کوئٹہ(خ ن )بلوچستان حکومت نے صوبے میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے متعلق پیدا ہونے والی عارضی مشکلات کے جلد خاتمے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سے دو روز کے اندر پٹرول کی قلت اور سپلائی میں تعطل کا مسئلہ مکمل طور پر حل کر لیا جائے گا۔
حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متعدد اقدامات شروع کر دیے ہیں جبکہ وفاقی وزارتِ پیٹرولیم کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ صوبے میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
معاونِ خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے عوام کو درپیش مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ذاتی طور پر اس صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔
حکومت نے وفاقی وزارتِ پیٹرولیم کو بھی موجودہ صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے سپلائی چین کو معمول پر لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بابر یوسفزئی نے مزید کہا کہ حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ ایک سے دو روز کے اندر صوبے بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بعض عناصر کی جانب سے مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کی اطلاعات موصول ہونے کی صورت میں متعلقہ ادارے سخت کارروائی کریں گے اور کسی کو بھی عوامی مشکلات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں، جلد ہی پٹرول کی فراہمی معمول پر آ جائے گی جس سے شہریوں اور کاروباری طبقے کو ریلیف ملے گا۔
