عوام کو مہنگے داموں پٹرول بیچنے پر مجموعی طور پر 32 پمپس سیل، 24 افراد گرفتار کر کے جیل منتقل
کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے خصوصی احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے کچلاک اور نواں کلی بائی پاس کے علاقوں میں غیر قانونی منی پٹرول پمپوں کے خلاف ایک بڑی، مباثر اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر احمد مزاری کی زیرِ نگرانی لیویز فورس اور متعلقہ عملے نے سب ڈویژن کچلاک کے مختلف علاقوں میں پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے، بغیر لائسنس کاروبار چلانے اور سرکاری نرخوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہنگے داموں پٹرول فروخت کرنے پر 20 منی پٹرول پمپس کو موقع پر سیل کر دی
جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر 14 افراد کو حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا۔دوسری بڑی کارروائی نواں کلی بائی پاس پر عمل میں لائی گئی، جہاں ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر 12 غیر قانونی منی پٹرول پمپ سیل کر دیے اور 10 افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدامات عوامی شکایات پر کیے گئے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کچلاک اور اسپیشل مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ گنجان آباد علاقوں میں غیر محفوظ طریقے سے پٹرول کی فروخت عوام کی جان و مال کے لیے بڑا خطرہ ہے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ان عناصر کے خلاف کریک ڈان آنے والے دنوں میں بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔
