کوئٹہ ( پ ر)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلائ/ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خطہ انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے ، ایران ہرمز کا جھگڑا جاری ہے ، ہمارے حکمرانوں کے عقل کا امتحان ہے ،اگر ہم نے غلطیاں کیں تو دنیا کے مست سانڈ ہمارے خطے کو میدان جنگ بنادیں گے اور پھر ہم کہیں کے نہیں رہینگے۔ کوئی بھی مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا کہ جب تک سچ اور انصاف نہیں کیا جائے، پاکستان کی بنیاوں میں کرپشن انجیکٹ کی گئی اور یہی ملک کے بحرانوں کی بنیادی وجہ ہے ، دفعہ 144کے نام پر لوگوں کو مارا جاتا ہے لیکن آج تک آئین کو درخور اعتنانہ سمجھنے والوںکی کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، ہر وہ آدمی جو آئین کو چھیڑتا ہے وہ غدارہے یہ آئین میں واضح ہے۔ 8فروری 2024کے انتخابات کے بعد جب لوگ آئین اور تمام اداروں پر حملہ آور ہورہے تھے تو ہم نے بروقت تحریک تحفظ آئین پاکستان کی بنیاد رکھی اور یہ واحد تحریک ہے جو ایجنسیوں کی مدد کے بغیر بنی ہے ۔ اگر ان حالات میں کوئی بھی شریف پاکستانی خاموش رہتا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی۔دفاتر میں جاسوسی ادارے کے اہلکار بیٹھے ہوتے ہیں اس طرح ملک کیسے چلے گا، بے انصافی سے ملک نہیں چلائے جاسکتے جب ہم یہ بات کرتے ہیں تو ہمیں غدار قرار دیا جاتا ہے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نشست کیسے ہارگیا؟ اربوں روپے دینے والے اسمبلیوں میں پہنچ گئے کیا اسمبلیاں ایسے بنتی ہیں ؟کسی کو نہیں معلوم کہ خارجہ پالیسیوں کی تشکیل کون کررہا ہے ؟ پشتون ، بلوچ ، سندھی ،سرائیکی اور پنجابی کے بچوں کو ان کے ساحل و وسائل پر آئینی طور پر حق تسلیم کرلیں تب پاکستان بہترین ملک بنے گا ۔ 8فروری 2024کے انتخابات میں تحریک انصاف سے انتخابی نشان عدالت کے ذریعے چھین لیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی اور پھر سرعام اسمبلیوں کی بولیاں لگائیں گئیں۔ہم افواج کیخلاف نہیں ہیںاخبارات والے بھی غلطی کرتے ہیں مہربانی کرے ایسا نہ کرے،انتہائی اہم میٹنگ میں لوگوں کو کہا گیا کہ اپنے علاقوں میں قبائلی لشکر بنائیں کیا آپ یہاں خانہ جنگی کرنے جارہے ہیں؟ جوڈیشری کے پر کاٹے گئے ان حالات میں چھپ رہنا گناہ ہے۔ایف آئی آر ، پریس کانفرنسز، بیانات والوں سے گلہ نہ کریں یہ ایجنسیوں کے مراعات پر ہیں،پارٹی کارکن سوشل میڈیا پر کسی کو بُر بلا نہ کہیں، ایجنسیوں کے دوستوں کو کہتے ہیں کہ ہمارا راستہ بند نہ کریں ہم آپ کے خلاف کچھ نہیں کرینگے لیکن اپنے وطن ، سیاسی حقوق، اصول کے دفاع کے لیے ، آئین کی بالادستی کے لیے ہم آگے بڑھیں گے ہمارے راستے میں نہ آئیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی موجودگی میں پاکستان اپنے ہمسایوں کی ایک اجلاس بُلائیں اور مل بیٹھ کر بات کریں ۔