بین الصوبائی اور بین الاضلاعی کوچ سروسز نے کرایوں میں کمی نہ کی، مسافر مہنگے سفر پر مجبور، شہریوں کا فوری مداخلت کا مطالبہ
کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے پانچ روز گزر جانے کے باوجود صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں تاحال کوئی کمی نہیں کی گئی، جس کے باعث مسافروں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔
شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے نئے کرایوں کا تعین کیا جائے تاکہ عوام کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات پہنچ سکیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے چند روز قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 77 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 64 روپے فی لیٹر کمی کی گئی۔
اس فیصلے کے بعد عوام کو امید تھی کہ دیگر شعبوں کی طرح ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی واضح کمی آئے گی، تاہم پانچ دن گزرنے کے باوجود بلوچستان کے مختلف روٹس پر چلنے والی کوچ سروسز اور مقامی ٹرانسپورٹ نے اپنے کرایوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے اسلام آباد، راولپنڈی، ایبٹ آباد، لاہور، ملتان اور سرگودھا جانے والی مختلف کوچ سروسز بدستور پرانے نرخوں پر کرایے وصول کر رہی ہیں۔ اسی طرح کوئٹہ سے کراچی، سکھر اور حیدرآباد جانے والی بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے بھی مسافروں کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا اور کرایوں میں کمی سے گریز کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بین الاضلاعی روٹس پر چلنے والی گاڑیوں، ویگنوں اور بسوں کے کرایوں میں بھی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ کوئٹہ سے مستونگ، قلعہ سیف اللہ، پشین، لورالائی، زیارت، دکی اور دیگر علاقوں کے لیے سفر کرنے والے مسافروں سے بھی وہی سابقہ کرایے وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر عوامی حلقے شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوتے ہیں تو ٹرانسپورٹ مالکان فوری طور پر کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، لیکن جب حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جاتی ہے تو اس کا فائدہ عام شہریوں تک منتقل نہیں کیا جاتا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے اور اس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
کوئٹہ کے شہریوں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں نے وزیراعلی بلوچستان، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ مالکان کے ساتھ فوری اجلاس منعقد کر کے کرایوں کا ازسرنو تعین کیا جائے اور سرکاری نرخ نامے جاری کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے پر فوری توجہ نہیں دیتے تو مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے شہریوں کے لیے سفر کرنا مزید دشوار ہو جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ناجائز منافع خوری اور من مانی کرایہ وصولی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو عملی طور پر کچھ ریلیف مل سکے۔
