کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)محرم الحرام کے مقدس ایام میں جہاں شہر بھر میں یومِ عاشور اور دیگر مجالس کے موقع پر نذر و نیاز اور سبیلوں کے اہتمام کی تیاریاں جاری ہیں، وہیں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کیٹرنگ اور ٹینٹ سروسز سے وابستہ افراد کی جانب سے دیگوں اور دیگر خدمات کے نرخوں میں نمایاں اضافے نے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال محرم الحرام کے دوران نذر و نیاز کے اہتمام کے لیے بڑی تعداد میں لوگ بریانی، قورمہ اور حلیم کی دیگیں تیار کرواتے ہیں، لیکن رواں سال بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث یہ مذہبی اور فلاحی سرگرمیاں بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔
کوئٹہ میں مختلف ٹینٹ اور کیٹرنگ سروسز مالکان نے محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی دیگوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہر میں 10 بائی 10 سائز کی بریانی کی ایک دیگ 19 ہزار روپے میں تیار کی جا رہی ہے، جبکہ اسی سائز کی قورمہ کی دیگ 15 ہزار روپے میں فراہم کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ حلیم کی 10 بائی 10 دیگ کے لیے بھی تقریبا 20 ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث نذر و نیاز کا اہتمام کرنے والے افراد اضافی مالی بوجھ کا شکار ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور مرغی کا گوشت تقریبا ساڑھے چار سو روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے، اس کے باوجود کیٹرنگ سروسز کی جانب سے دیگوں کے نرخوں میں اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
ان کے مطابق خام مال کی بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین کو اس کا فائدہ منتقل نہیں کیا جا رہا۔ دوسری جانب ٹینٹ اور کیٹرنگ سروسز کے مالکان کا مقف ہے کہ گیس، مصالحہ جات، خوردنی تیل، چاول، سبزیوں، مزدوری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث ان کے لیے پرانے نرخوں پر خدمات فراہم کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ گیس کی بلند قیمتیں اور دیگر انتظامی اخراجات بڑھنے کی وجہ سے انہیں قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے، بصورت دیگر کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو جاتا۔
محرم الحرام کے دوران کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں امام بارگاہوں، مساجد، جلوسوں اور گھروں میں نذر و نیاز کا وسیع انتظام کیا جاتا ہے، جہاں ہزاروں افراد کے لیے کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایسے میں دیگوں کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور پرائس کنٹرول کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ کیٹرنگ اور ٹینٹ سروسز کی جانب سے وصول کیے جانے والے نرخوں کا جائزہ لیا جائے اور اگر قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کیا گیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ محرم الحرام جیسے مقدس مہینے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تاکہ لوگ بغیر کسی اضافی مالی دبا کے نذر و نیاز اور فلاحی سرگرمیوں کا اہتمام کر سکیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں پہلے ہی عام آدمی کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور اگر مذہبی اور سماجی خدمات سے وابستہ شعبوں میں بھی من مانی قیمتیں وصول کی جاتی رہیں تو اس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، لہذا انتظامیہ فوری طور پر صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