افغانستان پر لشکرکشی سے آپ کابل پر قبضہ کرلیں گے لیکن پھر وہاں سے نکلنا مشکل ہوگا ہم ابھی سے یہ خطرے کی گھنٹی بجارہے ہیں، بگٹی صاحب آپ وزیر اعلیٰ ہے کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ملازمتیں فروخت ہورہی ہیں، ڈپٹی کمشنرز کو سوا ارب روپے دیکر فوجی آفیسر کے ذریعے تقسیم کیا جارہا ہے ، آئیں سب توبہ کرلیںاور پاکستان کو بچائیں جمہوری پاکستان کی تشکیل کرے،پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں ، عمران خان کو توڑنے کی کوشش کی گئی وہ بہادر آدمی نہیں ٹوٹا ۔ ملاقاتوں پر پابندیاں ہٹائی جائیں، وہ ملک کا سب سے پاپولر لیڈرہے ، آپ کے درمیان اگر کوئی بات نہیں بن رہی ہم بات کرلیں گے۔ لیکن یہ مار دھاڑ سے کچھ نہیں ہوگا۔وردی میں بدمعاشوں کے ساتھ بیٹھ کر سارے آرمی کی عزت دائو پر لگایا جارہا ہے ۔ پچاس لاکھ پاکستانی دوہری شہریت رکھتے ہیں جن میں جرنیل ، غریب ،امیر سب شامل ہیںافغانستان کی شہریت بھی رکھ لیں یہ کوئی بُری بات نہیں ۔ پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کے خلاف غیر آئینی غیر قانونی ایف آئی آر جو کہ 29مئی چمن کے جلسہ عام کے بعد اداروں کی ایماء پرایک فرد کے نام سے کاٹی گئی ۔پشتونخوالائرز فورم کے وکلاء کی جانب سے اس جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر کو ختم کرنے کے موقع پر ہائیکورٹ میںکیس دائر کرنے کے موقع پر محمود خان اچکزئی ہائیکورٹ پہنچے اور بعد میں انہوںنے بار سے خطاب کیا ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی اپنے تشکیل سے لیکر ورور پشتون، پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی ، انجمن وطن پھر پشتونخوا ملی عوامی اتحاد اور آج پشتونخواملی عوامی پارٹی اینٹی ایمپریلسٹ اینٹی فیوڈال پارٹی رہی ہے ۔ اور اپنی ماہیت میں جمہوری پارٹی رہی ہے ۔ یہ پشتونخوامیپ کا انگریزوں کے وقت سے سیاست اور سیاسی جدوجہد کی تاریخ رہی ہے ۔ اس بارے میں بلوچ اور پشتون دونوں عزیز مگسی صاحب پھر غوث بخش بزنجو صاحب ، گل خان نصیر صاحب اور پھر بعد میں سردار عطاء اللہ مینگل صاحب سب اس وقت سے پشتون بلوچ ایک ہی مورچے کے لڑنے والے وہ مجاہدین تھے جو اپنے وطن پر اپنے عوام کی حق ملکیت ،حق حاکمیت ، حق اقتدار چاہتے تھے اور یہ ابھی تک چلا آرہا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کا ڈائنما یہ ہے کہ پاکستان ایسے اچانک وجود میں آیا چونکہ ہندوستان مشترکہ طور پر قبضہ ہواتھا ہندوستان کے باسیوں سے جب آزادی کی تحریکیں چلی چاہے وہ مذہبی تھیں ،مسلمانوں کی تھیں یا غیر مسلمانوں کی سب کا منتہا مقصود یہ تھا کہ ہندوستان سے خارجی حکمرانی ختم کی جائے۔ خود محترم محمد علی جناح صاحب20سال سے زائد یونائٹیڈ انڈیا کی جدوجہد کے لیے حصہ رہے، 1946میں جب کرپس مشن آیا تو ہندوستان کی تمام پارٹیاں ایک متحدہ ہندوستان پر متفق ہوئیں اور تین گروپس ABCتھے۔ کیونکہ محمد علی جناح خود ایک بہت بڑے آئینی ماہر تھے انہوں نے مستقبل کے تحفظ کے لیے بڑے ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے 1940کا قراردادڈرافٹ کیا جو آج بھی مینار پاکستان پر کندہ ہے ۔ جس کا متن یہ تھا کہ یہ خود مختار ریاستیں ہوں گے A,B,Cگروپس اور اگر کسی نے اس بیلنس کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی تو کسی بھی یونٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہندوستان سے علیحدہ ہو۔ یہ محمد علی جناح کا 1946ء میں اپروچ تھا اور اسی سال وہ کرپس مشن پہ راضی ہوگئے تھے کہ متحدہ ہندوستان پہ تین گروپس ہوں اُس وقت کا نگرس کی صدارت مولانا ابوالکلام آزاد صاحب کررہے تھے ، کرپس مشن پہ جب سارا ہندوستان متفق ہوا تو مولانا ابوالکلام آزاد شاید اس فکر اس سوچ میں کہ بس مقاصد پورے ہوگئے اس لئے انہوں نے کانگرس کی صدارت سے استعفیٰ دیا ۔ اور کانگرس کی صدارت محترم جواہر لعل نہرو کے حصے میں آئی ۔ اُنہوں نے اپنے پریس کانفرنس میں کوئی ایسی بات کی جس نے جناح صاحب کو ناراض کیا اور عجلت میں پاکستان کی تشکیل ہوگئی ۔ محمد علی جناح صاحب اچانک ایک نئے ملک کے بانی بنے ملک کو چلانے کے لیے سیاسی لوگوں کی ضرورت تھی ، بدقسمتی یہ ہوئی کہ برصغیر پاکستان وہند کی تمام مذہبی جماعتیں جمعیت احرار،حُر مجاہدین، خدائی خدمتگار ، جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی یہ سب متحدہ ہندوستان کے لیے کام کررہے تھے جب پاکستان بنا تو یہ غلطی ہوئی کہ ان سب پہ اس بنیاد پر سرخ لکیر پھیر دی گئی کہ تم لوگوں نے مخالفت کی تھی لہٰذا سیاسی لوگوں کو فارغ کردیا گیا اس کے ثبوت میں خود محترم محمد علی جناح صاحب کا اپنا فقرہ ہے کہ میرے جیب میں سارے سکے کھوٹے ہیں اور ایک فقرہ یہ بھی کہ مجھے ایک کرم خوردہ پاکستان ملا ہے ۔ جب پاکستان کی تشکیل ہوئی تو سیاسی لوگوں نے آپ کو باہر کیا جبکہ ملک کو چلانے کے لیے لوگوں کی ضرورت تھی ،باچا خان بلوچ تحریک جمعیت علماء اسلام جماعت اسلامی سب کو فارغ کردیا ۔ پاکستان کا مسئلہ یا کوئی بھی مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا کہ جب تک سچ اور انصاف نہیں کیا جائے۔ باچا خان کو بیلنس کرنے کے لیے انٹیلی جنس والوں نے کہا کہ فلانے خان ، فلانے ملک ، فلانے آدمی کو شامل کردو ، بلوچ قومی آزادی کی تحریکوں کا راستہ روکنے کے لیے فلانے سردار ، فلانے چوہدری کو شامل کردو ، اور یوں پہلے دن سے پاکستان کی بنیاد کرپشن پر رکھ دی گئی ۔ کسی کو مربع زمین ، کسی کونوکریاں ، کسی کو کیا کچھ دیا گیا۔ اس طرح غیر ارادی طور پر ہم نے پاکستان کی بنیاوں میں کرپشن داخل کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی ہم سب کی نفسیات یہ ہے کہ ہر آنیوالے کو سلام کرو اس کے گلے میں ہار ڈالو جانے والے کو گالیاں دو ۔ اس کے نتیجے میں پاکستان جن بحرانوں میں مبتلا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے اس لیے لوگ ہم سے ناراض ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ وکلاء ہیں یہ آپ کا شعبہ ہے۔ یہاں الیکشن ہوئے لوگوں نے نتائج سے انکار کیا نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا ، پاکستان دولخت ہونے کے بعد بڑی مشکلوں سے 1973کا آئین بنا ،پھر ذوالفقار علی بھٹوصاحب نے اسمبلیاں توڑ دی اُس میں گڑبڑ ہوئی ، ذوالفقار علی بھٹو غریب کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ 1973کے آئین پر اگر چہ ہمارے تحفظات تھے کہ ملک میں ایک ساتھ متصل علاقوںپر آباد پشتونوں کو ایک ساتھ نہیں رکھا گیا لیکن اُس وقت پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کے وفود نے آئین کے جشن میں اسلام آباد میں شرکت کی بڑی مشکلوں سے آئین بنا ۔ انتخابات ہوتے رہے ہیں ،8فروری 2024کے انتخابات ہوئے ، دنیا میں کہیں بھی اس کی مثال موجود نہیں کہ ایک پارٹی الیکشن جیتے گی عدالت کے ذریعے اس کے انتخابی نشان کو چھین لیا گیا اور پھر سرعام اسمبلیوں کی بولیاں لگائیں گئی ۔ جب آپ بولیاں لگائینگے تو کوئی بھی دانشور، غریب شخص بولی نہیں دے سکے گا لیکن منشیات فروش، چور ، ڈاکو، بدمعاش جیسے لوگ یہ بولیاں دے سکیں گے۔ اور انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ ہم نے یہ اسمبلیاں اس طرح چلانی ہیں ۔ دفعہ 144کے نام پر پشتون ، بلوچ، سندھی ، سرائیکی ، پنجابی مارے جاچکے ہیں لیکن آج تک آئین کو روندھنے ، معطل کرنے ، درخور اعتنانہ سمجھنے والوں کے خلاف کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی ۔ جب ہم بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ غداری کی بات ہے ۔ آئین میں غداری سے متعلق واضح ہے کہ ہر وہ آدمی جو آئین کو چھیڑتا ہے وہ غدارہے۔ آپ وکلاء ، عالم فاضل لوگ ہیں آپ بتائیں آئین، عدلیہ، پارلیمنٹ، میڈیا کی اس وقت کیا حالت ہے ۔ ان حالات میں جب ہمیں ایک خطرہ محسوس ہوا کہ یہاں آئین اور تمام اداروں پر حملہ آور ہورہے ہیں ۔تو ہم نے وقت سے پہلے ہی تحریک تحفظ آئین پاکستان کی بنیاد رکھی اور آج یہ تحریک بھی اس لیے لوگوں پر بوجھ ہے کہ یہ واحد تحریک ہے کہ ایجنسیوں کے تعاون کے بغیر بنی ہے ۔ ماضی میں جتنی بھی تحریکیں بنی میں الزام لگاتا ہوں کہ ان میں کسی نہ کسی حد تک ایجنسیوں کی مدد ہوتی تھی لیکن تحریک تحفظ آئین پاکستان غریب عوام کی پارٹیوں پر مبنی تحریک ہے جس میں سردار اختر جان مینگل ، علامہ راجہ ناصر عباس، پنجاب، سندھ کی پارٹیاں شامل ہیں۔ ہر وہ پاکستانی جو اس ملک میں آئین کو بالادست ، پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ دیکھنا چاہتا ہے ، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیااور آئین کے دیئے گئے فریم ورک میں ہر ادارے کو اپنے فرائض کے انجام دہی میں دیکھنا چاہتا ہے اگر ان حالات میں کوئی بھی شریف پاکستانی خاموش رہینگے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی۔ آپ وکیل ہے آپ کو پتہ ہے ۔ کوئی بھی جج یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے دفتر میں جاسوسی ادارے کا کوئی اہلکار نہیں بیٹھا اور اُس کو یہ نہیں کہا جارہا کہ یہ فیصلہ ایسے کرو ۔ اس طرح ملک کیسے چلے گا ۔ بے انصافی سے بھائیوں ، شوہر اور بیوی ، باپ بیٹوں کو علیحدہ کرتی ہے ،عجب فلسفہ ہے جو بکتا ہے ،خریدتا ہے ،کھلاتا ہے وہ اچھا پاکستانی اور جو کہتا ہے کہ خدا کو مانو یہ سب نہ کرو تو وہ غدار قرار دیئے جاتے ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دُکھ ہوتا ہے اربوں روپے دیکر لوگ قومی وصوبائی اسمبلی پہنچ گئے ، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ہار گیا لیکن وہ خاموش ہیں کس سے ہارا ، کس کی سپورٹ تھی ، کتنے پیسے دیئے اس پر وہ خاموش ہیں۔ کیا اسمبلیاں ایسے بنتی ہے ؟ ۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کے چلانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی ، داخلہ وخارجہ پالیساں منتخب پارلیمنٹ سے تشکیل ہوں گی۔یہاں ہم سب بیٹھے ہیں کسی کو نہیں پتہ کہ پاکستان کی خارجہ پالیسیاں کہاں سے تشکیل ہوتی ہیں کو ن بناتا ہے کوئی یہاں بھاگ رہا ہے کوئی وہاں بھاگ رہا ہے ۔کسی کو اچھا لگے یا بُرا پاکستان کو چلانے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ آپ نے پشتونخوا وطن کے پشتونوں سے کہنا ہوگا کہ آپ کے وطن میں اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں پیدا کیں ہیں اس پر آئینی طور پر پہلا حق آپ کے بچوں کا ہوگا۔ یہ بلوچ لبریشن وغیرہ کی بات آپ کرتے ہیں لیکن آپ یہ کیوںنہیں سوچھتے کہ یہ مرحلہ آیا کیوں ۔ پشتون بلوچ ان کی غلط مردم شماری اگر کاٹ دی جائے تو ہماری تمام آبادی پنجاب کے ایک ضلع کے برابر ہے لیکن ہمارے وسائل یورپ کے وسائل سے زیادہ ہیں ۔پھر ہم کیوں بھوکے ہیں ۔ آپ آج بلوچ سے کہہ دے کہ آپ کے ساحل ووسائل پر آپ کے بچوں کا پہلا اختیار ہے پھر اگر کوئی بلوچ لڑتا ہے تو ہم بھی پوچھ لیں گے کہ آپ کیوں لڑرہے ہیں۔ سندھی ، پنجابی کو بھی یہ کہہ دیں تو پاکستان بہترین ملک بنے گا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب ہم بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ فوجیوں کے خلاف ہیں ،ہم افواج کے خلاف نہیں ہیں۔ کوئی پاگل فوج کے خلاف ہوگا ،اخبارات والے بھی غلطی کرتے ہیں مہربانی کرے ایسا نہ کرے، فوج بھی ایک قوت ہے اگر آپ دنیا میں رہتے ہیں تو دنیا میں افواج ہیں پاکستان کو تجرید میں آپ نہ لیں ۔ پاکستان سے بڑی فوج امریکہ ،فرانس ، روس، چین وغیر ہ کی ہیں بڑی تعداد میں دفاعی وسائل ان کے پاس ہیں۔ کوئی وہاں اُٹھ کر کہے کہ فوج بھی ایک طاقت ہے ۔ انسان نے اپنی اجتماعی دانش میں صدیوں کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ جس آدمی کے ہاتھ میں تلوار ہوگی وہ جرگہ ، پنچائیت میں نہیں بیٹھے گا وہ میدان جنگ، سرحدوں کی حفاظت کرے اور اگر یہاں آنا چاہتا ہے تو وردی اُتار دیں تلوار رکھ دیں پھر آجائیں ۔کوئی ملک ایجنسیوں کے بغیر نہیں چل سکتا ایجنسیاں ملکوں کے کان اور آنکھیں ہوتی ہیں وہ اپنا کام جاری رکھیں ۔ آپ لگے ہوئے ہیں کہ پی ٹی آئی کیا کررہی ہے ، اختر مینگل کیا کررہا ہے یہ آپ کا کام نہیں ہے ۔ 7سے 8ہماری باصلاحیت ایجنسیاں ہیں، فوج ، آئی ایس آئی ، ایم آئی آئین کے فریم میں اپنا کام کرے تو یہ ہماری سر آنکھوں پر ۔ اور میں نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ فیلڈ مارشل صاحب اور ان کی ایجنسیاں آئینی فریم میں کام کرے اور اپنے حلف کی پاسداری کرے تو میں ان کا ہاتھ چھومونگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ گزشتہ دنوں چمن کے جلسہ عام میںمیں نے بلوچ بھائیوں کو مخاطب کرکے کہا کہ دن دہاڑے ہمارے سڑکوں پر لوگوں کو مار دیا جاتا ہے ، غریب لوگوں کی کرورڑوں روپے کی گاڑیاں جلا دی جاتی ہیں ، ہرنائی ودیگر علاقوں میں پہاڑوں کے اوپر ایف سی کی چیک پوسٹیں ہیں ، کیمرے ، ڈرون کیمرے ہیں اور دن دہاڑے ڈرائیور کو اتار کر گاڑیوں کو آگ لگادی جاتی ہے اور یہ سب کچھ بی ایل اے کے نام پر ہورہا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا لیکن جو کررہا ہے وہ آپ کے نام سے کررہا ہے اور آپ کے علاقے میں آپ کے گھر کے سامنے کررہا ہے۔ اوراس پر لوگوں نے ایک مسئلہ بنادیا ہے ۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ غریب آدمی ڈپٹی کمشنر کی پاس اس کے دفتر جائے گا، آئی جی کے پاس جائے گا جس کے خلاف وہ ایف آئی آر درج کرنا چاہتا ہے وہ وہاں بیٹھ کر چائے پی رہے ہوتے ہیں۔جب ریاست، حکومت، پولیس ہماری ذمہ داری نہیں لیتی تو پھر ہم کیا کرینگے۔ جب حکومت ، فوج ، ایف سی ، پولیس کوئی بھی غرض نہ رکھیں تو میں نے اپنی پارٹی کانگرس میں بھی کہا تھا کہ سیاسی لوگ اپنے وطن کی مفادات کے بچائو اور ہماری جدوجہد کے لیے پشتون اپنے گھر کا ایک بچہ ہمارے حوالے کردے ۔ اور یہاں لوگوں نے باتیں شروع کردی کہ محمود لشکر بنا رہا ہے۔ آپ گڑ بڑ نہ کریں ہم معلومات رکھنے والے لوگ ہیں ۔ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، کلرک اس میں ہمارے پشتون ، بلوچ، براہوئی بچے ہیں اور جو کچھ آپ کہتے ہیں ہمیں بھی پتہ چلتا ہے ۔ انتہائی اہم میٹنگ میں آپ نے لوگوں کو کہا ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں قبائلی لشکر بنائیں ۔ تو پھر یہ اتنی بڑی آرمی ، ایف سی ، فوج ، کس چیز کی لشکر بنا رہے ہیں کیا خانہ جنگی کی طرف جارہے ہیں؟ سسٹم میں ضرور نقائص ہوں گے لیکن انگریز نے جو سسٹم دیاپولیس کا بہت حد تک بہترہے۔اس میں باصلاحیت لوگ بھی ہیں ۔ لیکن اگر آپ اسے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرینگے تو یہ آپ کی ، ہماری اور ملک کی بربادی ہوں گی ۔ہم ایک بات واضح کرنا چاہتے ہیں ہم کم ،کمزور لوگ ہی صحیح لیکن کسی بھی ادارے کو ہمارے ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے نہیں دینگے اور ہم نے ان ہاتھوں کو پکڑنا ہے۔ وکلاء ، ججز صاحبان نے ہماری استدعا ہے کہ یہ وقت چپ رہنے کا نہیں ہے ۔ یہ کیسے چلے گا کہ آپ کے پیچھے آدمی بیٹھا ہوگا کہ یہ فیصلہ فلاں کے حق میں کردے۔ ابھی جوڈیشری کے جس انداز میں پر کاٹے گئے ان حالات میں چپ رہنا گناہ ہے۔ لوگ ناراض ہوتے ہیں کہ فلاں نے ایف آئی آ ر کیا اور فلاں نے گورنر صاحب بیٹھے ہوئے تھے کچھ پڑھا ۔ ان سے گلہ نہ کریں انہوں نے ایجنسیوں سے مراعات لی ہوئی ہیں وہ ضرور پڑھے گا۔ اگر کسی نے ایف آئی آر کی ہے تو اُسے کہا گیا ہے ۔ میری معلومات یہ ہے کہ جس آدمی نے میرے خلاف ایف آئی آر کیا ہے وہ شمالی علاقہ جات کی سیر سپاٹا کررہا ہے ۔ آج بھی وہ وہاں ہیں۔ بس ٹھیک ہے کہ آپ کو حکم دیا گیا اور آپ نے انکارنہیں کیا اور ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ میں جلسہ میں بیٹھا ہوا تھا ۔ بس ٹھیک ہے آپ اپنا گزارہ کریں اور ہم اپنا ۔ لیکن یہ جو ایجنسیوں کے دوست ہیں ہم انہیں کہتے ہیں کہ ہمارا راستہ بند نہ کریں ہم آپ کے خلاف کچھ نہیں کرینگے لیکن اپنے وطن ، سیاسی حقوق، اصول کے دفاع کے لیے ، آئین کی بالادستی کے لیے ہم آگے بڑھیں گے ہمارے راستے میں نہ آئیں۔ باقی آپ ایف آئی آر کرتے رہیں ،گالیاں دیتے رہے کوئی مسئلہ نہیں جب قافلہ گزرتا ہے تو کچھ آوازیں آتی رہتی ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر کسی کو غلط کمنٹس نہ کریں ، مخالفین کو طعنے نہ دیں یہ غلط روایات ہیں جو کہتا ہے انہیں کہنے دیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اس ملک کی تحریک ہے ، ہماری غلطیوں کی انگشت نمائی کریں، آپ جس پارٹی میں ہیں ہمیں مشورہ دیں ہم ٹھیک کرلیں گے لیکن خاموشی خطرناک ہے ۔
محمود خان اچکزئی نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ
آسیا یک پیکر آب و گل است
ملت افغان در آن پیکر دل است
از فساد او فساد آسیا
از کشاد او کشاد آسیا
یعنی اگر ایشیاء ایک جسم ہو تو ملت افغان ایک دل ہے اگر یہ دل مشکل میں تھا تو تمام ایشاء مشکل میں ہوگا اگر خوش تھا تو سارا ایشاء خوش ہوگا۔ لیکن آج یہ دل مشکل میں ہے تو سارے ایشاء میں زلزلے آرہے ہیں۔ اگر افغانستان پاکستان سے گڑ بڑ کرنا چاہتا تو پاکستان تین موقعوں پر مشکل میں تھا ۔ 1965میں انڈیا کے ساتھ جنگ کے دوران افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ نے ایوب خان کو کہا کہ ہمارے ہندوستان سے تعلقات اپنی جگہ آپ اپنی لڑائی لڑیں ہم پیچھے سے چھرا نہیں گھونپیں گے ۔ دوسری مرتبہ جب پاکستان ٹوٹ رہاتھا روس اور انڈیا نے فیصلہ کیا تب بھی افغانوں نے اطلاع بھیجی کہ ہماری طرف سے مطمئن رہیں۔ پھر آپ کیوں افغانستان کو تنگ کررہے ہیں ۔ بسم اللہ کریں اپنے ہمسایوں کی ایک اجلاس بُلائیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی موجودگی میں اور مل بیٹھ کر بات کریں ۔ لیکن یہ جو پھر سے لشکر تیار ہورہے ہیں اور افغانستان کی جانب ، ٹھیک ہے آپ کابل کو تین دن میں قبضہ کرلیں گے لیکن پھر وہاں سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگا۔ ہم یہ خطرہ کے گھنٹی بجارہے ہیں ۔ افغانستان میں برٹش یونائیٹڈانڈیا، روسی، امریکن وہاں گھسیں ہیں اور آپ کو بھی شوق ہے تو آپ بھی گھسیں ۔ اگر خدانخواستہ افغانستان تقسیم ہوتا ہے تو سارے خطے میں زلزلہ آئیگا اور تقسیم ہوگااس لیئے نہ چھیڑیںان باتوں کو اور ان بلائوں کو دور رکھیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان جیسے بھی تھا آپ نے اُسے وزیر اعظم بنایا پھر اُس کو توڑنے کی کوشش کی اور وہ بہادر آدمی نہیں ٹوٹا ۔ اب یہ ملاقاتوں پر پابندیاں، بہنوں، بچوں ، سیاسی لوگوں کو ملاقات کرنے نہ دینا یہ اس کا علاج نہیں۔ دنیا میں بدترین مجرم سے بھی ملاقات پر پابندی نہیں لیکن یہاں ملک کے سب سے پاپولر لیڈر پر ملاقات پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ بہنوں ، سیاسی لوگوں کو ملاقاتوں کی اجازت دیں ۔ آپ کے درمیان اگر کوئی بات نہیں بن رہی ہم بات کرلیں گے۔ لیکن یہ مار دھاڑ سے کچھ نہیں ہوگا۔ آپ نے ذوالفقار علی بھٹو کو مار دیا جیل میں اس سے ملاقات کے لیے کوئی نہیں تھا لیکن آپ نے غلطی کی اسے مار کر شہید کردیا تو آج قلندر سے بڑا مزار بھٹو کا ہے پھر اس کے بیٹوں ، بیٹی کو خون میں لت پت کردیا ۔ اگریہ سب کچھ آپ نے عمران خان کے ساتھ کرنا ہے تو کرلیں پھر آپ کو بھی پتہ چل جائے گا۔ پشین سے بھی چھوٹے بچے گئے تھے کہ عمران خان کو رہا کرو، تحریک انصاف زندہ آباد، جمہوریت زندہ آباداور آپ نے سروں پر گولیاں مار کر ان کارکنوں کو شہید کردیا۔ دنیا اپنے بچوں کے جذبہ حریت کو ابھارتی ہے اور آپ اُس کوٹتے ہیں ۔ عمران خان کا مسئلہ آسان ہے وہ اس وقت پاکستان کا سب سے پاپولر لیڈر ہے ۔ آج آپ الیکشن کرائیں آپ کی غلطیوں کی وجہ سے وہ سارا پاکستان سویپ کرجائے گا۔ کوئی شرافت کا راستہ اختیار کرلیں ، ضمانت دے دیں اور اگر نہیں دینگے تو آپ اپنی بربادی کا راستہ اختیار کررہے ہیں۔ دنیا بھر میں جب کوئی پولیس کا سپاہی نظر آتا ہے تو لوگ خاموش ہوجاتے ہیں کہ اگر ہم جھگڑا کرلیں تو یہ پولیس والا ہمیں روکے گا۔ لیکن آپ نے یہاں اس ملک میں یہ حالت کردی ہے کہ جب وردی پوش آدمی نظر آتا ہے لوگ گھروں میں گھس جاتے ہیں کہ تلاشی کے دوران میرے جیب سے کچھ نکل آئے گا۔ تھوڑی بہت عزت پاکستان آرمی کی رہی تھی اس کو مت خراب کریں۔وردی میں بدمعاشوں کے ساتھ بیٹھ کر سارے آرمی کی عزت دائو پر لگارہے ہیں ۔اپنا کام کریں آئینی فریم میں رہے ہم آپ کو سلوٹ کرینگے ، لیکن آپ ان گناہوں میں شامل ہوں گے جنہیں آپ سپورٹ کرتے ہیں یہ انتہائی مکروہ قسم کے لوگ ہیں ۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بگٹی صاحب وزیر اعلیٰ ہیں کیا اُنہیں پتہ نہیں کے نوکریاں فروخت ہورہی ہیں ، روپے اُڑائے جارہے ہیں ، نوکریاں بک رہی ہیں ۔ ایک ایک ڈپٹی کمشنر کو سواارب روپے دیئے گئے کہ فوجی آفیسر صاحب ہدایت دینگے پھر فلاں فلاں کو دیں ۔ فوجی بھائیوں! مہربانی کریں وہ ایسے لوگ ہیں جتنے روپے وہ کھاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جتنا ہم کھاتے ہیں اتنا ہی اُن کو دیتے ہیں۔ وہ آپ کی کمزوریوں کو چھپارہے ہیں کہ ہم سب اس میں شریک ہیں ۔پاکستان ایسا نہیں کہ دھوتی گائے ہے ہر ایک اس کا دودھ دھورہا ہے ۔ آئیں پاکستان کو بچائیں ، یہ بہترین ملک ہے بہترین وسائل ہیں ،محنتی لوگ ہیں ۔ توبہ کرلیں ہم بھی توبہ کرتے ہیں ۔ جمہوری پاکستان کی تشکیل کرتے ہیں ، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو ، پشتون ، بلوچ ، سندھی ،سرائیکی ، پنجابی اپنے اپنے وطن کے مالک ہو۔
محمودخان اچکزئی نے کہا کہ پچاس لاکھ پاکستانی دوہری شہریت رکھتے ہیں جن میں جرنیل ، غریب ،امیر سب شامل ہیں، جرمنی ، اٹلی، کینیڈا، آسٹریلیا، ترکی وغیرہ کے ساتھ پاکستانی دوہری شہریت رکھتے ہیں تو کیاآسمان گریگا کہ افغانستان کی شہریت بھی رکھ لیں ۔ جو لوگ میرے خلاف لگے ہوئے میں جانتا ہوں ان سب کے پاس تذکرے /دوہری شہریت رکھتے ہیں ۔ دنیا میں اس کے اپنے قوانین ہیں اگر آپ دوہری شہریت رکھتے ہیں تو یہ کوئی بُری بات نہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *