کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، خاتون خودکش بمبار کی گرفتاری سے اسلام آباد بڑی تباہی سے بچ گیادہشت گرد تنظیمیں خواتین کو بلیک میل کر کے حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں، وزیراعلی سرفراز بگٹی کا انکشاف کزن نے بلیک میل کر کے دہشت گردی کی راہ پر ڈالا، انکار پر والد کے قتل کی دھمکی دی،گرفتار خاتون کا اعتراف ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں اور سیکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی اہم اور بروقت کارروائی کے دوران ایک خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر کے ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کو ایک ہولناک تباہی سے بچا لیا ہے۔
مذکورہ خاتون کا نشانہ اسلام آباد تھا، جسے دہشت گردوں نے بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملے کے لیے تیار کیا تھا۔ یہ تنظیمیں خواتین کو پھنسانے کے لیے ہنی ٹریپ اور بلیک میلنگ جیسے غیر انسانی طریقے استعمال کر رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اسی خاتون کے غائب ہونے کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، تاہم اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اسے ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے اغوا یا بلیک میل کیا گیا تھا۔
وزیراعلی نے انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی نے ایک بڑے المیے کو ٹال دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ گرفتار خاتون خودکش بمبار کی حالتِ زار پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے خواتین کو ‘ہنی ٹریپ’ اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گرفتار ہونے والی بچی کو اس حد تک ہراساں کیا گیا تھا کہ اسے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے خودکش حملہ نہ کیا تو اس کے والد کو قتل کر دیا جائے گا اس بچی کی دردناک کہانی سن کر وہ شدید افسردہ ہیں۔ان گھنانی کارروائیوں کا بلوچ قوم یا معزز بلوچ روایات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ گروہ بین الاقوامی آقاں کو خوش کرنے اور ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے اپنی ہی بچیوں کا استحصال کر رہے ہیں، جو کہ انتہائی شرمناک فعل ہے۔ریاست اپنی بچیوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی تاکہ مستقبل میں کسی اور معصوم کو اس طرح بلیک میل نہ کیا جا سکے۔گررفتار ہونے والی خاتون نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے کہنے پر اسلام آباد میں خودکش حملے کے مشن پر تھی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے اس ہولناک منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ وزیراعلی نے واضح کیا کہ خواتین کو ڈھال بنانا یا انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی بھی معاشرے اور بالخصوص بلوچ روایات میں قابلِ قبول نہیں۔
خودکش حملے کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ فورسز کی بروقت کارروائی اور مستعدی کی بدولت پاکستان ایک بڑے المیے سے محفوظ رہا ہے، بصورتِ دیگر دہشت گرد وفاقی دارالحکومت میں بڑی تباہی پھیلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ وزیراعلی نے فورسز کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہتے ہوئے اسے ملکی دفاع کے لیے ناگزیر قرار دیا۔وزیراعلی نے عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کے اس گمراہ کن پروپیگنڈے اور بزدلانہ ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں جو بلوچ شناخت اور قوم پرستی کا نام لے کر معصوم لوگوں اور بچیوں کو اپنا آلہ کار بناتے ہیں ان گروہوں کا مقصد صرف اور صرف بدامنی پھیلانا ہے، جس کا بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں ریاست ان دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔
اس موقع پر گرفتار ہونے والی خاتون نے دہشت گرد تنظیموں کے ہتھکنڈوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے اپنے کزن نے اسے تنظیم کے لیے کام کرنے پر مجبور کیا اور انکار کی صورت میں اس کے والد کو قتل کرنے کی سنگین دھمکی دی۔ خاتون کے مطابق، اسے ابتدا میں دھوکے میں رکھا گیا اور وہ صرف موبائل کارڈز اور کھانا پہنچانے جیسے کام کرتی رہی، لیکن بعد میں اسے احساس ہوا کہ یہ تمام سرگرمیاں ایک کالعدم تنظیم کے لیے انجام دی جا رہی ہیں۔
خاتون نے مزید انکشاف کیا کہ اسے ذہنی طور پر خودکش حملے کے لیے تیار(برین واش)کیا گیا تھا تاکہ وہ اسلام آباد میں کارروائی کر سکے۔
تاہم، اس نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حراست میں لینے کے بعد اس کے ساتھ انتہائی اچھا اور انسانی ہمدردی والا برتا کیا گیا۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے انٹیلی جنس اداروں کی اس کامیاب اور پیشہ ورانہ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت اقدام کے باعث نہ صرف ایک معصوم بچی کی زندگی بچائی گئی بلکہ ملک کو بھی ایک بہت بڑے جانی و مالی نقصان سے محفوظ رکھا گیا۔
