کی عارضی منڈیاں قائم ہیں جہاں صبح سے رات گئے تک خریداروں کا رش لگا رہتا ہے، مگر مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔

شہریوں کے مطابق اس مرتبہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں گزشتہ برسوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہیں۔

جو بکرے گزشتہ سال 40سے 50 ہزار روپے میں دستیاب تھے، اس سال انہی جانوروں کی قیمت 1لاکھ سے 1 لاکھ 20 ہزار روپے تک طلب کی جا رہی ہے، جبکہ 70 ہزار روپے مالیت کے بکرے ڈیڑھ لاکھ روپے تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح بیلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے؛ مویشی منڈیوں میں 4 من وزنی بیل تقریبا 3 لاکھ روپے جبکہ 5 من کے بیل 7 لاکھ روپے تک فروخت کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے متوسط طبقے کے لیے اکیلے قربانی کرنا دن بدن ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اونٹوں کی قیمتیں بھی عام شہریوں کی پہنچ سے بالکل باہر دکھائی دے رہی ہیں اور بیوپاریوں کے مطابق بڑے اور صحت مند اونٹ 7 لاکھ سے لے کر 10 لاکھ روپے تک فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ اعلی نسل کے جانوروں کی قیمت اس سے بھی کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

مویشی فروشوں اور بیوپاریوں کا مقف ہے کہ جانوروں کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مہنگا چارہ، ٹرانسپورٹ اخراجات، جانوروں کی دیکھ بھال اور دیگر اخراجات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان نے مویشی پال حضرات کے اخراجات انتہائی بڑھا دیے ہیں جس کا براہِ راست اثر جانوروں کی قیمتوں پر پڑا ہے۔

دوسری جانب خریداروں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مویشی منڈیوں میں سرکاری نرخ نامے آویزاں کیے جائیں اور بیوپاریوں کی من مانی روکنے کے لیے فوری اور مثر اقدامات کیے جائیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث قربانی کے جانوروں کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق عیدالاضحی قریب آنے کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ آخری دنوں میں جانوروں کی طلب بڑھ جاتی ہے، اور اسی صورتحال کے باعث شہری اب کم قیمت اور اجتماعی یا مشترکہ قربانی کے آپشنز کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *