کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے سب سے بڑے طبی مرکز سول ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاجی دھرنا آج اتوار کو دسویں روز بھی سرگرمی کے ساتھ جاری رہا، جس کے باعث ہسپتال کے مختلف شعبوں میں طبی خدمات بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی کال پر شروع ہونے والے اس احتجاج کے دوران ڈاکٹرز اپنے جائز مطالبات کے حق میں ہسپتال کے احاطے میں مسلسل دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور حکومت سے اپنے مسائل کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاجی ڈاکٹرز نے دوٹوک مقف اختیار کیا ہے کہ جب تک ان کے تمام مروجہ مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ان کا یہ احتجاجی دھرنا اسی طرح بلا تعطل جاری رہے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ابتر حالات میں طبی عملے کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ فوری مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہو چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، دسویں روز بھی دھرنا جاری رہنے کے باعث سول ہسپتال کی او پی ڈی (OPD)، مختلف وارڈز اور دیگر اہم طبی شعبوں میں معمول کی تمام سرگرمیاں اور آپریشنز شدید متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ہسپتال آنے والے غریب مریضوں اور ان کے لواحقین کو سخت ترین مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
احتجاجی ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے بنیادی مسائل میں دیرینہ سروس اسٹرکچر کی منظوری، ہسپتالوں میں ضروری طبی سہولیات کی شدید کمی، ڈیوٹی پر موجود عملے کی فول پروف سیکیورٹی اور دیگر اہم انتظامی معاملات شامل ہیں۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ انتظامیہ اور حکومت کو بارہا توجہ دلانے کے باوجود ان کے جائز مسائل کو یکسر نظر انداز کیا گیا، جس کی وجہ سے وہ مجبورا اس سخت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
دوسری جانب سول ہسپتال میں صوبے کے دور دراز اور پسماندہ اضلاع سے روزانہ آنے والے سینکڑوں غریب مریض اس دھرنے اور او پی ڈی کی بندش کے باعث رول کر رہ گئے ہیں اور انہیں علاج معالجے کی فراہمی میں شدید تاخیر اور سستی نجی ہسپتالوں کے مہنگے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔
