کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 36 قلات میں مبینہ انتخابی دھاندلی سے متعلق دائر درخواست پر اہم سماعت ہوئی، جہاں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے آئندہ حتمی دلائل کے لیے سماعت 11 مئی تک ملتوی کر دی۔
تفصیلات کے مطابق پی بی 36 قلات میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات پر درخواست گزار میر سعید خان لانگو کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ممبر سندھ کی سربراہی میں قائم تین رکنی الیکشن کمیشن بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار میر سعید خان لانگو اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما Ziaullah Langau کے وکلا کمیشن کے روبرو پیش ہوئے یہ سماعت اسلام آباد الیکشن کمیشن آف اسلام آباد میں ہوئی دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے سینئر کونسل مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے، لہذا کیس کی تیاری اور مثر دلائل کے لیے مزید وقت دیا جائے۔
اس پر بینچ نے استفسار کیا کہ چونکہ معاملہ انتخابی پٹیشن سے متعلق ہے، اس لیے قانون کے مطابق 60 روز کے اندر فیصلہ کرنا ضروری ہے،
سماعت کے دوران ممبر خیبرپختونخوا نے ریمارکس دیے کہ انتخابی پٹیشنز کے فیصلے کے لیے مقررہ قانونی مدت 11 مئی کو مکمل ہو رہی ہے، اس لیے مزید غیر ضروری تاخیر ممکن نہیں۔
انہوں نے وکلا کو ہدایت کی کہ مقررہ تاریخ پر حتمی دلائل مکمل کیے جائیں تاکہ کیس کا فیصلہ بروقت کیا جا سکے بینچ نے سماعت کے دوران درخواست کے بنیادی نکات پر بھی سوالات اٹھائے۔
ممبر کے پی نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے مطابق متعلقہ حلقے میں ری پول سرے سے ہوا ہی نہیں، جس پر قانونی اور انتظامی صورتحال واضح کرنا ضروری ہیدوسری جانب ضیا اللہ لانگو کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے مقف اختیار کیا کہ درخواست گزار پہلے ہی الیکشن ٹربیونل سے رجوع کر چکا ہے، لہذا الیکشن کمیشن میں زیر سماعت درخواست اپنی قانونی افادیت کھو چکی ہے اور اب یہ درخواست غیر مثر تصور کی جانی چاہیے فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت اور حتمی دلائل کے لیے 11 مئی کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
ذرائع کے مطابق آئندہ سماعت اس کیس کے لیے نہایت اہم تصور کی جا رہی ہے کیونکہ مقررہ قانونی مدت بھی اسی روز مکمل ہو رہی ہے، جس کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کمیشن اسی تاریخ پر فیصلہ محفوظ یا سنانے کا عندیہ دے سکتا ہے
سیاسی حلقوں میں پی بی 36 قلات کیس کو بلوچستان کی اہم انتخابی قانونی جنگ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں فیصلے کے ممکنہ اثرات نہ صرف حلقے کی نمائندگی بلکہ آئندہ انتخابی تنازعات کے لیے بھی مثال بن سکتے ہیں۔
