واشنگٹن (رائٹرز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت تقریباً 8 ہزار اعلیٰ تنخواہوں والے وفاقی ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنا آسان ہو جائے گا۔ یہ اقدام وفاقی بیوروکریسی میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے منصوبے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور آفس آف پرسنل مینجمنٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ان سینئر سرکاری ملازمین سے ملازمت کا تحفظ واپس لے لیا جائے گا جو سالانہ تقریباً دو لاکھ ڈالر تک تنخواہ حاصل کرتے ہیں اور جنہیں حکومتی پالیسی سازی پر اثرانداز ہونے والا تصور کیا جاتا ہے۔
آفس آف پرسنل مینجمنٹ کے ڈائریکٹر اسکاٹ کوپور نے کہا کہ انتظامیہ کو ایسے ملازمین کی ضرورت ہے جو حکومت کی پالیسیوں اور قانونی احکامات پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق اگر کسی ملازم کے ذاتی سیاسی نظریات انتظامیہ کی پالیسیوں پر عمل درآمد میں رکاوٹ بنتے ہیں تو اس حکم نامے کے تحت متعلقہ ادارے ایسے افراد کو نسبتاً آسانی سے ملازمت سے فارغ کر سکیں گے۔
یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے سیاسی ایجنڈے میں رکاوٹ بننے والے کیریئر سرکاری ملازمین کے خلاف سخت مؤقف پر قائم ہیں۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ان کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بعض وفاقی اہلکاروں نے ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔
اگرچہ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس پالیسی کا دائرہ 50 ہزار ملازمین تک بڑھایا جا سکتا تھا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال صرف 8 ہزار افراد اس سے متاثر ہوں گے اور اس میں فوری طور پر مزید توسیع کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔
دوسری جانب وفاقی ملازمین کی یونینوں اور ان کے حامیوں نے جنوری میں اس پالیسی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ تاہم وفاقی ججوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پالیسی کو حتمی شکل دیے جانے تک مقدمے کی کارروائی عارضی طور پر روک رکھی ہے۔
