کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پیٹرول کا شدید ترین بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث پورے صوبے میں نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
شہر بھر میں کہیں بھی پیٹرول دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہونے لگا ہے۔
کوئٹہ کے شہری صبح سویرے ہی پیٹرول کی تلاش میں گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور پیٹرول پمپس کے باہر گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی کلومیٹر لمبی قطاریں لگ گئیں، لیکن گھنٹوں انتظار کے باوجود شہریوں کی اکثریت کو پیٹرول نہ مل سکا اور وہ مایوس لوٹ گئے۔
پیٹرول کی اس شدید قلت کے باعث اسکول جانے والے بچوں کی بڑی تعداد وقت پر اسکول پہنچنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں بچوں کی حاضری نہ ہونے کے برابر دیکھی گئی۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ان کی ٹیمیں زمینی حقائق کا جائزہ لینے اور بحران حل کرنے کے بجائے صرف فوٹو سیشن اور کاغذی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی کے تمام دعوے یکسر جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔
پیٹرولیم بحران کی وجہ سے رکشہ ڈرائیور اور دیہاڑی دار طبقہ شدید معاشی پریشانی کا شکار ہے اور شہر میں عوامی سفری سہولیات ناپید ہو چکی ہیں۔
کوئٹہ کے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عام عوام نے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری ازخود نوٹس لیں اور پیٹرول پمپ مالکان کی من مانیوں اور انتظامی غفلت کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے صوبے میں پیٹرول کی فراہمی کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کریں۔
