غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے فوری ،نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں’ پیاف
موجودہ معاشی ضروریات ،بڑی آبادی کے تناظر میں سرمایہ کاری کا موجودہحجم ناکافی ہے' بانی میاں شفقت
لاہور(بزنس نیوز)پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف پیاف انجینئر سہیل لاشاری ،چیئرمین سید محمود غزنوی،سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی،وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں مسلسل اتار چڑھا ئواور رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں گزشتہ سال کی نسبت 20 فیصد کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے فوری اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کیلئے محض اعدادوشمار میں بہتری کافی نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے سازگار ماحول، پالیسیوں کے تسلسل اور کاروباری لاگت میں کمی کو یقینی بنانا ہوگا۔پیاف کے رہنمائوںنے کہا کہ سالانہ بنیادوں پر غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں ابھی بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔موجودہ معاشی ضروریات اور ملک کی بڑی آبادی کے تناظر میں موجودہ حجم ناکافی ہے۔ پاکستان کو روزگار، برآمدات اور صنعتی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کیلئے کہیں زیادہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری درکار ہے۔
پیاف رہنمائوں نے کہا کہ بجلی اور مالیاتی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے تاہم سرمایہ کاری کا حجم اور رفتار اس سطح تک نہیں پہنچ رہی جس کی ملکی معیشت کو ضرورت ہے۔ توانائی کے شعبے میں مہنگی بجلی، صنعتی شعبے میں پیداواری لاگت، بلند شرح سود، ٹیکس نظام کی پیچیدگی، پالیسیوں میں غیر یقینی اور ریگولیٹری رکاوٹیں سرمایہ کاروں کیلئے بڑے چیلنجز ہیں۔انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ون ونڈو آپریشن کو حقیقی معنوں میں فعال، اجازت ناموں اور این او سیز کے عمل کو مختصر، ٹیکس اور ریگولیٹری نظام کو آسان، توانائی کی قیمتوں کو مسابقتی اور سرمایہ کاروں کیلئے پالیسیوں کے تسلسل کی ضمانت دی جائے۔ اس کے علاوہ خصوصی اقتصادی زونز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، صنعتی زمین کے مسائل کے حل اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے تیز رفتار تنازعات کے حل کا موثر نظام قائم کیا جائے۔